Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
171 - 180
یہ لوگ خود بھی اسے نہ رہن کہتے ہیں  نہ رہن سمجھتے بلکہ کفالت اوراس کا کفالت ہونا رہن ٹھہرنے سے بھی باطل ترہے کفالت بے کفیل محال اور س عقد مخترع میں  نفس جائداد کفیل ٹھہرتی ہے نہ مالک جائداد اکثر یہ استغراقات صاحب جائدادان دیون میں  کرتاہے جو خود اس پر ہیں  اور کوئی شخص خود اپنا کفیل نہیں  ہوسکتا کہ کفالت ہے۔
ضم الذمۃ الی الذمۃ ۳؎کما فی البدائع والہدایۃ وعامۃ الکتب۔
ایک ذمہ کو دوسرے ذمہ کے ساتھ ملانا جیساکہ بدائع، ہدایہ اور عام کتابوں  میں  ہے۔ (ت)
 (۳؎ الہدایہ        کتاب الکفالۃ        مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۱۱۲)
           یہاں  دو ذمہ کہاں  ہیں  کہ ایک دوسرے سے ضم ہو،ولہذا شرح جامع الصغیر لشیخ الاسلام علی الاسبیجابی پھر فصول استروشی پھر فتاوی عالمگیری میں ہے :
اذا قال المطلوب للطالب ان لم اوافک بنفسی غد افعلی المال الذی تدعی فلم یواف لایلزمہ شیئ ۱؎۔
جب مطلوب طالب سے کہے کہ اگرمیں  کل اپنے آپ کوتیرے پاس حاضر نہ کروں  تو جس مال کا تو دعوٰی کررہاہے وہ مجھ پر لازم ہوگا پھر وہ پانے آپ کو حاضر نہ کرے تو اس صورت میں  اس پر کچھ بھی لازم نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکفالۃالفصل الخامس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۷۷)
او رخود یہ اختراع کرنے والے بھی اتنا سمجھتے ہیں کہ آدمی اپ اپنا ضامن نہیں ہوسکتا لاجرم جائداد کو ذمہ دار مانتے ہیں ، اور شک نہیں کہ جو معنی استغراق یہاں  سمجھتے ہیں  وہی دوسرے خود اس مدیون کے عوض جائداد مستغرق کرنے میں  ولہذا جائداد ہی پر مطالبہ عائد مانتے ہیں  اور اس میں  مالک کے تصرفات انتقال ناجائز جانتے ہیں  لیکن جائداد جماد ہے اور ذمہ مکلفین کے ساتھ خاص جانور تو کوئی خاص ذمہ رکھتا نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : العجماء جبار ۲؎ رواہ مالک واحمد والستۃ عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

جانوروں  پر ضمان نہیں ۔ اس کا مالک ،ا مام احمد اور ائمہ ستہ نے سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب الزکوٰۃ   ۱ /۲۰۳   و کتاب الدیات   ۲/ ۱۰۲۱    قدیمی کتب خانہ کراچی)

(صحیح مسلم        کتاب الحدود        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۷۳)

(مسند امام احمد بن حنبل    حدیث ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ    دارالفکر بیروت    ۲ /۲۲۸)
نہ کہ سنگ وخشت، جامع الرموز میں ہے :
الذمۃ لغۃ العہد وشرعا محل عہد جری بینہ وبین اﷲ تعالٰی یوم المیثاق اووصف صاربہ الانسان مکلفا ۳؎۔
ذمہ لغت میں  عہد کوکہتے ہیں  اورشرع میں  اس عہدکے محل کو کہتے ہیں  جو یوم میثاق کو اللہ تعالٰی اس محل عہد کے درمیان جاری ہوا یا اس وصف کوکہتے ہیں  کہ جس کے ساتھ انسان مکلف ہوا۔ (ت)
 (۳؎ جامع الرموز    کتاب الکفالۃ   مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران   ۳/ ۱۹۵)
تحریر امام ابن الہمام پھر نہر الفائق پھر ردالمحتار میں  ہے :
الذمۃ وصف شرعی بہ الاھلیۃ لوجوب مالہ وعلیہ وفسرھا فخرالاسلام بالنفس والرقبۃ لہا عہد ۱؎۔
ذمہ میں  وہ وصف شرعی ہے جس کے ساتھ مالہ، اور ماعلیہ کی اہلیت وجوب حاصل ہوتی ہے اورفخر الاسلام نے اس کی تفسیر یوں  کی کہ وہ نفس یا وہ رقبہ جس کے لئے عہد ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الکفالۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۲۴۹)
تو جائداد کا ذمہ دار ہونا محال تو کفالت لغو و واجب الابطال، مخترعین اسے مکفول کہتے ہیں یہ بھی ان کا اختراع ہے ورنہ وہ بھی ان کے طور پر کفیل ہے کما بینا وایضا _________ یہاں  پانچ چیزیں  ہیں ، کفیل، مکفول، مکفول عنہ، مکفول لہ، مکفول بہ، مکفول بمعنی مضمون بہ تو ذمہ کفیل ہے کما تقدم اٰنفامن کتب المذھب (جیسا کہ مذب کی کتب کے حوالہ سے ابھی گزرا ہے۔ ت) اور کفالت دیون میں  مکفول منہ مدیون مکفول لہ دائن مکفول بہ وہ دین، درمختارمیں ہے : الدائن مکفول والمدیون مکفول عنہ والنفس اوالمال مکفول بہ ومن لزمتہ المطالبۃ کفیل ۲؎۔

دائن کو مکفول لہ، مدیون کو مکفول عنہ،نفس یامال کو مکفول بہ اور جس پر مطالبہ لازم ہے اس کو کفیل کہتے ہیں ۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب الکفالۃ        مطبع مجتبا ئی دہلی        ۲ /۵۹)
ظاہر ہے کہ جائداد نہ دین ہے نہ دائن نہ مدیون نہ وہ وصف شرعی کہ انسان مکلف کےلئے ہوتاہے تو وہ اخیر کے چاروں  سے کچھ نہیں ، لاجر م کفیل ہے،، اوریہ باطل ومستحیل ہے، اگرکہیں  کہ ہم صاحب جائداد کو کفیل مانیں  گے اور جائداد زیادت اطمینان کے لئے ہے کہ دائن اس سے وصول کرے۔

اقول: اولا یہ بداہۃ غلط ہے غالب استغراق صاحب جائداد مدیون کے دیون میں  ہوتے ہیں  اسے کیونکر اپنا کفیل کہا جاسکتاہے کما تقدم (جیسے پہلے گزرا۔ ت)

ثانیا ان استغراقوں  میں  جائداد ہی پر مطالبہ لکھا جاتاہے، صاحب جائداد اپنا ذمہ اس سے مشغول نہیں کرتا، کوئی حرف ایسا نہیں  ہوتا جس سے اس کی ذات ذمہ دار ہو، تو وہ کفیل کیونکہ ہوسکتاہے
جامع الفصولین پھر بحرالرائق اور فتاوٰی ظہیریہ پھر خزانۃ المفتین اور فتاوٰی نسفی پھر محیط پھر ہندیہ میں ہے :
قال دینک الذی علی فلان انا ادفعہ الیک انا اسلمہ الیک انا اقبضہ لایصیر کفیلا مالم یتکلم بلفظ یدل علی الالتزام ۱؎۔
کسی نے دوسرے کو کہا کہ تیرا جو فلاں  پر دین ہے وہ میں  تجھے دوں  گا، میں  تیرے حوالے کروں  گا، میں  اس کو وصول کروں  گا، تو ان الفاظ کاساتھ وہ کفیل نہ ہوگا جب تک کوئی ایسا لفظ نہ بولے جو التزام پر دلالت کرتاہو۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الکفالہ     الباب الثانی        نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۵۷)
ثالثا خود ان لوگوں  کامزعوم بھی یہی مقصود بھی یہی، جوشخص اپنے خواہ پرائے دین میں  جائداد کا استغراق کردے اور دائن ڈگری پاکرمطالبہ میں  اسے حبس کرانا چاہے ہر گز نہ سنیں  گے، اوریہی جواب دیاجائے گا کہ جائدا د ذمہ دارہے، اس کی ذات ذمہ دارنہیں  صاف تصریح ہوئی کہ وہ کفیل نہیں  جائداد کفیل ہے ذمہ دار ہی کفیل ہوتاہے

رابعا بالفرض اگر یوں  ہی کہتا کہ تیرا دین عمروپر آتا ہے اس کا میں  کفیل ہوں  میں  ضامن ہوں  میں  ذمہ دار ہوں اور یہ جائداد اس میں  مستغرق کرتاہوں  جب بھی جائداد بلا شبہ آزاد رہتی کفیل کا ذمہ مشغول ہوتا اور اسے جائداد کے بیع وہبہ سے کوئی نہ روک سکتا، کہ حجر عن التصرف مقتضائے کفالت نہیں  کما اوضحنا ہ فی فتاوٰنا (جیساکہ ہم نے اپنے فتوٰی میں  اس کی وضاحت کردی ہے۔ ت) بلکہ فقہائے کرام تصریح فرماتے ہیں  کہ اگر خود اس شرط پر کہ کفالت کی کہ اپنے اس مکان کی قیمت سے زر کفالت اداکروں  گا جب بھی مکان  آزادہے اور اس کا بیچنا کچھ لازم نہیں ،
وجیز امام کردری پھر بحرالرائق اور فتاوٰی ذخیرہ  پھر عالمگیریہ میں ہے :
ضمن الفاعلی ان یؤدیہا من ثمن الدارہذہ فلو یبیعا لاضمان علی الکفیل ولایلزمہ بیع الدار ۲؎۔
کوئی شخص ہزار روپے کاضامن بنا اس شرط پر کہ وہ اس گھرکے ثمن سے ہزار روپے ادا کرے گا پھراس نے وہ گھر فروخت نہ کیا تو کفیل پر ضمان لازم نہیں  اور نہ ہی گھر کو فروخت کرنا اس پر لازم ہے۔ (ت)
 (۲؎ بحرالرائق        کتاب الکفالۃ الباب الثانی       ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶/ ۲۱۸)
بالجملہ یہ کفالت واستغراق سراسربطلان میں  مستغرق وباطل وبے اثر  وخلاف حق ہیں ان سے اس جائداد پر کوئی مطالبہ اصلا قائم نہیں  ہوسکتا، اوراگر اپنی ذات کو ذمہ دار بنانے کاکوئی لفظ نہ کہا ہو جیسا کہ اکثر یہی ہے تو اس کی ذات وجائداد دونوں  آزاد ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter