فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
166 - 180
فتاوٰی خانیہ وظہیریہ وخزانۃ المفتین میں ہے :
الکفالۃ متی جعلت الی اجل فانما یصیر کفیلا بعد انقضاء الاجل ۱؎۔
کفالت جب کسی مدت تک ٹھہرائی جائے تو اس مدت کے گزرنے کے بعد کفیل بنے گا۔ (ت)
(۱؎ خزانۃ المفتین کتاب الکفالۃ الباب الثانی قلمی نسخہ ۲/ ۵۹)
سراجیہ میں ہے :
کفل بنفسہ الی شھر یصیر کفیلا بعد شھر ھو الاصح۲۔
اگر ایک ماہ تک کسی کا کفیلِ نفس بنا تو ماہ کے گزرنے کے بعد کفیل بنے گا اور وہی صحیح ہے (ت)۔
(۲؎ فتاوٰی سراجیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نولکشور لکھنو، ص۱۲۹)
خانیہ میں ہے :
رجل کفل بنفس رجل الی ثلثۃ ایام ذکرفی الاصل انہ یصیر کفیلا بعد الایام الثلثۃ وقال الفقیہ ابوجعفر یصیر کفیلا فی الحال قال وذکر الایام الثلثۃ لتاخیر المطالبۃ الی ثلثۃ ایام، وغیرہ من المشائخ اخذوابظاہر الکتاب وقالوا لا یصیر کفیلا فی الحال واذا مضت الایام الثلثۃ قبل تسلیم النفس یصیر کفیلا ابدالا یخرج عن الکفالۃ مالم یسلم۱؎ اھ مختصرا
ایک شخص دوسرے کے نفس کاتین دن تک ضامن ہوا تو اصل میں مذکور ہے کہ تین دن گزرنے کے بعد کفیل بنے گا، اور فقیہ ابوجعفر نے کہا کہ فی الحال کفیل بن جائے گا اور ایام ثلثہ کاذکر تین دن تک مطالبہ کی تاخیر کے لئے ہے اور فقیہ ابوجعفر کے علاوہ بعض دوسرے مشائخ نے ظاہر کتاب کو اختیار کیا اور کہا فی الحال کفیل نہیں بنے گا پھر جب تین دن گزرگئے اور وہ مکفول لہ کے حوالے اس شخص کونہ کرسکا جسکا ضامن بنا تھا تو اب ہمیشہ کے لئے کفیل بن جائے گااور جب تک اس شخص کو مکفول لہ کے حوالہ نہ کرے گا کفالت سے خارج نہ ہوگا اھ مختصرا (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخاں کتاب الکفالۃ نولکشورلکھنؤ ۳ /۵۸۳)
علامہ انقروی نے اپنے مجموعہ میں اسے نقل فرماکر وغیرہ من المشائخ اخذ وابظاہر الکتاب ۲؎(اوراس کے علاوہ دیگر مشائخ نے ظاہر کتاب کو اختیار کیا۔ ت) یہ تحریر فرمایا: فی السراجیۃ وہوالاصح و بہ یفتی کذا فی السادس من التاتارخانیۃ وکذا فی التتمۃ ۳؎۔ اور سراجیہ میں ہے کہ وہی اصح ہے اور اسی پر فتوٰی دیاجاتاہے تاتارخانیہ اور تتمہ میں یوں ہی ہے۔ (ت)
کفل الی شہر طالبہ بعد شہر ویصیر کفیلا فی الحال وبہ یفتی ۴؎ اھ ملتقطا
ایک ماہ تک کفیل بنا تو ایک ماہ کے بعد اس کا مطالبہ کرے اور فی الحال وہ کفیل بن جائے گا اور اسی پر فتوٰی دیا جاتاہے اھ التقاط (ت)
(۴؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکفالۃ نوع فی الفاظ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۴)
جامع الفصولین اواخر فصل ثلثین میں ہے :
لوارادان یکفل بنفسہ ولایصیر کفیلا فالحیلۃ علی ظاہر الروایۃ ان یقول کفلت بنفسہ الی شہر علی ان ابرأہ بعدہ فلایصیر کفیلا اصلاللحال فی الظاہر اذ فیہ یصیر کفیلا بعدہ فلما شرط ان یبرأ بعدہ بطل اصلا ۱؎۔
اگر کوئی چاہے کہ دوسرے کا کفیل بالنفس اس طرح بنے کہ درحقیقت کفیل نہ بنے تو ظاہر الروایۃ پر اس کا حیلہ یہ ہے کہ یوں کہے میں اس کے نفس کا ایک ماہ تک کفیل بنتاہوں اس شرط پر کہ بعد میں اس سے بری ہوجاؤں گا تو وہ بالکل فی الحال ہی کفیل نہ بنے گا کیونکہ ظاہرا لروایۃ کے مطابق ایک ماہ کے بعد اس نے کفیل بننا تھا مگر جب یہ شرط لگائی کہ ایک ماہ بعد اس سے بری ہوجائیگا تو کفالت اصلا باطل ہوگئی۔ (ت)
(۱؎ جامع الفصولین الفصل الثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۶)
ہامش انقروی میں ہے :
وہذا الحیلۃ انما تمشی علی ماقال عامۃ المشائخ انہ لایصیر کفیلا فی الحال وہو ظاہر الروایۃ علی ماقالہ ابوجعفر ۲؎۔
اوریہ حیلہ اس بنیاد پر جاری ہے کہ جو عام مشائخ نے کہا وہ فی الحال کفیل نہ ہوگا اوریہی ظاہر الروایۃ ہے، جیساکہ امام ابوجعفر نے کہا۔ (ت)
اورپر ظاہر کہ یہاں اصل مقصود کفالۃ بالنفس تھی وہی مطلوب تھی وہی مکتوب ہوئی، خالد نے لکھا ان سے ضمانت حاضری طلب ہے لہذا میں حاضر ضامن ہوں ، حکم لکھا گیا ناظر مدعا علیہ کو سپرد حاضر ضامن کریں کفالت بالمال کا ذکر محض تبعا بغرض توثیق وتاکید اصل کفالت بالنفس واقع ہوا او ر تابع متبوع پر مقدم نہیں ہوسکتا کما فی الدرالمختار (عہ۱) نہ بحال عدم متبوع موجود ہو لہذا ایسی صورت میں جب کفیل کفالت مقصودہ یعنی کفالت بالنفس سے بری ہو کفالت تابعہ یعنی کفالت بالمال سے بری ہوجاتاہے،
عہ۱: فی الاصل بیاض واظنہ الدرالمختار ۱۲ (اصل میں بیاض ہے اور میرے گمان میں یہاں درمختار ہے۱۲۔ ت)
درمختارمیں ہے :
ان قال ان لم اٰت بہ غدا فہو ضامن لما علیہ من المال فلم یواف بہ مع قدرتہ علیہ ضمن المال لانہ علق الکفالۃ بالمال بشرط متعارف فصح ولایبرؤ عن کفالۃ النفس لعدم التنافی فلو ابرأہ عنہا فلم یواف بہ لم یجب المال لفقد شرطہ ۱؎ اھ باختصار
اگر کہا کہ اگر میں اس کو کل نہ لے کر آیا تو اس پر جو مال ہے میں اس کا ضامن ہوں گا اب قدرت کے باوجود اس نے مطلوب کو حاضر نہ کیا تو کفیل اس مال کا ضامن ہوگا کیونکہ اس نے کفالت بالمال کو ایسی شرط کے ساتھ معلق کیا جو لوگوں میں متعارف ہے، تویہ صحیح ہے، اور وہ کفالت نفس سے بھی بری نہ ہوگا کیونکہ ان دونوں میں کوئی منافات نہیں اگر طالب نے اس کو کفالت نفس سے بری کردیا حالانکہ اس نے مطلوب کو حاضر نہیں کیا، تو اب شرط فوت ہوجانے کی وجہ سے مال اس کے ذمہ واجب نہ رہا اھ اختصار۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الکفالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۶۱)
ردالمحتارمیں ہے :
شرطہ ھو بقاء الکفالۃ بالنفس ۲؎۔
اس کی شرط یہ ہے کہ کفالت نفس باقی رہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الکفالۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۵۹)
تو ظاہر الروایۃ کے لحاظ سے ۱۸ فروری تک نہ کفالت بالنفس تھی نہ بالمال، تو اس فرار پرکہ حصول کفالت سے پہلے واقع ہوا ہو الزام مال محض خیال محال۔
وجہ چہارم: اس سے بھی تنزل کیجئے اور بفرض غلط یہ بھی مان لیجئے کہ یہاں کفالت بالمال کفالت مستقلہ غیر تابعہ ہے تو کفالت بالنفس بنظرظاہر الروایۃ گو بعد ۱۸ کے محقق ہو کفالت بالمال اول تھی او ر وہ اس کے حال ثبوت میں فرار واقع ہو ا تو کیوں نہ موجب مال ہوگا مگر یہ خیال خیال اول سے زیادہ فاسد وباطل ہے، ہمارے امام اعظم وامام ثالث رضی اللہ تعالٰی عنہما کے مذہب مفتی بہ میں ایجاب وقبول دونوں رکن کفالت ہیں اگر مکفول لہ مجلس ایجاب میں حاضر نہ ہو اور اسی مجلس میں قبول نہ پایا جائے کفالت باطل محض وبے اثر ہوتی ہے کہ اس کے بعد اگر مکفول لہ کو خبر پہنچے اور وہ قبول بھی کرلے جب بھی اصلا مفید نہیں ،
مبسوط امام محمد سے خلاصہ میں ہے: اذا کفل رجل لرجل والمکفول لہ غائب فہو باطل وقال ابویوسف اخراھو جائز ۳؎۔ اگر کوئی شخص دوسرے کےلئے کفیل بنا درانحالیکہ مکفول لہ غائب ہے تو یہ کفالت باطل ہے اور امام ابویوسف نے دوسرے قول میں فرمایا کہ وہ جائز ہے۔ (ت)
(۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکفالۃ جنس آخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ۴ /۱۶۵)
قدوری وہدایہ میں ہے :
لاتصح الکفالۃ الابقبول المکفول لہ فی المجلس ۱؎
مکفول لہ کے مجلس میں قبول کئے بغیر کفالت صحیح نہیں ہوتی۔(ت)