| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اور ظاہر ہےکہ جائداد کوئی صاحب ذمہ نہیں تو زید پر کے مطالبہ میں عمرو کا اپنی جائداد کو مکفول یا مستغرق کردینا بے معنی ہے عمرو خود اس مطالبہ کا کفیل بنتاہے یانہیں،ا ور اگر نہیں تو وہ کون سا ذمہ ہے کہ ذمہ زید کے ساتھ ضم ہوا اور اگر ہاں تو مطالبہ ذمہ عمرو پر ہوا نہ کہ جائداد پر ولہذا گر کفیل کی کلی جائداد تلف ہوجائے کفیل مطالبہ سے بری نہیں ہوتا جب اس کے پاس مال آئے گا مطالبہ ممکن ہوگا بخلاف رہن اس میں حق مرتہن خاص شے مرہون سے متعلق ہوجاتاہے حتی کہ اگر مرہون اس کے پاس ہلاک ہوجائے تو بقدر اس کی قیمت کے دین ساقط ہوجاتاہے یہاں تک کہ اگر روز قبضہ مرتہن مرہون دین کے برابر یا اس سے اکثر تھی اور شے مرہون اس کے پاس تلف ہوگئی تو کل دین جاتا رہا،
ذخیرہ وہندیہ میں ہے :
اذا ھلک المرھون فی یدالمرتہن او فی ید العدل ینظر الی قیمتہ یوم القبض والی الدین فان کانت قیمتہ مثل الدین سقط الدین بھلاکہ وان کانت قیمتہ اکثر من الدین سقط الدین وھو فی الفضل امین وان کانت قیمتہ اقل من من الدین سقط من الدین قدر قیمۃ الرھن ویرجع المرتھن علی الراہن بفضل الدین ۱؎۔
اگر مرہون شے مرتہن کے قبضہ میں ہلاک ہوگئی یا عادل کے قبضہ میں ہلاک ہوگئی تو قبضہ والے دین اس شی کی قیمت اور قرض کودیکھا جائے گا اگر اس شے کی قیمت قض کی مثل ہے توقرض ساقط ہوجائے گا اور اگرقیمت زیادہ ہے تو قرض ساقط ہوجائے گا جو زائد ہے اس میں مرتہن امین ہوگا، اورقیمت قرض سے کم ہے مرہون کی قیمت کے برابر ساقط ہوجائے گا اور باقی قرض کے سلسلہ میں مرتہن راہن کی طرف رجوع کرے گا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الرھن الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۴۷)
مگریہ اس حالت میں ہے کہ وہ شے دائن کے قبضہ میں دے دی جائے اور دین موجود ومتحقق ہو نہ کہ موھوم و متوقع،
قال اﷲ تعالٰی فرھٰن مقبوضۃ ۲؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا : تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۳)
کافی وہندیہ میں ہے:
لایصح الرہن الابدین واجب ظاھرا وباطنا اوظاھرا، فاما بدین معدوم فلایصح ۳؎۔
نہیں صحیح ہے رہن مگر دین واجب کے بدلے میں، چاہے ظاہر ہو یا باطن لیکن دین موہوم کے بدلے میں صحیح نہیں۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الرھن الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۳۱)
اس کفالت واستغراق مخترع میں کہ جائداد اس کے قبضہ میں نہیں دی جاتی اور بارہا کوئی دین بالفصل موجود بھی نہیں ہوتا جائداد کیونکہ اس کے حق میں محبوس ہوسکتی ہے۔ اس کاحاصل تو یہ ہوگا کہ کفیل کو اس کے اس مال مملوک میں تصرفات مالکانہ سے محجور وممنوع کردیں حالانکہ خود وہ مدیون بھی نہیں بلکہ بہت جگہ ابھی دین کااصلا وجود ہی نہیں اور شرعا خود مدیون بھی، اوروہ بھی ایسا کہ دیون اس کے تمام املاک کومستغرق ومحیط ہوں اپنی ملک میں کسی تصرف مالکانہ سے ممنوع نہیں ہوتا حتی کہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک تواگر قرضخواہ نالشی ہو (کہ یہ اپنی جائداد تلف کئے، ڈالتا ہے حاکم اسے تصرفات سے روک دے) اور قاضی ان کی نالش قبول کرکے ممانعت کاحکم قطعی صادر کردے جب بھی وہ اصلاً ممنوع نہ ہوگا جس مال کو ہبہ کرے گا ہبہ ہوجائے گا بیع کرے گا بک جائے گا، وقف کرے گا وقف ہوجائے گا ، قرضخواہوں کوجو حق حبس وملازمت کا دیا گیا وہ اپنے ان طریقوں سے چارہ جوئی کریں اس کے تصرفات کہ اس کی اہلیت سے ناشئ ہیں کسی کے روکے نہ رکیں گے، اورصاحبین کے نزدیک اگر چہ وہ صرف اپنے مال موجود میں بعض تصرفات سے ممنوع ہوسکتاہے جبکہ دین اس کے اموال کو محیط ہوجائے مگر کب ؟ جبکہ بعد نالش قرضخواہان قاضی اس کے ممنوع ہونے کی قضا کردے اور اسے اس قضا کی اطلاع بھی پہنچ پائے اس سے قبل بالاجماع وہ بھی کسی طرح سے ممنوع نہیں ۔
محیط وعالمگیری میں ہے:
الحجر بسبب الدین ان یرکب الرجل دیون تستغرق اموالہ اوتزید علی موالہ فطلب الغرماء من القاضی ان یحجر علیہ حتی لایہب مالہ ولا یتصدق بہ ولا یقربہ لغریم آخر فالقاضی یحجر علی عند ھما،وعند ابی حنیفۃ لا یحجر علیہ ولا یعمل حجرہ حتی تصح منہ ھذا التصرفات کذا فی المحیط، ویصح ھذا الحجر عند ھما و ان کان المحجور المدیون غائب ولکن یشترط علم المحجور علیہ بعد الحجر حتی ان کل تصرف باشرہ بع الحجر قبل العلم بہ یکون صحیحا عندہما ۱؎۔
قرض کی وجہ سے تصرفات سے روک دینا اس طرھ ہے کہ کسی شخص پر اتنے قرض ہوگئے جو اس کے تمام اموال کو محیط ہوگئے یا ا س سے زیادہ ہوگئے اور قرضخواہوں نے قاضی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس پر پابندی لگائے تاکہ وہ اپنے مال کو نہ توہبہ کرے ، نہ اس کو صدقہ کرے اورنہ ہی اس کے بارے میں کسی اور قرضخواہ کا اقرار کرے تو صاحبین کے نزدیک قاضی اس پر پابندی عائد کردے گا جبکہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک پابندی عائد نہیں کرے گا اورنہ اس پر پابندی نافذ ہوگی یہاں تک کہ اس کے تصرفات مذکورہ صحیح ہوں گے اور صاحبین کے نزدیک ا س پریہ پابندی صحیح ہوگی اگرچہ وہ مدیون جس پر پابندی لگائی گئی غائب ہو بشرطیکہ پابندی کے بعد اس کوپابندی کا علم ہوجائے یہاں تک پابندی کے بعد اس کا علم ہونے سے پہلے جو تصرف اس نے کیا وہ صاحبین کے نزدیک صحیح ہوگا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الحجر الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۶۱)
فتاوٰی قاضیخاں میں ہے:
انما یحجر بعد الحکم لا قبلہ ۲؎۔
بیشک مدیون قاضی کے فیصلہ کے بعد ہی تصرفات سے پابند ہوگا اس سے پہلے نہیں۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحجر مطبع نولکشو رلکھنؤ ۴/ ۹۱۸)
یہاں دین محیط ہونا درکنار یہ شخص خود مدیون بھی نہیں بلکہ ہنوز سرے سے دین ہی نہیں، نہ نالش نہ قضا، اور اپنی جائداد میں اس کے تصرفات ناروا، یہ محض باطل وبے اصل وبے معنی ہے پھر یہ کلام بھی اس صورت میں تھا کہ زید پر مطالبہ ہو یا ہوگا،اور عمرو نے اپنی جائداد مکفول کی یہاں تو اس پھر بھی طرہ یہ ہے کہ خود زید ہی کامعاملہ اوروہ آپ ہی اپنی جائداد مکفول کررہا ہے یہاں کون سادوسرا ذمہ اس کے ذمہ کے ساتھ ملا یا گیا ایسی مخترع باتیں شرع مطہر کے نزدیک اصلا قابل التفات نہیں ہوسکتی، اس مسئلہ کو خوب سمجھ لینا چاہئے، کہ آج کل یہ نئی وضع کی کفالت بہت شائع ہوگئی ہے حالانکہ وہ صرف ایجاد قانون ہے شرع مطہر میں اس کا کہیں نشان نہیں، پس روشن ہوا کہ زیدکا وہ جائیداد دوسرے کو ہبہ کردینا قطعا صحیح ونافذ تھا اور مکفول ہونے سے اس پر اصلا کوئی اثر نہ آسکتا تھا، رہی ہبہ نامہ کی وہ شرط کہ جائداد موھوبہ پر جو مطالبہ برآمدہو ذمہ موھوب لہ رہے، اولاً شرط فاسد ہے کہ نہ مقتضائے عقد ہبہ ہے کہ بلا شرط خود لازم ہوجاتی ہے نہ اس کے ملائم ہےکہ موجب ہبہ یعنی ملک موھوب لہ کی تاکید کرتی اور اس میں احدالعاقدین یعنی واہب کا نفع ہے، ایسی شرط فاسدہوتی ہے اور ہبہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی خود باطل ہوجاتی ہے۔
درمختارمیں ہے:
الاصل الجامع فی فساد العقد شرط لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحد ہما الخ ۳؎۔
فساد عقد میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ وہ شرط ایسی ہو جس کا تقاضہ عقد نہیں کرتا اورنہہ ہی وہ عقد کے ملائم ہے اور اس میں عاقدین میں سے کسی کا نفع ہو الخ (ت)
(۳؎ درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۷)