Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
168 - 180
ردالمحتارمیں  ہے :
قلت وینبغی عدم الفرق بین الصور الثلث فی زماننا (ای مااذا قال شہرا اوالٰی شہر اومن الیوم الی شہر) کما ھو قول ابی یوسف والحسن لان الناس الیوم لایقصدون بذٰلک الاتوقیت الکفالۃ بالمدۃ وانہ لاکفالۃ بعدہا وقد تقدم ان مبنی الفاظ الکفالۃ علی العرف والعادۃ ان لفظ عندی للامانۃ وصار فی العرف للکفالۃ بقرینۃ الدین وقالوا ان کلام کل عاقدوناذرٍ وحالف و واقف یحمل علی عرفہ سواء وافق عرف اللغۃ اولا ۱؎ الخ
میں  کہتاہوں  ہمارے زمانے میں  ان تینوں  صورتوں  میں  فرق نہیں  ہونا چاہئے (یعنی اگر کہے ایک مہینہ یا ایک مہینے تک یا آج سے ایک مہینے تک ) جیسا کہ امام ابویوسف اورحسن کا قول ہے کیونکہ آج کل لوگ  اس سے سوائے کفالت کی توقیت بالمدۃ کے کچھ ارادہ نہیں  کرتے اور یہ کہ اس مدت کے بعد کفالہ نہیں  اور تحقیق گزرچکا ہے کہ کفالہ کے الفاظ کا دارومدار عرف اورعادت پرہے۔ بیشک لفظ "عندی" امانت کے لئے ہے مگر عرف مین دین کے قرینہ کے ساتھ کفالہ کےلئے ہوگیا، اور فقہاء نے کہا کہ ہر عقد کرنے والے، نذر ماننے والے، قسم کھانے والے اور وقف کرنے والے کا کلام اس کے عرف پر محمول ہوگا چاہے اس کا عرف لغت کے موافق ہو یا نہ ہو الخ (ت)
(۱؎ ردالمحتار        کتاب الکفالۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۲۵۵)
وانا اقول :(اورمیں  کہتاہوں ) حقیقت امر یہ ہے کہ ظاہر الروایۃ کوان  واقعات سے اصلا تعلق نہیں  ان میں  بلا شبہہ روایت امام ابی یوسف ہی پر افتاء وحکم واجب ہے اور اس کا خلاف محض باطل، آخر اس قدر پر تو اجماع ہے کہ ایجاب رکن کفالت ہے اور جب عر ف میں  قطعا یقینا دس روز تک یا فلاں  تاریخ تک کفیل ہونے سے یہی معنی مقصود مراد مفہوم ومفاد ہوتے ہیں  کہ کفالت اس وقت تک موقت کی جاتی ہے اس کے بعد کفالت نہیں  تو بالیقین کفیل نے ہرگز ایجاب نہ کیا مگر کفالت موقتہ ممدود کا ، اب اگر بعد اس وقت وحد کے کفالت باقی مانیں  تو یہ وہ کفالت ہے جس کا ایجاب ہر گز نہ ہوا، اور کوئی عقد بے اپنے رکن کے محقق ہونا بالاجماع باطل ہے تو ظاہر الروایۃ کو ہمارے عرف دائر سائر سے اصلا تعلق نہیں  اور یہاں  اس پر حکم سراسر مقاصد شرع سے جدا وظلم ہوگا، ولہذا علامہ محقق نے فرمایا:
ماذکرہ الامام النسفی مبنی علی ان المذکور ظاہر الروایۃ انما ھو حیث لاعرف اذ لا وجہ للحکم علی المتعاقدین بمالم یقصد أفلیس قضاء بخلاف ظاہر الروایۃ ۱؎۔
امام نسفی نے جو ذکر فرمایا وہ اس بات پر مبنی ہے کہ مذکور ظاہر الروایۃ وہاں  ہے جہاں  کوئی عرف نہ ہو کیونکہ متعاقدین پر ان کے مقصود کے خلاف حکم کی کوئی وجہ نہیں  چنانچہ یہ ظاہر الروایۃ کےخلاف قضاء نہ ہوئی۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    کتاب الکفالۃ مطلب فی الکفالۃ الموقتۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۲۵۵)
پس صورت مستفسرہ میں  قطعا حکم یہی ہے کہ ۱۸ فروری کے بعد کفالت نہ رہی، بالجملہ اسی مسئلہ میں  حق ناصح یہ ہے کہ کفالت بالنفس تو ۱۸ فروری کو جزماً حتماً ختم ہوگئی اوراس کے بعد مطالبہ ظلم ہے اور لفظ مطالبہ سے کفالت بالمال کا ایجاب محض بے دلیل ہے اگرچہ ۱۸ فروری سے پہلے فرار ثابت بھی ہو اوراگر اس کا ثبوت نہ ہو جب تو مطالبہ مال کا معنی مجازی پر بھی اصلا احتمال ہی نہیں ، غرض صورت مستفسرہ میں  کفالت بالنفس یقینا زائل اور خالد پر مطالبہ مال کا بھی حکم باطل یہ حکم قضا ہے، رہی دیانت اگر فی الواقع خالد نے مطالبہ سے مال مراد لیا، اور یہی مقصود مفہوم ہوا اور ۱۸ سے پہلے فرار کی شرط محقق ہوئی او رہندہ کا زید پر دین دین صحیح تھا تو عنداللہ خالد پر مال لازم آچکا اگرچہ قاضی بوجہ مذکورہ حکم نہیں  کرسکتا اللہ سے ڈرے اور بیجا حیلہ وعذر نہ کرے اور اگر ان تینوں  امر سے ایک بھی منتفی ہو تو عنداللہ بھی وہ مطالبہ مال سے بری ہے، ھذا ھوالتحقیق واﷲ ولی التوفیق وھوسبحانہ وتعالٰی اعلم (یہ ہی تحقیق ہے اور اللہ تعالٰی مالک توفیق ہے اور وہ سبحنہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔ ت)
مسئلہ ۲۸۱: ازرام پور مقام مذکور ۷ ربیع الاول شریف ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید ہندہ دائنہ کے لئے ایک مدت معہودہ تک عمرو مدیون کا کفیل بالنفس ہوا اور حسب تعارف ومعنی مقصودومفہوم بین الناس اس مدت کے گزرنے تک انتہائے کفالت قرار پایا زید نے اس کفالت کے ضمن میں  یہ بھی کہا تھا کہ اگر مدیون اس مدت تک شہر سے بھاگ جائے تومیں  مطالبہ مدعیہ کا ذمہ دارہوں ، اب کہ مدت گزرگئی اور کفالت بالنفس ختم ہوچکی تو آیا وہ کفالت بالمال بھی جو اس کے ضمن میں  ذکر کی تھی اس کے ختم سے منتہی ہوگئی یا وہ باقی رہے گی بینوا توجروا
الجواب :ہاں  صورت مستفسرہ میں  کفالت بالنفس کے ختم ہوتے ہی کفالت بالمال بھی ختم ہوگئی کہ یہ اسی کی تاکید وتوثیق کے لئے اس کی تابع محض تھی جب اصل نہ رہی یہ بھی نہ رہی۔
کیف وان زوال الموقتۃ بمرورالوقت زوال من کل وجہ کالابراء فیعمل فی الاصل والفرع جمیعا بخلاف موت المطلوب لعدم وضعہ للفسخ کما بینہ فی الفتح وغیرہ۔
کیسے کفالت بالمال ختم نہ ہوگی حالانکہ وقت گزرنے کے سبب سے کفالت موقتہ کا زوال ہر لحاظ سے اس کا زوال ہوتاہے جیسے کہ بری کرنا لہذا وہ اصل وفروع دونوں میں  عمل کرے گا بخلاف مطلوب کی موت کے کیونکہ اس کی وضع فسخ کے لئے نہیں  ہے جیسا کہ فتح وغیرہ میں  اس کو بیان کیاہے۔ (ت)
درمختارو ردالمحتارمیں ہے :
لوابراہ عنہا فلم یواف بہ ولم یجب المال لفقد شرطہ وھو بقاء الکفالۃ بالنفس ۱؎۔
اگر طالب نے کفیل کو کفالت نفس سے بری کردیا اور اس نے ادائیگی نہیں  کی توکفیل پر مال دینا واجب نہ ہوگا کیونکہ اس کی شرط یعنی کفالت نفس کی بقاء فوت ہوگئی ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الکفالۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۶۱)

(ردالمحتار  کتاب الکفالۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۵۹)
حواشی ہدایہ میں ہے :
الکفالۃ بالنفس اذا سقطت وجب ان یسقط مایترتب علیہا من الکفالۃ بالمال لکونہا کالتاکید لہا ولیست بمقصودۃ ولہذا لوابرأ الکفیل الطالب عن الکفالۃ بالنفس قبل انقضاء المدۃ بطلت الکفالۃ بالمال ۲؎۔واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
جب کفالت بالنفس ساقط ہوجائے تو اس پر مرتب ہونے والی کفالۃ بالمال کا ساقط ہونا واجب ہے کیونکہ وہ تو کفالت نفس کی تاکید ہے مقصو دنہیں ، یہی وجہ ہے کہ اگر مدت گزرنے سے پہلے طالب نے کفیل کو کفالت نفس سے بری کردیا کفالت بالمال باطل ہوجائے گی، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ حواشی ہدایہ  کتاب الکفالۃ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۱۱۵)
مسئلہ ۲۸۲: از ریاست رامپور مسئولہ حاجی نوشہ علی وشید اعلی وچھنو    ۲۸ ربیع الآخر ۱۳۳۴ھ

(زید) ڈگری دارنے بصیغہ اجراء ڈگری (عمرو) اپنے کو گرفتار کرایا بکر وخالد وحامد عمرو مدیون کی حاضری عدالت کے بلا تعین تاریخ حاضر ضامن ہوئے اور ضمانت نامہ بایں  شرائط لکھا گیا کہ جس تاریخ کو عدالت (عمرو) مدیون کو طلب کرے گی ضامنان اس کو حاضرکریں  گے اگر نہ حاضر کریں  گے تو زر ڈگری ذمگی مدیون مذکور ادا کریں  گے ضمانت نامہ مذکورہ بعد تکمیل شامل مسل ہوکر مدیون سپرد ضامنان کیا گیا ہر سہ ضامنان اپنی اپنی ضرورتوں  سے حدود عدالت مذکور یعنی اپنے مسکنوں  سے باہر دور دراز چلے گئے ان کی عدم موجودگی میں  عدالت سے ایک حکم اس مضمون کا جاری ہواکہ تاریخ اطلاع یابی حکم ہذا سے ایک ہفتہ کے اندر مدیون کو حاضر عدالت کریں ، یہ حکم بوجہ عدم موجودگی ضامنان ان کے مکانوں  پرآویزان ہوا ہے کسی ضامن کی ذات پر حکم مذکورکی تعمیل نہیں  ہوئی ہے میعاد ہفتہ مندرجہ حکم مذکور گزر جانے پرڈگری دارنے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ضامنان نے مدیون کو میعا د مقررہ عدالت کے اندر نہیں  حاضر کیا ہے پس بموجب شرط مندرجہ ضمانت نامہ ڈگری کا ایفاء ضامنان سے کرایا جائے اور بذریعہ قرقی ونیلامی جائداد ضامنان زرڈگری وصول کرایا جائے اورضامنان کے قصورنہ حاضر کرنے مدیون کی تائید میں  چنداشخاص کے بیانات عدالت میں  کرائے ہیں  جنہوں نے بحلف بیان کیا ہے کہ تاریخ تعمیل حکمنامہ مجریہ عدالت پر ہم نے ضامنان کو اسی شہر میں  جوان کا مسکن ہے دیکھا ہے اس شہادت کے پیش نظر ہونے پر عدالت سے حکم قرقی مال احدالضامن جاری ہوا ہے اور قرقی حسب قاعدہ عمل میں  آئی ہے قرقی سے دوسرے روز ہر سہ ضامنان نے مدیون کو حاضر عدالت کیا ہے اور میعاد مندرجہ حکم مجریہ عدالت کے اندر نہ حاضر کرنے مدیون کی نسبت یہ عذر کیا ہے کہ ہم ضامنان اپنے مسکنوں  پر اس شہرمیں  موجود نہیں  تھے بلکہ اپنے مسکنوں  سے باہر دور دراز گئے ہوئے تھے اس وجہ سے ہم کو اطلاع اجراء حکم عدالت کی نہیں  ہوئی بہ یوم قرقی واپس آئے ہیں  اور فعل قرقی سے علم اجرائے حکم عدالت کا ہواہے کہ بہ مجرد علم دوسرے ہی روز مدیون کو فورا عدالت میں حاضر کردیا ہے علم طلبی مدیون کے بعد کوئی توقف منجانب ضامنان وقوع میں  نہیں  آیاہے اور اپنے عذر عدم موجودگی شہر یعنی بہ مساکن خودہا موجودگی مقامات دیگر کی تائید میں  ہر سہ ضامنان نے حلف نامہ جات اقراری خود ہا عدالت میں  داخل کئے ہیں  کہ عدالت نے مدیون حاضر کردہ کو ضامنان سے لے کرجیل خانہ دیوانی میں  بھیج کر ضمانت بالنفس سے تو ضامنان کو بری کردیا ہے مگر ضمانت بالمال کا مواخذہ ضمان پر قائم رکھا ہے پس سوال قابل تصفیہ یہ ہے کہ جبکہ عدالت سے ضمانت کے وقت یا ضمانت نامہ میں کوئی تاریخ حاضر ی مدیون کی معین ومقرر نہیں  ہوئی تھی اورحکم مجریہ عدالت جس کے ذریعہ سے طلبی مدیون کی ضامنان سے ہوئی ہے ضامنان کی ذات پر تعمیل نہیں  ہواہے اور اسی حکم مجریہ عدالت میں  بھی حاضری مدیون کے لئے کوئی تاریخ معین ومقرر نہیں  کی گئی ہے بلکہ حکم مذکور کے یہ الفاظ ہیں  (تاریخ اطلاع یابی حکم ہذا سے ایک ہفتہ کے اندرمدیون کو حاضر عدالت کرو) اور ان کا روائیات کے مقابلہ میں  ضامنان بذریعہ حلف نامجات تاریخ اجراء حکمنامہ عدالت اور اس میعاد ایک ہفتہ کے اندر جو اس میں  نسبت حاضری مدیون مقرر تھی اپنی عدم موجودگی بمسکنہائے خودہا وموجودگی بمقامات دیگر جو بفاصلہ واقع ہیں  ظاہر وثابت کرتے ہیں  توکیا ان حالات کی موجودگی میں  بھی ضامنان پر مواخذہ ضمانت بالمال کا شرعا عائد وقائم رہ سکتاہے درحالیکہ مدیون کو بھی بمجرد علم طلبی عدالت حاضر عدالت کردیا اور وہ جیل خانہ دیوانی میں  بھی بھیج دیا گیا ہے او رقید بھگت رہا ہے یایہ کہ بحالت مذکورہ بالا ضامنان پر مواخذہ ضمانت بالمال کا شرعا قائم وباقی نہیں  رہ سکتا ہے اور وہ سبکدوش ہوسکتے ہیں ۔
الجواب

دارالافتاء نے بیان سائل پر اکتفانہ کرکے اظہارات گواہان کی نقول باضابطہ طلب کیں  جو سال ۱۳ جمادی الاولٰی کو حاضر لایا وہ سات گواہ ہیں  جن میں ایک ہندو ہے اس کی شہادت تو مسلمانو ں پر اصلا مسموع نہیں  لہذا اس سے بحث فضول ہے باقی چھ کا خلاصہ یہ ہے:

(۱)گمن خاں  چپراسی مظہر نے بتاریخ ۱۸ دسمبر تین قطعہ نوٹس بمکان شیخ چھنو شید ا علی ونوشہ خان چسپاں  کردئے اس لئے کہ گواہان کی زبانی مظہر کو معلوم ہوا کہ ضامن شہرمیں  نہیں  نوٹس کی خبر معلوم کرکے روپوش ہوگئے ہیں ۔ ہنگام دریافت عورات ضامنان نے کہا تھا کہ ضامنان گھرمیں  نہیں  کہیں  چلے گئے ہیں 

(۲) جلن خان گواہ تعمیل نوٹس ۴ جنوری عرصہ ۱۸ یا ۱۹ دن کا ہوا مظہر اپنے کھیتوں  پر جارہا تھا چھنو خان کے مکان پر شیداعلی نوشہ خاں  کھڑے تھے مظہر جنگل کو چلا گیا پھر جس وقت ادھر سے لوٹ کر آیا اس وقت گمن خاں  نے کاغذ کچہری کے چھنوخاں  کے مکان پر وہ لگادئے مظہر چھنوخاں  اور شیدا علی کی ولدیت نہیں  جانتا ان دونوں  کو پہچانتاہے بجواب سوال کچہری بیان کیا جس وقت کاغذ چسپاں  ہوئے ہیں  اس وقت شیدا علی جنگل کو بھینس لے کر گیا تھا اور چھنو خاں  کی نسبت سنا کہ بابو کے یہاں  گئے ہیں 

(۳) چھمن گواہ تعمیل نوٹس کوئی انتیس دن کا عرصہ ہوا جمعہ کے روز مظہر اپنے گھر کے باہر کھڑ اتھا وقت دن کے ۱۰ ، ۱۱ بجے کا تھا شیدا علی وچھنو پسران چھٹن اپنے گھر کے پاس کھڑے باتیں  کررہے ہیں ، تھوڑی دیر کے بعد اسی روز گمن خاں  شیدا علی وچھنو مذکور کے مکان پر دو کاغذ لگارہے تھے اس وقت شیدا علی جنگل کو بھینس لے گیا تھا اور چھنو کہیں گیا تھا

(۴) شرف الدین، عرصہ کوئی ۱۹ دن کا ہوا چھنوخاں  شیدا علی خاں  پسران چھٹن خاں  نوشہ ولد بنن خان بیٹھے کنوین کے پاس جہاں  چھنوخاں  وشیدا علی خاں  کا مکان ہے کھڑے باتیں  کررہے تھے بس مظہر نے اتناہی دیکھا

(۵) لڈن خاں ، کوئی ۱۹ دن ہوئے گمن خاں  سمن لئے محبوب جان کی مسجد کے پاس کھڑے تھے اور بھی کئی آدمی تھے مذکوری نے کہا نوشدخاں  کے گھرپر چسپاں  کرتاہوں  مذکوری نے نوشہ خاں  ولدبنن خان کےگھر پر آواز دی کہ نوشہ خاں  کہاں  ہیں  گھر میں سے ایک لڑکی نکلی اس نے کہا یا تو بابوجی کے یہاں گئے ہوں  گے یا قلعہ کو، مذکوری نے سمن  نوشہ خاں  کے گھر پر چسپاں  کردیا مظہر چلا گیا

(۶)امجد حسین، چپراسی سمن لئے محبو ب جان کی مسجد کے پاس ۱۹ روز ہوئے جمعہ کے دن پھر رہے تھے نوشہ خاں  کو معلوم ہوا کہ قلعہ کو گئے ہیں  مذکوری نے نوشہ خان کے مکان پر سمن چسپاں کردیا ، مظہر چلا گیا۔ مظہر نوشہ خاں  کی ولدیت نہیں  جانتا ان کو پہنچانتا ہے، یہ تمام شہادتیں  بوجوہ کثیرہ محض ناکافی ہیں ۔

اول چپراسی ۱۸ دسمبر کو سمن چسپاں  کرنا بتاتاہے اور چھمن اور امجد حسین جمعہ کے دن ۱۸ دسمبر کو شنبہ تھا نہ کہ جمعہ ۔

ثانی یہ شہادتیں  چوتھی جنوری کوہوئیں ، حسب بیان چپراسی آویزانی سمن کو اس وقت تک سترہ دن ہوئے تھے، امجد حسین ۱۹ دن کہتاہے لڈن اور شرف الدین کوئی ۱۹ دن ، اور اظہار چھمن کے باضابطہ نقل میں  صاف انتیس دن لکھے ہیں ، جلن خاں  ۱۸ یا ۱۹ کہتاہے، یوں  بھی کم از کم وہی جمعہ کا دن پڑتا ہے ۔

ثالث شہادت علی الغائب میں  بیان ولدیت بالاتفاق لازم ہے اور ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب میں  تو بیان جد بھی ضرور ہے جبکہ صرف ولدیت موجب  معرفت نہ ہو،اور یہی صحیح ہے۔
Flag Counter