Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
167 - 180
بزازیہ میں  ہے :
اذا کان المکفول لہ غائبا فہی باطلۃ خلافا للثانی ۲؎۔
جب مکفول لہ غائب ہو تو کفالت باطل ہے بخلاف امام ثانی (ابویوسف) کے۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ   کتاب الکفالۃ نوع آخر     نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/۶)
جامع الفصولیں  وانقرویہ میں ہے :
لاتصح الکفالۃبلاقبول الطالب ۳؎۔
طالب کے قبول کئے بغیر کفالت صحیح نہیں ۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی انقرویہ  کتاب الکفالۃ          داراشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان ۱/ ۳۱۷)
تنویر میں ہے :
لاتصح (الکفالۃ) بلا قبول الطالب فی مجلس العقد ۴؎
مجلس عقدمیں  طالب کے قبول کئے بغیر کفالت صحیح نہیں ۔(ت)
(۴؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب الکفالۃ  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۶۳)
منح الغفار میں  امام طرطوسی سے ہے:
الفتوی علی قولہما ۵؎
 (فتوی طرفین کے قول پر ہے۔ ت)
 (۵؎ درمختار بحوالہ طرطوسی       کتاب الکفالۃ  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۶۳)
ردالمحتارمیں ہے :
واختارہ الشیخ قاسم حیث نقل اختیار ذٰلک عن اھل الترجیح کالمحبوبی والنسفی وغیرہما و اقرہ الرملی وظاھر الہدایۃ ترجیحہ لتاخیرہ دلیلہما وعلیہ المتون ۶؎ اھ ومن المتقرران الفتوی متی اختلف وجب المصیر الی قول الامام مالم یکن الاختلاف اختلاف الزمان و ان المتون مقدمۃ علی غیرہا فترجح من وجہین ولیس من العلم، العدول عن الراجح الی المرجوح کما قد تبین فی محلہ
اور شیخ قاسم نے اس کو اختیار کیا کیونکہ انہوں  نے اہل ترجیح سے اس کا مختار ہونا نقل کیا جیسے محبوبی اور نسفی وغیرہ اورخیرالدین رملی نے اس کو برقرار رکھا۔ اورظاہر ہدایہ سے بھی اس کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، کیونکہ صاحب ہدایہ نے طرفین کی دلیل کو مؤخر کیا اور اسی پرمتون وارد ہیں  الخ اور یہ بات مسلم ہے کہ فتوٰی میں  جب اختلاف ہو تو امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول کے طرف رجوع لازم ہوتاہے جبکہ وہ اختلاف اختلاف زمانہ کی وجہ سے نہ ہو، اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ متون غیر متون پرمقدم ہیں  تو دو وجہوں  سے اس کو ترجیح ہوگئی اور راجح سے مرجوح کی طرف عدول کرنا علم نہیں  جیسا کہ اپنے محل میں  واضح ہوچکا ہے۔(ت)
 (۶؎ ردالمحتار        کتاب الکفالۃ    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۲۹)
سراجیہ میں ہے :
اذا قال لقوم اشہدواانی کفیل فلان بنفس فلان والمکفول بہ حاضر و الطالب غائب فالکفالۃ باطلۃ فان قبل انسان عنہ توقف علی اجازتہ ۱؎۔
جب کسی نے قوم سے کہا کہ گواہ ہوجاؤ  میں  فلاں  کے لئے فلاں  کے نفس کا کفیل ہوں درانحالیکہ مکفول یہ حاضر اورمکفول لہ غائب ہوتو کفالہ باطل ہے اگرکسی شخص نے مکفول لہ کی طرف سے قبول کیا تو اس کی اجازت پر موقوف ہوگا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی سراجیہ    کتاب الکفالۃ    نولکشور لکھنؤ    ص۱۲)
ہندیہ میں  محیط سے ہے :
رکنہا الایجاب والقبول عند ابی حنیفۃ ومحمد وہو قول ابی یوسف اولاحتی ان الکفالۃ لاتتم بالکفیل وحدہ سواء کفل بالمال اوبالنفس مالم یوجد قبول المکفول لہ اوقبول الاجنبی عنہ فی المجلس العقد امااذا لم یوجد شیئ من ذلک فلا تقف علی ماوراء المجلس حتی لو بلغ الطالب فقبل لم تصح ۲؎ اھ مختصرا
کفالہ کارکن امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنما کے نزدیک ایجاب وقبول ہے اور امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کا پہلا قول بھی یہی ہے یہاں  تک کہ اکیلے کفیل سے کفالہ تام نہیں  ہوتا چاہے مال کا کفیل ہے یا نفس کا جب تک کہ مجلس عقد میں  مکفول لہ یا اس کی طرف سے کوئی اجنبی شخص قبول نہ کرے اور جب ان دونوں  میں  سے کسی کی طرف سے قبول نہ پایا گیا تو کفالہ مجلس سے خارج پر موقوف نہ ہوگا یہاں  تک کہ اگر طالب (مکفول لہ) کو اس کی خبر پہنچی اور اس نے قبول کرلیا تو صحیح نہ ہوگا اھ اختصار (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکفالۃ الباب الاول    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۲۵۲)
یہاں  کفالت بالنفس اگرچہ نائب حاکم نے قبول کرلی جس کے لئے اگر جانب ہندہ سے حاضر ضامنی لینےکی توکیل ثابت ہو تو نافذاً واقع ہوئی ورنہ اجازت ہندہ پر موقوف رہی مگر مجلس عقد میں  کفالت بالمال کا قبول اصلا کسی سے واقع نہ ہوا اور اسے قرار دیا مستقلہ کہ طے کفالت بالنفس من ۔۔ (عہ) ۔۔۔ لاجرم کفالت مال باطل محض ہوگئی اور کسی وجہ پرایجاب مال کی صورت نہ رہی بالجملہ تحقیقاً والزاماً ہر طرح یہاں  کفالت بالمال ممنوع ومدفوع ہی رہی کفالت بالنفس یہاں انظار ظاہرہ کا حصہ اس قدر کہ اگر چہ ظاہر الروایۃ وہ ہے مگر روایت امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ اوفق بالعرف ہے اور کلام کا عرف متکلم پر حمل واجب تو یہی مرجح ہے اور اسی پر حکم وافتامناسب،
عہ:  فی الاصل ھکذا واظنہ کہ کفالت بالنفس کے ضمن میں  حاصل نہیں  ہوسکتی۔
خلاصہ وانقرویہ میں ہے :
قول ابی یوسف اشبہ بعرف الناس ۱؎۔
امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کا قول عرف کے زیادہ مناسب ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی انقرویہ    کتاب الکفالۃ    داراشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان    ۱ /۳۱۷)
تتمہ وصغری وانقرویہ میں ہے :
ھوا شبہ بعرفنا ونفتی انہ اذا مضت المدۃ المذکور فالقاضی یخرجہ عن الکفالۃ ۲؎۔
وہ ہمارے عرف کے زیادہ مناسب ہے اور ہم فتوٰی دیتے ہیں  کہ جب مدت مذکورہ گزر جائے تو قاضی اس کو کفالہ سے خارج کردے۔ (ت)
 (۲؎ حواشی فتاوٰی انقرویہ    کتاب الکفالۃ    داراشاعۃ العربیہ قندہار افغانستان    ۱ /۳۱۷)
ذخیرہ میں ہے :
قال وکان القاضی الامام اجل ابوعلی النسفی یقول قول ابی یوسف اشبہ بعرف الناس اذا کفلوا الی مدۃ یفہمون بضرب المدۃ انہم یطالبون فی المدۃ لابعدھا ۳؎ الخ
قاضی امام الاجل ابو علی النسفی فرماتے تھے کہ امام ابویوسف کا قول لوگوں  کے عرف کے زیادہ مناسب ہے کیونکہ لوگ جب کسی مدت تک کفیل بنیں  تو وہ بیان مدت سے ہی سمجھتے ہیں  کہ مدت کے اندر ان سے مطالبہ کیا جائے گا نہ کہ اس کے بعد الخ۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتاربحوالہ ذخیرہ   کتاب الکفالۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۲۵۵)
خانیہ میں ہے :
قال شمس الائمۃ الحلوانی فی قول ابی یوسف انہ یطالب الکفیل بتسلیم النفس فی الایام الثلثۃ ولایطالب بعد ھا اشبہ بعرف الناس ۱؎۔
شمس الائمہ حلوانی نے کہا امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول کہ کفیل سے تسلیم نفس کا مطالبہ تین دن کا

اندر کیا جائے گا بعد میں  نہیں  لوگوں  کے عرف کے زیادہ مناسب ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب الکفالۃ    نولکشور لکھنؤ        ۳ /۵۸۳)
اسی میں ہے :
قال شمس الائمۃ الحلوانی کان القاضی الامام الاستاذ ابوعلی النسفی یقول کان الشیخ الامام ابوبکر محمد بن الفضل یعجبہ ھذہ الروایۃ وکان یقول لوقال بالفارسیۃ پذیرفتم تن فلاں  راتادہ روز یصیر کفیلا فی الحال واذا مضت المدۃ لایبقی کفیلا ولوقال پذیرفتم تن فلاں  رادہ روزیصیر کفیلا بعد عشرۃ ایام، و بعض المشائخ قالوا اذا قال پذیرفتم تن فلاں  راتادہ روز ولم یسلم حتی مضت عشرۃ ایام یرفع الکفیل الامر الی القاضی حتی یخرجہ عن الکفالۃ وبہ کان یفتی الشیخ الامام الاجل ظہیرا لدین ویحکی ذٰلک عن جدی رحمہم اﷲ تعالٰی ۲؎۔
شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا قاضی امام استاذ ابوعلی نسفی فرمایاکرتے تھے کہ شیخ امام ابوبکر محمد بن فضل اس روایت کو پسند کرتے اور کہتے تھے کہ اگر کسی نے فارسی میں  کہا کہ میں  نے دس روز تک فلاں  کے بدن کو قبول کیا تو وہ فی الحال کفیل بن جائے گا اور جب مدت گزر جائے گی تو دس دن کے بعد وہ بطور کفیل باقی نہ رہے گا، اوراگر کہا کہ میں  نے دس روز فلاں  کے بدن کوقبول کیا تو وہ دس دن کے بھی کفیل رہے گا، اوربعض مشائخ نے کہا اگر کسی نے یوں  کہا کہ میں  نے فلاں  کے بدن کو دس دن تک قبول کیا پھر دس دن گزرگئے اور اس نے مطلوب کو طالب کے حوالہ نہ کیا تو اب کفیل یہ مطالبہ قاضی کے پاس لے جائے گا تاکہ وہ اس کو کفالت سے خارج کردے، اسی پر شیخ امام اجل ظہیر الدین فتوٰی دیتے تھے اور میرے جدا مجد سے بھی یہی منقول ہے اللہ تعالٰی اب سب پر رحم فرمائے۔ (ت)
(۲؎فتاوٰی قاضی خان    کتاب الکفالۃ    نولکشور لکھنؤ    ۳ /۵۸۴)
Flag Counter