فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
172 - 180
(۲) ہر گز قاابل سماعت نہیں ہم جواب سوال اول میں تحقیق کرآئے کہ یہ کفالت باطل محض تو باطل بنیاد پر دعوٰی بھی باطل اور دعوٰی باطلہ مسموع نہیں، نہ مدعاعلیہ پر اس کا جواب واجب،
درمختار میں ہے:
(یسأل القاضی المدعی علیہ) عن الدعوی فیقول انہ ادعی علیک کذا فما ذاتقول (بعد صحتہا والا) تصدر صحیحۃ (لا) یسأل لعدم وجوب جوابہ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
قاضی مدعاعلیہ سے دعوٰی کے بارے میںسوال کرے گا اورکہے گا کہ اس شخص نے تجھ پر یہ دعوٰی کیاہے تو اس کے بارے میں کیا کہتاہے بشرطیکہ دعوی صحیح ہوا ور اگر دعوٰی صحیح طوپر دائر نہ ہو تو قاضی سوال نہیں کریگا کیونکہ اس کاجواب دینا مدعاعلیہ پر واجب نہیں، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الدعوٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۱۶)
(۳) ہم ثابت کرآئے کہ یہ کفالت ہی نہیں محض باطل ہے کفالت صحیحہ جبکہ بے اذن مکفول عنہ بطورخود ہو نہ اول اس نے اس سے کفالت کوکہا نہ اسی مجلس میں دائن کے قبول سے پہلے اس پر رضا دی اگرچہ بعد تبدیل مجلس اظہار رضا کیا یامجلس ہی میں مگر کفول لہ پہلے رضا دے چکا تو ان سب صورتوں میں وہ تبرع محض ہے اور کفیل کو اصیل سےرقم ادا کردہ لینے کا اصلا استحقاق نہیں،
ردالمحتارمیں ہے:
لوکفل بامر المطلوب بشرط قولہ عنی اوعلی انہ علی رجع علیہ بما ضمن وان ادی ارد أعینی وان بغیرہ لایرجع لتبرعہ الااذا اجاز فی المجلس فیر جع عمادیۃ (ملتقطا)
اگر مطلوب کے امر سے کفیل بنا بشرطیکہ مطلوب نے کہا ہو کہ تومیری طرف سے ضامن بن یا اس شرط پر کہ وہ مجھ پر لازم الادا ہے تو ادا کردہ دین کے بارے میں مطلوب مطلوب کی طرف رجوع کرے گا اگرچہ ا س نے مکفول بہ سے بدتر ادا کیا ہو (عینی) اور اگر مطلوب کے امر کے بغیر کفیل بنا ہو تو رجوع نہیں کرے گا، کیونکہ یہ اس کی طرف سے تبرع واحسان ہے، مگر جب مجلس کے اندر ہی مطلوب نے اس کو کفالت کی اجازت دے دی ہو تو رجوع کرسکتاہے، (عمادیہ) (ملتقطا) ۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الکفالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۴)
ردالمحتار میں ہے:
ای قبل قبول الطالب فلو کفل بحضر تہما بلاامرہ فرضی المطلوب اولا رجع ولو رضی الطالب اولا لالتمام العقد بہ فلا یتغیر قہستانی عن الخانیۃ وقد منہا ایضا عن السراج۱؎۔
یعنی طالب کے قبول کرنے سے پہلے (مطلوب نے اجازت دی ہو) اگر وہ دونوں (طالب و مطلوب) کی موجودگی میں بلا امر مطلوب کفیل بنا پھر مطلوب نے پہلے رضامندی ظاہر کردی تو کفیل اس کی طرف رجو ع کرسکتاہے اوراگر طالب نے پہلے رضامندی ظاہر کردی تو رجوع نہیں کرسکتا کیونکہ طالب کی رضامندی کے ساتھ عقد تمام ہوگیا اب اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی (قہستانی بحوالہ خانیہ) ہم سراج کے حوالے سے بھی اس کا ذکر پہلے کرچکے ہیں۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۲۷۲)
اقول :( میں کہتاہوں) ہمارے نزدیک یہ تفصیل بھی عندالتحقیق قول طرفین پر مبنی ہے کہ کفالت بے قبول طالب ناتمام مانتے ہیں قول مفتی بہ پرجبکہ کفالت صرف قول کفیل سے تمام ہوجاتی ہے اگر چہ طالب کی رضا نہ ہو تو مطلوب کی اجازت لاحقہ نہ ہوگی مگر بعد تمام عقد اور وہ تبرعا واقع ہولیا تو اب متغیر نہ ہوگا۔
عالمگیریہ میں ہے:
الکفالۃ رکنہا الایجاب والقبول عند ابی حنیفۃ ومحمد وھو قول ابی یوسف اولا ثم رجع وقال تتم بالکفیل وحدہ کذا فی المحیط، ورضا الطالب لیس بشرط عندہ وھو الاصح کذا فی الکافی وھو الاظہر کذ افی فتح القدیر وفی البزازیۃ وعلیہ الفتوی کذا فی النہر الفائق، وھکذا فی البحر الرائق ۲؎۔
کفالت کارکن طرفین کے نزدیک ایجاب وقبول ہے اور امام ابویوسف کا پہلا قول بھی یہی ہے پھر آپ نے اس سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ اکیلے کفیل سے ہی کفالت تام ہوجاتی ہے یونہی محیط میں ہے، اور طالب کی رضامندی شرط نہیں ہے، اما م ابویوسف کے نزدیک اوروہی اصح ہے (کافی) اور ہی اظہر ہے (فتح القدیر) اور بزازیہ میں ہے کہ اس پر فتوٰی ہے، اسی طرح النہر الفائق اور البحرالرائق میں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۲)
تو ثابت ہوا کہ صرف وہی کفالت موجب رجوع ہوتی ہے جو امر وحکم مدیون کے بعد ہو ولہذا جملہ متون و عامہ شروح نے صرف امر پر بنائے کارکھی اور تفصیل مذکور کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ متن ملتقٰی وغرر میں فرمایا
وان کفل بلا امرہ لایرجع علیہ وان جازھا بعد العلم ۱؎ اھ وھذا باطلاقہ یشمل العلم فی المجلس وبعدہ۔
اگر کوئی حکم مطلوب کے بغیر کفیل بنا تو وہ مطلوب کی طرف ر جوع نہیں کرسکتا اگر چہ مطلوب نے علم ہونے پر کفالت کی اجازت دے دی ہو اھ یہ عبارت اپنے اطلاق کے ساتھ دونوں صورتوں کو شامل ہے یعنی مجلس کے اندرعلم ہوا ہویابعد میں۔ (ت)
(۱؎ غرر الاحکام متن الدررالحکام کتاب الکفالۃ مطبعہ احمد کامل مصر ۲/ ۳۰۲)
کافی امام نسفی میں ہے :
شمل مااذا اکفل بغیر امرہ ثم اجازھا لان الکفالۃ لزمتہ ونفذت علیہ غیر موجبۃ للرجوع فلا تنقلب موجبۃ لہ ۲؎۔
یہ حکم مطلوب کے بغیر کفیل بننے اور بعد میں مطلوب کے اجازت دینے کو شامل ہے کیونکہ کفالت اس حال میں لازم ونافذ ہوچکی ہےکہ وہ غیر موجب رجوع ہے لہذا اب موجوب رجوع ہونےکی طرف منقلب نہیں ہوگی۔ (ت)
اسی طرح دررمیں غایہ سے ہے بلکہ خود فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
رجل کفل عن رجل بمال بغیرہ امرہ ثم اجازالمکفول عنہ الکفالۃ فادی الکفیل شیئا لایرجع علی المکفول عنہ ۳؎۔
ایک شخص بغیر حکم مطلوب کے اس کی طرف سے کفیل بالمال بناپھر مکفول عنہ یعنی مطلوب نے کفالت کی اجازت دے دی اور کفیل نے اس کی طرف سے قرض ادا کردیا تو مکفول عنہ کی طرف رجوع نہیں کریگا۔ (ت)
(۳؎ فتاوٰی قاضیخاں کتاب الکفالۃ نولکشورلکھنؤ ۳/ ۵۸۷)
بہر حال یہ حکم کفالت واقعیہ کا ہے یہاں کہ شرعا کفالت نہیں کچھ مہمل وباطل لفاظ ہیں جن کا نام کفالت واستغراق رکھا ہے یہاں اگر زید کا امر بھی ہوتا عمرو کو زید پر اس رقم کادعوٰی نہ پہنچتا کہ اگر زید نے کفالت کا امر کیا تھا مثلا فلاں کا جو مطالبہ مجھ پر ہے اس میں میرا کفیل ہوجایا اس میں میری ضمانت کرلے، اور اسی نے یہ مکان مستغرق کردیاکوئی لفظ التزام کا جس سے اس کی ذات ذمہ دار ہو نہ کہا جب تو ظاہر ہے کہ یہ اس نے یہ مکان مستغرق کردیا کوئی التزام کاجس سے اس کی ذات ذمہ دار ہوں نہ کہاجب تو ظاہر ہےکہ یہ اس کے امر سے نہیں کہ اس نے کفالت کا امر کیا تھا او ر یہ کفالت نہیں، اور اگر خود زید نے اس سے استغراق مکان ہی کو کہاتھا تو یہ ایک باطل کا حکم دیانہ کہ اپنی طرف سے قضائے دین کا جس کے تضمن کے سبب کفالت بالا مر کے سبب کفیل کو مکفول عنہ سے وصول کرنے کا اختیار ملتاہے۔
ہدایہ میں ہے:
ان کفل بامرہ رجع بما ادی علیہ لانہ قضی دینہ بامرہ ۱؎۔
اگرکوئی مکفول عنہ کے امر سے کفیل بناتو اس کی طرف رجوع کرسکتاہے کیونکہ اس نے مکفول عنہ کا قرض اس کے حکم سے ادا کیا۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب الکفالہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۱۱۹)
ایسے امر میں کفیل کو مکفول لہ یعنی دائن سے اپنی دی ہوئی رقم واپس لینے کااختیار ہوتاہے کہ اس نے اپنے آپ کو کفیل سمجھ کر ادا کی اوریہ خیال باطل تھا۔
ومن دفع شیئا ظانا انہ علیہ ولم یکن علیہ کان لہ ان یستردہ ۲؎ کما فی العقود الدریۃ وغیرھا۔
اگر کسی نے دسرے کو یہ سجھتے ہوئے کوئی شے دی کہ وہ دینا اس پر لازم ہے حالانکہ وہ لازم نہ تھی تو اس کو واپس لینے کا حق ہے جیسا کہ عقود الدریہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
(۲؎ العقود الدریۃ کتاب الشرکۃ ۱/ ۹۱ وکتاب الوقف ۱/ ۲۲۷ وکتاب المدانیات ۲/ ۲۴۹ ارگ بازار قندہار افغانستان )