Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
175 - 180
ردالمحتارمیں ہے:
قال فی البحر معنی کون الشرط یقتضیہ العقد ان یجب بالعقد من غیر شرط و معنی کونہ ملائما ان یؤکد موجب العقد کذا فی الذخیرۃ ۱؎۔
بحر میں کہاکہ شرط کے مقتضائے عقد ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہوکہ شرط لگائے بغیر ہی عقد کے ساتھ واجب ہواور اس کے ملائم ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ موجب عقد کی تاکید کرے ، یوں ہی ذخیرہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۲۱)
تنویر البصار ودرمختاروردالمحتارمیں ہےـ
مایصح ولایبطل باالشرط الفاسد و یلغواالشرط القرض والھبۃ والصدقۃ ۲؎ الخ۔
وہ جو صحیح ہوتی ہے اور شرط فاسد کے ساتھ باطل نہیں ہوتی بلکہ خود شرط لغو ہوجاتی ہے وہ قرض، ہبہ اور صدقہ ہے۔ الخ۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار   باب السلم       داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۲۸)

( درمختار شرح تنویر الابصار    باب المتفرقات    مطبع مجتبائی دہلی        ۲/)
عالمگیری میں ہے:
الھبہ والصدقۃ والکتابۃ بشرط متعارف وغیر متعارف یصح ویبطل الشرط ۳؎۔
ہبہ، صدقہ اور کتابت شرط متعارف اور غیر متعارف کے ساتھ صحیح ہوجاتے ہیں اور شرط باطل ہوجاتی ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبہ الباب الثامن    نورانی کتب خانہ پشاور        ۴/ ۳۹۶)
موھوب لہ کا اس ہبہ نامہ کو قبول کرنا اس شرط کا پابند نہ کرے گا ورنہ شرط باطل نہ ہوئی بلکہ موثر ٹھہری حالانکہ باطل ولغو تھی،
شرح اسبیجابی وفتاوٰی تاتارخانیہ وفتاوٰی عالمگیرہ میں ہے:
رجل وھب لرجل ھبۃ اوتصدق علیہ بصدقۃ علی ان یرد علی ثلثہا اوربعہا اوبعضہا فالھبۃ جائزۃ ولایرد علیہ ولایعوضہ بشیئ ۴؎۔
کسی شخص نے دوسرے کو کوئی چیز ہبہ کی یا صدقہ دیا اس شرط پرکہ وہ اس کا تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ یا بعض حصہ اس کو لوٹا دے گا تو ہبہ جائز ہے اور موھوب لہ واہب کو واپس نہیں لوٹا ئے گا اور نہ ہی ا سکے عوض کوئی شے دے گا۔ (ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الہبہ الباب الثامن    نورانی کتب خانہ پشاور        ۴/ ۳۹۶)
ثانیا اس سب سے قطع نظر ہو تو اس نے قبول ہبہ نامہ سے کیا شرط قبول کی ہے وہ مطالبہ کہ جائداد پر برآمد ہواپنے ذمہ لینا اورہم سب ثابت کرآئے کہ ایسی صورت میں جائداد پرکوئی مطالبہ برآمد ہو ہی نہیں سکتا تو اس نے ایک امر محال کو قبول کیا قبول نامہ سے جدا اگر بطور خود وہ ایسی مہمل و باطل بات کو قبول کرتا تو باطل ہی ہوتاکہ باطل کسی کے قبول کئے  سے حق نہیں ہوجاتا تو صورت مستفسرہ میں اس کی ذات وجائداد دونوں ایسے مطالبہ باطلہ سے قطعا بری ہیں کہ بلکہ اگر فرض کرلیں کہ اس نے (نہ وہ مطالبہ باطلہ کہ جائداد پر برآمد ہو بلکہ) خود وہ مطالبہ کہ واہب پر نکلے(نہ جائداد موہوبہ کے ذمہ باطلہ پر بلکہ )خود اپنے ذمہ پر (نہ قبول ہبہ نامہ میں بلکہ)خود  مستقل طور پر قبول کیا ہو تا جب بھی صورت مذکورہ میں وہ کفالت محض باطل وبے اثر رہتی، ہم اگر چہ ایسے مطالبہ کی کفالت جائز مانیں حالانکہ یہ مطالبہ اس مستاجر سے بھی بارہا محض باطل طورپر ہوتا ہے اس لئے کہ دیہات کا ٹھیکہ جس طرح رائج ہےکہ زمین اجارہ مزارعان میں رہتی ہے اور توفیر ٹھیکہ میں دی جاتی ہے قطعہ باطل محض ہے جس کے بطلان کا روشن بیان ہمارے فتاوٰی میں ہے۔
فتاوٰی خیریہ میں ہے:
الاجارۃ اذا وقعت علی استھلاک الاعیان قصدا وقعت باطلۃ فعقد الاجارۃ المذکورۃ حیث لم یقع علی الانتفاع بالارض بالزرع ونحوہ بل علی اخذ المتحصل من الخراج المؤظف والمقاسمۃ وما علی الاشجار من الدراھم المضروبۃ فہو باطل باجماع ائمتنا والباطل لاحکم لہ باطباق علمائنا ۱؎۔
اجارہ جب اعیان کو قصدا ہلاک کرنے پر واقع ہو تو وہ باطل واقع ہوتاہے چنانچہ اجارہ مذکورہ جب کھیتی سے انتفاع پر واقع نہیں ہوا بلکہ اخراج کی دونوں نوعوں یعنی مؤظف ومقاسمہ سے حاصل ہونے والی پیداوار لینے اور کچھ درختوں پر ہے بصورت رائج درہموں کے اس کی اجرت لینے پرواقع ہوا ہے اور یہ ہمارےائمہ کے  اجماع سے باطل ہے اور ہمارے علماء اس پر متفق ہیں کہ باطل کا کوئی حکم نہیں۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/۳۔ ۱۳۵)
توجس سال جس قدر نشتت ہو اسی قدر تمام وکمال حق مالک ہے زیادہ حاصل ہو تو مستاجر کا اس میں کوئی پیسہ نہیں اورکمی پڑے تومستاجر پر ہرگز اپنے گھر سے اس کا پورا کرنا نہیں اور یہ کفالتیں اسی وقت کے لئے رکھی جاتی ہے جب مستاجر سے پوری رقم مقررہ شدہ وصول نہ ہوا گر مستاجر خود نہ کھاگیا بلکہ فی الواقع کمی ہوئی تو اس سے پوری رقم لینی حرام ہے اور مطالبہ باطل، مگر از انجا کہ مطالبہ ضرور ہوتاہے، اور قانونی طور سے اس پر جبر پہنچتاہے اور بزور کچہری حاصل کرلیتے ہیں تو اس کی کفالت کی گنجائش ہے۔
فتاوٰی عالمگیری میں ہے :
مالیس بحق کالجبایات الموظفۃ فی زماننا علی الخیاط والصباغ وغیرھما للسلطانی فی کل یوم اوشہر فانما ظلم ، اختلف المشائخ فی صحۃ الکفالۃ بہا کذا فی فتح القدیر، والفتوی علی الصحۃ کذا فی شرح الوقایہ، وممن یمیل الی الصحۃ الشیخ الامام علی البزدوی کذا فی الہدایۃ، وقال النسفی وشمس الائمہ قاضیخاں مثل قول فخر الاسلام لانہا فی حق توجہ المطالبۃ  فوق سائر الدیون  والعبرۃ فی باب الکفالۃ للمطالبۃ لانہا شرعت لالتزامہا ولہذا قلنا ان من قام بتوزیغ ھذہ النوائب بالقسط یؤجر وان کان الاٰخذ فی الاخذ ظالما کذا فی المعراج الدرایۃ ۱؎۔
وہ جو ناحق ہے جیسے ہمارے زمانے میں بادشاہ کے لئے درزی اوررنگساز وغیرہ پر یومیہ ماہانہ مقررکردہ ٹیکس یہ ظلم ہے، ان کی کفالت صحیح ہونے کے بارے میں ہمارے مشائخ میں اختلاف ہے ، فتح القدیر میں یوں ہی ہے اور فتوٰی صحیح ہونے پر ہے، شرح وقایہ میں یونہی ہے اور صحت کی طرف میلان کرنے والوں میں سے شیخ الاسلام علی البزدوی ہیں یونہی ہدایہ میں سے نسفی، شمس الائمہ اورقاضی خاں نے فخر الاسلام کے قول کی مثل کہا کیونکہ یہ توجہ مطالبہ میں تمام دیون سے فوق ہے اور کفالہ کے باب میں اعتبار مطالبہ کا ہے کیونکہ یہ اس کے التزام کے لئے مشروع ہوا اسی وسطے ہم نے کہا کہ جو کوئی ان ٹیکسوں کی عادلانہ تقسیم کے لئے کم بستہ ہوا ماجورہوگا اگرچہ لینے والا ان کولینے میں ظالم ہو معراج الدرایہ میں یوں ہی ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الکفالۃ مسائل شتی نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۹۱)
تو اس مطالبہ مشتبہ کی جوکبھی صحیح کبھی باطل طور پر ہوتا ہے کفالت بدرجہ اولٰی صحیح ہوگی لیکن ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ایجاب وقبول دونوں رکن کفالت میں تنہاکفیل کے قبول والتزام مطالبہ سے وہ کفیل نہیں ہوجاتا جب تک اس کے ساتھ مکفول لہ کا اسے قبول کرنابھی نہ ہو خواہ وہ خود قبول کرے یا اس کی طر ف سے دوسرا اگر چہ فضولی، ولہذا اگر اس مجلس میں قبول نہ پایا جائے توکفالت باطل ہوجاتی ہے  پھر بعد مجلس اگر مکفول لہ سو بار قبول کرے کچھ مفید نہیں۔ فتوٰی یہاں مختلف ہے اورفتوی جب مختلف ہو تو قول امام پر عمل واجب کما نص علیہ فی البحرالرائق والخیریۃ و غیرہما وقدبیناہ فی النکاح من فتاوٰنا
جیسا کہ بحر المرائق اورخیریہ وغیرہ میں ہے اوراہم اس کو اپنے فتاوٰی کی کتاب النکاح میں بیان کرچکے ہیں۔ (ت)

محیط وہندیہ میں ہے :
اما رکنہا فالا یجااب والقبول عند ابی حنیفۃ ومحمد رحمہما اﷲ تعالٰی وھو قول ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی اولاحتی ان الکفالۃ لاتتم بالکفیل وحدہ سواء کفل بالمال اوبالنفس مالم یوجد قبول المکفول لہ اوقبول اجنبی عنہ فی مجلس العقد اوخطاب المکفول لہ اوخطاب اجنبی عنہ اما اذا لم یوجد شیئ من ذٰلک فانہا لاتقف علی ماوراء المجلس حتی لو بلغ الطالب فقبل لم تصح ۱؎۔
امام ابوحنیفہ وامام محمد رحمۃاللہ تعالٰی علیہما کے نزدیک کفالہ کا رکن ایجاب وقبول ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ  تعالٰی کا پہلا قول بھی یہاں تک اکیلے کفیل سے کفالہ تام نہیں ہونا چاہئے وہ مال کی کفالت کرے یا نفس کی جب تک مکفول لہ یا اس کی جانب سے کسی اجنبی شخص کا قبول یا خطاب نہ پایا جائے اگر ان میں سے کچھ بھی نہ پایا گیا تو یہ ماورائے مجلس پر موقوف نہ ہوگا یہاں تک کہ اگر طالب تک خبر پہنچی اور اس نے قبول کرلیا تو کفالہ صحیح نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الکفالہ الباب الاول    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۵۲)
Flag Counter