فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
173 - 180
مدیون پر اس کو کوئی دعوی نہیں پہنچتا، فتاوٰی قاضی خاں وفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
رجل قال لغیرہ ولیس بخلط لہ ادفع لایرجع الف درہم فد فع المامور لایرجع بہ علی الامر لکن یرجع بہ علی القابض لانہ لم یدفع الیہ علی وجہ یجوز دفعہ ۳؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایک شخص نے دوسرے کو جوا س کا شریک نہیں ہے کہا کہ فلاں کو ہزارروپے دے دو اور اس نے دے دئے تو آمر کی طرف رجوع نہیں کر سکتا البتہ قابض کی طرف رجوع کرسکتاہے کیونکہ مامور نے اس کو ایسی وجہ سے ہزار روپے نہیں دئے جس وجہ سے دینے جائز ہوں اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
( ۳؎ فتاوٰی قاضی خان کتاب الکفالۃ فصل فی الکفالۃ بالمال مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۵۸۹)
(۴) اگر یہ کفالت صحیح وجائز ہوتی اور بامر مکفول عنہ وقوع پاتی تو صورت مذکورہ میں ضرور عمرو اس رقم کو زید سے واپس لے سکتاہے نیلام نہ ہونے دیتا، اور روپیہ ادارکردینا کوئی خلاف قضیہ کفالت نہیں بلکہ عین اس کا مقتضاہے کفالت توثیق دین کے لئے ہوتی ہے وہ حاصل ہے نہ کہ نیلام جائداد کفیل کے لئے، رہن کے توعین سے حق مرتہن متعلق ہوتاہے، ولہذا اس میں اور سب دائنوں پر مقدم رہتاہے اور رہن سے غرض یہی ہے کہ راہن سے دین وصول نہ ہو تو اس کی قیمت سے وصول ہوجائے پھر اگردین کی میعادگزر جائے اور مرتہن اس کی بیع چاہے راہن بادائے دین بلا شک فک رہن کراسکتاہے کفیل کیوں ممنوع ہوگا مگرہم بیان کرآئے کہ نہ یہ کفالت ہے نہ یہاں زید پر عمرو کو کسی قسم کا دعوٰی پہنچتاہے تو اس سے بحث کی حاجت نہ رہی واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۸۷: از شہر بریلی مرسلہ حافظ حضور احمدخاں منصرم نقل ساکن ریاست رام پور واردحال بریلی
کہ زید کی درخواست پر عمرو نے اس کی ضمانت مستاجری اپنی جائداد سے کرکے باضابطہ تصدیق کرادی زید نے پہلے سال میں بدنیتی سے سرکاری روپیہ ادانہیں کیااور جائدا دمکفولہ کے نیلام کی درخواست دے دی عمرو نے مجبورہوکر بعذر داری منجملہ (الہ ما مہ ل۰۲ ) زر ضمانت کہ بموجب پر تہ (ماسہ عہ )داخل سرکار کرکے جائداد مکفولہ اپنے نیلام سے واگزاشت کرالی اور عمرو کے نام عدالت دیونی میں زر ضمانت ادا کردہ (صمالہ /) کی بر بنائے ضمانت نامہ مصدقہ وداخلہ سرکاری کی نالش رجوع کردی زید مدعاعلیہ کو یہ عذر ہے کہ کفالت بالمال شرعا ناجائز ہے اور حکم دفعہ ۷۹ آئیں حامدیہ قانون مجریہ اور عملدرآمدریاست یہ ہے کہ صیغہ مال میں جو شخص مطالبہ سرکاری کی ضمانت کرکے روپیہ سرکارمیں داخل کرے اس کو اصل مستاجر پر دعوٰی رجوع کرکے زر مدخلہ اپنا وصول کرانے کا اختیار حاصل ہے پس ایسے حکم قانون مجریہ اورعمل درآمد ریاست کے مقابلہ میں وہ ضمانت نامہ شرعا جائز ہوسکتاہےیاکیا؟ اور قاضی وقت حکم سلطان العصر کے خلاف تجویز فرمانے میں بموجب روایت درمختار :
ولوامرالسلطان بعدم سماع الدعوی فلا تسمع الدعوی ۱؎ الخ
اگر سلطان دعوٰی کی عدم سماعت کاحکم دے تو دعوٰی نہیں سنا جائے گاالخ۔(ت) ممنوع ہے کیا؟
(۱؎ درمختار کتاب القضاء فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۸۱)
الجواب:کفالت بالمال بلاشبہ شرعا جائز ہے مدعا علیہ کا عذر باطل ہے یہاں تک کہ ناجائز مطالبوں کی کفالت صحیح ہے تو مستاجری رائجہ دیہات کا شرعا ناجائز ہونا صحت کفالت کا مانع نہیں ،
درمختارمیں ہے:
صح ضمان الخراج وکذا النوائب ولوبغی حق کجیایات زماننا فانہا فی المطالبۃ کالدیون بل فوقہا حتی لواخذت من الاکار فلہ الرجوع علی مالک الارض و علیہ الفتوی ۱؎۔
صحیح ہے ضمان اخراج کا اور اسی طرح نوائب (حکام کی طرف سے مقررہ کردہ اموال) کا اگرچہ وہ نوائب ناحق ہو۔ جیسے ہمارے زمانے کے مظالم سلطانی، کیونکہ یہ مطالبہ میں دیون کی مثل ہیں بلکہ اس سے فوق ہیں یہاں تک کہ اگر کاشتکار سے ایسے اموال جبرا لئے جائیں تو وہ مالک زمین کی طرف رجوع کرسکتاہے اوراسی پرفتوی ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۶)
اور کفالت جبکہ بامر مطلوب ہو جیسا صورت سوال میں ہے تو بلا شبہہ کفیل کو اصیل سے وصول کرنے کا اختیار ہے تنویر الابصار میں ہے:
لوکفل بامرہ رجع بما ادی وان بغیرہ لاولا یطالب کفیل بمال قبل ان یؤدی عنہ ۲؎ (ملتقط)
اگر کوئی مطلوب کے حکم سے کفیل بناتو قرض ادا کرکے مطلوب کی طرف رجوع کرسکتاہے اور اگر اس کے حکم کے بغیر کفیل بنا تو رجوع نہیں کرسکتا اورمطلوب کی طرف سے قرض ادا کرنے سے پہلے کفیل اس سے مطالبہ نہیں کرسکتا ۔ (ملتقطا)۔ (ت)
(۲؎ ردمختار شرح تنویر الابصار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۴)
اور یہی مطلب اس قانون کی عبارت منقولہ سوال کا ہے کہ اس کو مستاجر پر دعوٰی کرکے زرمدخلہ وصول کرنے کا اختیارہے تو اصل منشأ سوال کہ حکم شرع و قانون کا اختلاف ہے یہاں منتفی ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۸۸: از مراد آباد محلہ کسرول متصل مسجد مولسری مرسلہ مولوی حفظ الرشید صاحب ۲۴ شعبان ۱۳۲۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ علاقہ ریاست پورمیں حاکم وقت کا یہ حکم ہے کہ جو دیہات مستاجری سرکاری میں جائداد ضمانت میں مکفول کرے اسے بیع ورہن وہبہ نہیں کرسکتا زید نے اپنی جائداد کا جو ضمانت میں مکفول تھی ہبہ نامہ لکھ دیا اور قبضہ موھوب لہ کاکرایہ دیااور ہبہ نامہ میں یہ لکھ دیا کہ جائداد موہوبہ پر جو مطالبہ برآمد ہو ذمہ موھوب لہ رہے سرکار نے بمنظوری اس امر کے کہ جائداد بدستور مکفول رہے اس ہبہ نامہ کو منظور کرلیا تویہ ہبہ جائز رہا یا نہیں اور وہ جائداد یا موھوب لہ اس مطالبہ کے ذمہ دار ہوئے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: ہبہ جائز ونافذ تام ہوگیا لصدورھا عن اھلہا فی محلہا وقد تمت بلحوق القبض (کیونکہ وہ ہبہ کے اہل سے ہبہ کے محل میں صادر ہوا او قبضہ لاحق ہونے کے ساتھ وہ تام ہوگیا۔ ت) او وہ کفالت اس کے لئے مانع نہیں ہوسکتی کہ جائداد کی کفالت اصلا کوئی چیز نہیں جب تک جائداد کسی دین موجود کے مقابل قبضہ دین میں نہ دی جائے تو جائداد جسے لوگ آج کل مکفول یا مستغرق کہتے ہیں شرعا آزاد محض ہوتی ہے۔مالک کو اس میں ہر گونہ تصرف کا اختیار ہوتا ہے پھر ہبہ نامہ میں جو یہ شرط لگائی کہ جائداد موھوبہ پر جو مطالبہ برآمد ہو ذمہ موھوب لہ رہے ظاہر ہے کہ شرط باطل ہے مگرشرط فاسد سے ہبہ فاسد نہیں ہوتا بلکہ خود وہ شرط باطل و بے اثر رہتی ہے اور موھوب لہ کا اس ہبہ کوقبول کرنا اسے اس شرط فاسد کا پابند نہیں کرتا نہ اس کا یہ قبول کسی طرح بطور خود قبول کفالت کا اثر رکھتا ہے پس صورت مستفسرہ میں ہبہ قطعا صحیح وتام ہے اور جائداد موہوبہ اور ذات موھوبہ لہ دونوں مطالبہ ریاست بری وآزاد، تو ضیح مقام یہ ہے کہ شرح میں کفالت کے معنی ہیں کسی کے ذمہ سے اپنا ذمہ ملا دینا دین میں جیسے بعض کا قول ہے یا مطالبہ میں جیسا کہ قول اصح ہے،
ہدایہ وہندیہ وغیرہمامیں ہے:
قیل ھی ضم الذمۃ الی الذمۃ فی المطالبۃ و قیل فی الدین والاول اصح ۱؎ انتہی، اقول والمراد اعم عن مطالبۃ حاضرۃ کما علی مدیون اومتوقعۃ کما فی ضمان الدرک وغیرہ ففی الہندیۃ عن محیط السرخسی لو قال لرجل مابایعت فلانا فہو علی جاز لانہ اضاف الکفالۃ الی سبب وھو مبایعۃ والکفالۃ المضافۃ الی وقت فی المستقبل جائزۃ لتعامل الناس فی ذٰلک ۲؎ اھ وفیہا عن الکافی یصح تعلیق الکفالۃ بالشروط کمالوقال مابایعت فلانا فعلی وما ذاب لک علیہ فعلی وما غصبک فلان فعلی ۳؎۔
ایک قول یہ ہے کہ کفالت دین میں ذمہ کو ذمہ کے ساتھ ملانا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ مطالبہ میں ذمہ کو ذمہ کے ساتھ ملانا ہے او ر قول اول زیادہ صحیح ہے انتہٰی میں کہتاہوں مطالبہ سے مراد عام ہے چاہے حاضر ہو جیسے مدیون پریا متوقع ہو جیسے ضمان درک وغیرہ میں، ہندیہ میں محیط سرخسی کے حوالے سے ہے کہ اگر کسی نے دوسرے شخص سے کہا جو تم فلان پر بیچوں وہ مجھ پر لازم ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ یہ کفالہ کی سبب وجوب یعنی مبایعت کی طرف اضافت ہے اور وہ کفالہ جس کومستقبل کے کسی وقت کی طرف منسوب کیا جائے جائز ہوتاہے اس لئے کہ اس میں لوگوں کا تعامل جاری ہے اھ، اور اسی میں کافی سے منقول ہے کہ کفالہ کو شروط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے جیسے کہا کہ جو تم فلاں کے ساتھ بیع کرو وہ مجھ پر لازم ہے اور تیرا جو حق اس پر ثابت ہو وہ مجھ پر لازم ہے اور جو فلاں نے تجھ سے غصب کیا وہ مجھ پر لازم ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲)
(۲؎ فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۶)
(۳؎ فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۷۱)