Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
169 - 180
عالمگیری میں  ہے:
یحتاج فی الشہادۃ علی المیت اوالغائب الی تسمیۃ الشہود اسم المیت والغائب وابیہا وجدھا وعلی قول ابی یوسف ذکر الاب یکفی کذا فی الذخیرۃ والصحیح ان النسبۃ الی الجد لا بدمنہ کذا فی البحرالرائق ۱؎۔
میت اور غائب پر گواہی کے لئے ضروری ہے کہ گواہ میت اور غائب کا نام ان کے باپ کانام اور ان کے دادا کانام ذکر کریں  اور امام ابویوسف کے قول پر صرف باپ کاذکر کافی ہے ذخیرہ میں یوں  مذکور ہے اور صحیح یہ ہے کہ دادا کی طرف نسبت کرنا ضروری ہے، یونہی بحرالرائق میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الشہادت الباب الثالث    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۴۵۹)
یہاں  بیان ولدیت درکنار جلن خان، چھنو وشیداعلی کی نسبت ، امجد حسین خاں  نوشہ خاں  کی نسبت ولدیت جاننے ہی سے منکر ہے، نہ مشہور علیہم کو ان کے سامنے لاکر شناخت کرائی گئی ایسی مجہول گواہی ناقص ومختل ہے۔

رابع چپراسی کہتاہے گواہان کی زبانی معلوم ہوا کہ ضامن شہر میں  ہیں  یہ سماعی بیان ہے اور ان مستشنیات میں  نہیں  جن میں  شہادت بالتسامع مقبول ہے۔

خامس وہ بھی مجہول ، کون گواہ کس کی زبانی

سادس کہتاہے کہ عورات ضامنان نے کہا تھا چپراسی نے کیونکر جانا کہ یہ کہنے والیاں  عورات ضامنان ہیں 

سابع عورات کا کہنا ضامنوں  کے شہر میں  نہ ہونے کے کیا منافی، گھر میں  نہیں  کہیں  چلے گئے ہر طرح صادق ہے۔

ثامن جلن کابیان کہ چھنو خان کی نسبت کہ بابو کے یہاں  گئے ہیں  سماعی ہے

تاسع وہ بھی مجہول

عاشر لڈن خان ایک لڑکی کے بیان کا حاکی ہے
حادی عشر وہ بھی مجہولہ بلکہ بظاہر نابالغہ بھی 

ثانی عشر امجد حسین کا بیان بھی سماعی ہے

ثالث عشر مجہول، نوشہ خاں  کا معلوم ہوا کیونکر معلوم ہواکس سے معلوم ہوا

رابع عشر شرف الدین کا بیان محض خالی ہے اس سے صرف اتنا نکلتا ہے کہ کوئی ۱۶ دسمبر کو ضامن شہر میں  تھے

خامس عشر ان چھ گواہیوں  میں  یہ بیس نقص ہیں ، چپراسی کے بیان میں  چار یعنی ۴، ۵، ۶، ۷، جلن خاں کے بیان میں  چار ۲، ۳، ۸، ۹۔ چھمن کے بیان میں  دو ۱،۲، شرف الدین کے بیان میں  دو ۲،۱۴۔ لڈن خان کے بیان میں  تین ۲،۱۰،۱۱۔ امجد حسین کے بیان میں  پانچ ۱،۲،۳،۱۲،۱۳۔ 

ان سب سے قطع نظر کرکے ان میں ایک شہادت بھی موافق دعوٰی نہیں ، سماعی ومجہول بیان چپراسی کی تائید میں  جتنی گواہیاں  گزریں  سب مدعا کے اجنبی وبے علاقہ ہیں ، مدعا یہ ہے کہ ضامنوں  نے نوٹس دیکھا یا مضمون نوٹس پر اطلاع پائی اور وقت اطلاع سے سات دن کے اندر مدیون کو حاضر نہ کیا تاکہ حسب شرائط مطالبہ مال ان پر عائد ہو شہادتوں  میں اس کا کون سا حرف ہے، دو دن پہلے ۱۶ دسمبر کو شہر میں  ہونا جوبیان شرف الدین میں  ہے یا ایک دن پہلے روز جمعہ کو شہر میں  رہنا جو بیان چھمن وامجد حسین میں  ہے اس سے  تو خود اس دن بھی شہر میں ہونا لازم نہیں آتا باقی حاصل اس قدر کہ نوٹس آنے سے پہلے اس دن ضامن شہر میں  دیکھے گئے جب نوٹس آئے اور مکان پر چسپاں  ہوئے اس وقت شید اعلی جنگل کوبھینس لے گیا چھنوخان کو سنا کہ بابو کے یہاں  گئے ہیں ، نوشہ خاں کو معلوم ہوا کہ قلعہ کو گئے ہیں  ان سے زیادہ کوئی حرف بھی شہادتوں  میں  ہے اس میں  اصل مقصود یعنی جنگل یا بابو کے پا س یا قلعہ سے ضامنوں  کے لوٹ کر مکان پر آنے اور مضمون نوٹس پر اطلا ع ہونے پر شہادت کہاں  ہے کیا قبل آویزانی نوٹس جنگل وغیرہ میں  ہونا اسے وجوبا مستلزم ہے کہ پلٹ کر بھی آئیں  اور مضمون پر اطلاع پائیں  کیا ممکن نہیں  کہ وہی وقت ضامنوں  کے باہر جانے کا ہو، جاتے وقت چھنوں  خان بابو سے ملا، نوشہ خاں  قلعہ میں  گیا، شیدا علی جنگل میں  بھینس کسی کو سپر کرنے گیا، اور ان کاموں  سے فارغ ہوکر ویسے ہی  باہر جہاں  جہاں  جانا تھا چلے گئے اور اس روز واپس آئے جس دن وہ اپنا آنا بتاتے ہیں ، کیا ہزار بار ایسا نہیں  ہوتا کہ آدمی شہرسے  جاتے وقت شہرمیں  کہیں  ہوتا جائے، اور جب یہ یقینا ممکن ہے اور شہادتوں  میں  اس کے خلاف کوئی حرف نہیں  تو شہادات موافق دعوٰی کب ہوئیں  لہذا واجب الرد ہیں ، الشہادۃ ان وافقت الدعوی قبلت والالا (شہادت اگر دعوی کے موافق ہو تو قبول کی جائے گی ورنہ نہیں ۔ ت) اگریہ کہئے کہ اگر چہ اس دن ان کی واپسی واطلاع مضمون جو مدعاہے شہادات سے ثابت نہیں  مگر ظاہر تو ہے کہ ایسا ہی ہوا ہو، ہوا ہو سے دعوی ثابت نہیں  ہوتا اور اگر اس کا ظاہر ہونا تسلیم بھی کرلیں  توقاعدہ مستمرہ فقہیہ ہے کہ الظاہر یصلح حجۃ للدفع لاللا ستحقاق (ظاہر دفاع کےلئے حجت ہے نہ استحقاق کے لئے۔ ت) پھر کس بنا پر اسے استحقاق مال کی حجت بناسکتے ہیں  لاجرم حکم شرعی یہی ہے کہ ضامنین صورت مذکورہ میں  ضمانت نفس وضمانت مال دونوں  سے مطلقا بری ہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter