Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
165 - 180
بزازیہ میں  فرمایا:
الکفالۃ فی اللغۃ الضم وذٰلک قدیکون فی المطالبۃلافی اصل الدین کما فی الوکیل مع المؤکل الدین للمؤکل و المطالبۃ للوکیل ۱؎۔
کفالہ لغت میں  ملانے کو کہتے ہیں  اور وہ کبھی مطالبہ میں ہوتاہے اصل دین میں نہیں  ہوتا جیسے مؤکل کے ساتھ وکیل کہ دین مؤکل کے لئے ہے اور مطالبہ وکیل کے لئے ۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکفالۃ    نورانی کتب خانہ پشاور   ۶ /۲)
اور مطالبہ کے معنی حقیقی طلب وتقاضا اصل زبان عربی میں  بھی اسی لئے وضع ہے اور فارسی واردو میں  بھی اس معنی حقیقی پر عام محاورات میں  علی وجہ الاشتہار دائروسائر، اگرچہ اردو میں  مجازاً آتے ہوئے  مال کو بھی کہتے ہوں ، مطالبہ یعنی مال قابل مطالبہ مگر معنی حقیقی یقینا معروف ومشہور ہیں  جن کی نسبت کسی جاہل کو بھی ہجر کا وہم تک نہیں  ہوسکتا اور اصول فقہ میں  مبرہن ہوچکا کہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک مطلقا اور ایسی جگہ باتفاق ائمہ کرام حقیقت مجاز پر واجب التقدیم ہے جب تک معنی اصلی بنیں  مجاز پر حمل جائز نہیں  تو حاصل کلام خالد صرف اس قدرہوا کہ وہ ۱۸ تک شہر سے بھاگ گئے تو مدعیہ کے لئے ان سے طلب وتقاضے کا میں  ذمہ دار ہوں  اسے کفالت مال سے کچھ تعلق نہیں  بلکہ صرف تقاضے کا وعدہ ہے خالدکو چاہئے زید سے تقاضا کرے نہ یہ کہ زید سے نہ ملے تو خالداپنے پاس سے دے
فی الہندیۃ عن المحیط نوادر ابن سماعۃ عن الامام محمد رضی اﷲ تعالٰی عنہ رجل لہ علی رجل مال فقال رجل للطالب ضمنت لک ماعلی فلان انا اقبضہ منہ وادفعہ الیک قال لیس علی ہذا ضمان المال ان یدفعہ من عندہ انما ہذا علی ان یتقاضاہ و یدفعہ الیہ وعلی ہذا معانی کلام الناس ۱؎ اھ ونحوہ فی الخلاصۃ وغیرہا۔
ہندیہ میں  محیط کے حوالہ سے نوادرابن سماعہ میں  منقول اما م محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ قول مذکور ہے کہ ایک شخص کا دوسرے کے ذمے کچھ مال قرض تھا، ایک تیسرے شخص نے طالب قرض سے کہا جو تمھارا فلاں  پر قرض ہے میں  تیرے لئے اس کا ضامن ہوں ، میں  اس سے وصول کروں  گا اور تجھے دے دوں گا، امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اس پرمال کاضمان لازم نہ ہوگا کہ اپنے پاس سے دے بلکہ یہ مدیون سے طلب کرکے طالب کو دے گا اورانہی معانی پر لوگوں  کاکلام جاری ہے اھ اور خلاصہ وغیرہ میں  اسی کی مثل ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الکفالۃالباب الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۵۷)
امام شمس الائمہ کردری وجیز میں  فرماتے ہیں :
قال للطالب ضمنت لک ماعلی فلان ان اقبضہ منہ وادفعہ الیک لیس بکفالۃ ومعناہ ان یتقاضاہ لہ ویدفع الیہ اذا قبضہ منہ علی ہذا معانی کلام الناس ۲؎۔ اھ
کسی شخص نے طالب دین سے کہا جو تیرا فلاں  پر قرض ہے میں  تیرے لئے اس کا ضامن ہوں کہ اس سے وصول کرکے تجھے دوں  گا تویہ کفالہ نہیں  بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مدیون سے مطالبہ کرے گا اور جب اس سے وصول کرلے گا تو طالب قرض کو دے دیگا اوریہی مطلب ہوتاہے لوگوں  کے کلام کا اھ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی  نورانی کتب خانہ پشاور    ۶ /۸)
نیز اس میں  اور فتاوی انقرویہ وغیرہ میں  ہے :
قال رجل لصاحب المال من ضمان کردم و پذیرفتم کہ باغ ویرافروشم وایں  مال بتودہم اوقال ضمنت ان اخذا لمال من ترکتہ واوفیک لا تصح الکفالۃ وان ضمن علی ان یبیع مال نفسہ ویوفیہ ھذا المقدار صح ویجبر علی البیع وقضاء المقدار ۳؎۔
کسی شخص نے صاحب مال سے کہا میں  ضامن ہوں  اور میں  اس بات کو قبول کرتاہوں  کہ میں  مدیون  کے باغ کو فروخت کروں  گا اوریہ مال تجھے دوں گا، یا یوں  کہا کہ میں  اس کے ترکہ سے مال لے کر تجھ کو دوں  گا، توکفالہ صحیح نہیں  او راگر وہ ضامن بنااس طورپر کہ اپنا مال بیچ کر قرض کی مقدار طالب قرض کو دے گا تو کفالہ صحیح ہے چنانچہ اس کو مال بیچنے اور قرض کی مقدار طالب کو دینے پر مجبور کیا جائے گا۔ (ت)
 (۳؎فتاوٰی بزازیۃ علی ہامش ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی  نورانی کتب خانہ پشاور   ۶/ ۱۵۔ ۱۴)
وجہ دوم: اگر بالفرض حکم متفق علیہ خواہی نخواہی معنی مجازہی پر حمل کیجئے تو یہ کفالت بالمال ۱۸ تک بھاگنے پر معلق تھی جب اس مدت میں  فرار ثابت نہیں  تو لزوم مال کی کوئی صورت نہیں  کہ تعلیق کفالت کی ایسی شرط پر صحیح ہے اور اذا فات الشرط فات المشروط اصل کلی صریح (جب شرط فوت ہوجائے تو مشروط بھی فوت ہوجاتاہے ،یہ واضح کلیہ ہے۔ ت)
وجہ سوم: یہ بھی فرض کیجئے کہ مطالبہ سے مراد مال ہی تھا اور فرار ۱۸ سے پہلے ہی ہوا تو مدعیہ خود اپنے بیان وتسلیم سے کفالت بالمال کو باطل محض مان رہی ہے اسے اپنی ہی قرار دادہ باتوں  سے مطالبہ مال کا کوئی استحقاق نہیں  اس کی جانب سے یہاں  عمل ظاہر الروایۃپر زور دیا جاتاہے اور ۱۸ سے پہلے فرار ظاہر کیا گیا جمہور ائمہ کرام کے نزدیک ظاہر الروایۃ کے یہ معنی ہیں  کہ جب ابتدائے مدت مذکور نہ ہو صرف انتہا کا ذکرآئے تو کفالت اس وقت کے بعد محقق ہوکر تاحصول برأت ہمیشہ رہے گی اور روز اقرار سے اس وقت تک اصلا کفالت نہ ہوگی بالجملہ ظاہر الروایۃ میں  ایسی جگہ (تک ) بمعنی بعد کے ہے ۱۸ فروری تک ضامن ہوں  یعنی ۱۸ کے بعد ضمانت شروع ہوگی،
Flag Counter