Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
170 - 180
مسئلہ ۲۸۳ تا ۲۸۶: ازریاست رام پور مرسلہ میرسید انوارحسین صاحب بذریعہ مرزا نظر بیگ سابق نائب تحصیلدار بریلی ۹ر بیع الآخر ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں  کہ: 

(۱)کفالت بالمال یعنی کوئی شخص کسی کے مطالبہ میں  اپنا مکان مکفول کرے تو یہ کفالت شرعا جائز ہے یانہیں ؟

(۲) نالش بربنائے کفالت بالمال یعنی اس بناء پر کہ کفیل نے اپنا مکان دوسرے کے مطالبہ میں  مکفول کیا تو شرعا قابل سماعت ہے یانہیں ؟

(۳) زید نے ٹھیکہ کسی حقیت کالیا اور عمرو نے بلا استدعا خواہش زید کے اپنا مکان کفالت میں  دے دیاتو اس صورت میں  عمرو مستحق پانے رقم کا زید سے ہے یانہیں  یعنی اس رقم کی ضمانت تبرع اوراحسان سمجھی جائے گی یا کیا؟

(۴) جب کفیل یعنی ضامن خلاف معاہدہ مندرجہ کفالت نامہ کے دیگر نہج پر روپیہ دائن کو اداکرے تووہ مستحق لینے رقم مذکور کا مدیون سے ہے یانہیں ؟ صورت کفالت یہ ہے کہ زید نے ایک موضع مستاجری میں  لیا 

اورعمرو نے اپنا مکان ضمانت میں  مستغرق کرادیا اور ضمانت نامہ میں  یہ لکھا کہ اگر زید کے ذمہ روپیہ باقی مالگزاری کا رہ جائے اور وہ ادانہ کرے تو جائداد مکفولہ سے نیلام جائداد مالک موضع وصول کرلے  مجھ کو نیلام جائیداد مکفولہ میں  کوئی عذرنہ ہوگا زید کے ذمہ کچھ باقی رہے مالک موضع نے بموجب شرط مندرجہ ضمانت نامہ نیلام کرنے کا قصد کیا توعمرو مالک مکان نے اپنے مکان کو خلاف شرط مندرجہ ضمانت کے نیلام نہ ہونے دیا بلکہ روپیہ باقیماندہ ذمگی زید عمرو نے قبل نیلام مالک موضع کو دے دیا اس وجہ سے اس روپیہ کا دینا خلاف دستاویز ضمانت کے وقوع میں  آیا۔ بینوا توجروا
الجواب

(۱)کفالت بالمال تویقینا جائز ہے مگر شرعا اس کے معنی یہ ہیں  کہ زید کا جو مطالبہ مالی عمرو پر ہوا سے اپنے ذمہ پر لے یوں  کہ ایک مال کا مطالبہ عمرو وبکر دونوں  کے ذمہ پر ہو، 

نقایہ میں ہے :
الکفالۃ اما بالنفس وینعقد بکفلت بنفسہ اوعلی اوالی واما بالمال فتصح وان جہل المکفول بہ اذ صح دینہ نحو کفلت بمالک علیہ اوبما یدرکک فی ھذا لبیع ۱؎ (ملتقطا)
کفالت یاتونفس کی ہوتی ہے اور وہ ان لفظوں  سے منعقد ہوتی ہے کہ میں  اس کے نفس کا کفیل بنا ہوں  یا وہ میرے ذمے یا کفالت مال کی ہوتی ہے اور یہ مال مکفول کے مجہول ہونے کے باوجود صحیح ہوجاتی ہے جبکہ دین صحیح ہو مثلا یوں  کہے کہ جو تیرا مال فلاں  پر ہے یا جو تجھے اس بیع میں  حاصل ہوگا میں  اس کا ضامن ہوں ۔ (ملتقطا) (ت)
 (۱؎ مختصر الوقایہ فی مسائل الہدایہ (النقایہ)  کتاب الکفالۃ  نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۲۴۔۱۲۳)
یہ جدید ومحدث طریقہ کہ جہاں  میں  رائج ہے کہ کوئی مکان دکان زمین جائداد کسی کے مطالبہ میں کہ اپنے اوپر یا دوسرے پر ہو مستغرق کرتے ہیں  کہ وہ اس سے اپنا مطالبہ وصول کرے، اور اس جائداد کو مکفول یا مستغرق کہتے ہیں  اور بآنکہ جائداد قبضہ مالک ہی میں  رہتی ہے اس وقت سے مالک کو اس میں  تصرفا ت انتقالیہ بیع وہبہ سے ممنوع جانتے ہیں  اور اگر کرے تو باطل سمجھتے اوردائن کو اس کے واپس لینے کا اختیار بتاتے ہیں  یہ سب محض بدعت واختراع فی الشریعۃ وہوس باطل ومردود ہے شرعا اس جائداد سے کوئی حق دائن کاکسی وقت متعلق نہیں  ہوتا، نہ مالک اس بیع وہبہ سے ممنوع ہوسکتاہے شرع مطہر نے تو ثیق دین کے لئے صرف دو عقد رکھے ہیں ، کفالت ورہن، اس کا رہن نہ ہونا تو بدیہی کہ رہن کی شرط قبضہ مرتہن ہے رہن بے قبضہ کوئی شے نہیں
  قال اﷲ تعالٰی فرھٰن مقبوضۃ ۱؎
 (اللہ تعالٰی نے فرمایا: تو رہن قبضہ کیا ہوا۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم            ۲ /۲۸۳)
بدائع امام ملک العلماء میں  ہے :
وصف سبحنہ وتعالٰی الرھن بکونہ مقبوضہ فیقتضی ان یکون القبض شرطا فیہ صیانۃ لخبرہ تعالٰی عن الخلف ولانہ عقد تبرع للحال فلا یفید الحکم بنفسہ کسائر التبرعات ولو تعاقد اعلی ان یکون الرھن فی یدصاحبہ لایجوز الرہن حتی لو ھلک فی یدہ ولایسقط الدین ولوارادالمرتہن ان یقبضہ من یدہ لیحبسہ رھنا لیس لہ ذٰلک ۲؎۔
اللہ سبحانہ وتعالٰی نے رھن کو مقبوض ہونے کے ساتھ موصوف فرمایا تو یہ اس بات کا مقتضی ہے کہ قبضہ رھن میں  شرط ہو تاکہ اللہ تعالٰی کی خیر خلاف واقع ہونے محفوظ رہے اور اس لئے بھی کہ یہ تبرع و احسان ہے لہذا باقی تبرعات کی طرح یہ خود مفید حکم نہ ہوگا، اوراگر وہ دونوں  اس شرط پر  عقد کرے کہ رہن مالک قبضہ میں رہے گا تو رہن جائز نہ ہوگا یہاں  تک کہ اگر وہ مالک کے قبضہ میں  ہلاک ہوگیا تودین ساقط نہ ہوگا، اوراگرمرتہن ارادہ کرے کہ وہ اس کو مالک کے قبضہ سے لے کر بطور رہن محبوس رکھے تو اس کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں ۔ (ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع    کتاب الرھن فصل اما الشرائط    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۱۳۵)
Flag Counter