Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
164 - 180
ہاں  اگر زید نے یہ کہا کہ یہ نہ دے تو میں  اد اکروں  گا تو بلاشبہ بکر اس قدر روپیہ کا زید سے مطالبہ کرسکتاہے اور بکر کا عمرو کو مطالبہ سے بری کردینا زید کو بری نہ کردے گا اگر البتہ عمرو کو قرضہ سے بری کردیتا تو زید پر بھی مطالبہ نہ رہتا۔
فی الدرالمختار من القنیۃ طالب الدائن الکفیل فقال لہ اصبر حتی یجیئ الاصیل فقال لاتعلق لی علیہ انما تعلق علیک ھل یبرأ اجاب نعم وقیل لا وھوالمختار ۱؎۔
درمختارمیں قنیہ سے منقول ہے کہ قرض دہندہ نے کفیل سے قرض کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا کہ صبر کرو تاکہ اصیل آجائے اس پر قرض دہندہ نےکہامیرا اس سے کوئی تعلق نہیں  میرا تعلق تو تیرے ساتھ ہے، کیا اس صورت میں  اصیل بری ہوجائے گا جواب دیا ہاں ، ا ور ایک قول یہ ہے کہ بری نہیں  ہوگا اور یہی مختارہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        کتاب الکفالۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۶۵)
اور جبکہ وقت کفالت عمرونے بھی اسے جائز رکھا تواب زید اس سے اس قدر زر میں رجوع کرسکتاہے گویہ کفالت بامر عمرو واقع نہ ہوئی
فی الدرالمختار ولوکفل بامرہ رجع علیہ بماادی وان بغیرہ لایرجع لتبرعہ الااذا اجازفی المجلس فیرجع عمادیۃ ۲؎ واﷲ
تعالٰی اعلم۔ درمختار میں ہے اگر مدیون کے امر سے کفیل بنا تو اس پر رجوع کرسکتاہے اوراگر اس کے امر کے بغیر کفیل بنا تو رجوع نہیں  کرسکتا تبرع اور احسان کی وجہ سے مگر جب مجلس کے اندر مدیون نے اجازت دے دی تو رجوع کرسکتاہے عمادیہ، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎درمختار        کتاب الکفالۃ    مطبع مجتبائی دہلی   ۲ /۶۴)
مسئلہ ۲۷۹: از ریاست رام پور مرسلہ منشی محمد واحد علی صاحب پیشکار حاکم مال ریاست ۲۸ ذی الحجہ ۱۳۱۶ھ

مطاع ومخدوم عالم جناب معظم ومحترم زید افضالہ بصدادب تسلیم اوصاف حمیدہ جناب عالی مخدومنا جناب حافظ محمد عنایت اللہ صاحب سے سن کر عزم ہوا کہ خود ہی حاضر ہوکر اپنا ماجرا عرض کرو ں  لیکن''ارادۃ اﷲ غالبۃ علی ارادۃ العباد'' اسی وقت ایک تار ضروری لکھنؤ سے آگیا جس نے اس وقت حاضری سے مجبور کردیا مجبورا اپنے معتمد محمد رضاخاں  صاحب کو خدمت عالی میں  ضرورت حال کے لئے بھیجنا پڑا، ۶فروری ۱۸۹۹ء کو ایک شخص کی حاضر ضمانت کرلی، ۱۸ فروری تک کے لئے جس کے الفاظ بعینہٖ سوال فتوٰی میں  درج ہیں ، ۱۸ فروری گزر گئی نہ عدالت نے مکفول عنہ کو مجھ سے کسی وقت ۱۸ یا ۱۸ کے اندر طلب کیا، نہ مدعی نے اس مدت میں  کسی قسم کی اطلاع عدالت میں  کی، اب ڈھائی مہینے کے بعد ہنگام اجراء ڈگری مدعی مجھ سے روپیہ طلب کرتاہے اور شرعا مدعی کا وکیل یہ ثابت کرتاہے کہ چونکہ ضمانت نامہ میں  لفظ ''من'' نہیں  درج ہے لہذا بعد ۱۸ فروری بھی یہ ضمانت باقی رہی، حضور والا! اس زمانے میں  ان قیود کے ساتھ الفاظ کسی جگہ ضمانت میں  نہیں  دیکھے گئے عرف کے مطابق یہ نیت خالص صرف ۱۸ فروری تک کے لئے ضمانت کی تھی مخدومی جناب حافظ عنایت اللہ صاحب کی خدمت میں  ارادت ہے میں  نے سچی کیفیت اپنی عرض کی فرمایا کہ جو کچھ یہاں  ممکن ہے لکھا جاتا ہے لیکن ہندوستان میں  اگر کوئی قوت ان جزئیات کی کرسکتاہے تو جناب مولوی احمد رضاخاں  صاحب ہیں ، بنظر رحم حضور کی چشم کرم سے امید ہے کہ میری اس وقت کی پریشانی میں  جو امداد ہو دریغ نہ فرمائیں  گے تابعدار محمد واحد علی عبارت ضمانت نامہ بعینہٖ درج ذیل ہے جو کہ محمدی بیگم نے دعوی ال ما صہ عہ/ بنام سید محمد امیر دائر عدالت کیا ہے اور ان سے ضمانت حاضری طلب ہے لہذا اقرار کرتاہوں  کہ ۱۸ فروری سنہ حال تک کاحاضر ضامن ہوں  ۱۸ تاریخ مدعا علیہ شہر سے نہیں  بھاگیں  گے اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کا میں  ذمہ دار ہوں ۔ ۶ فروری ۱۸۹۹ء
الجواب: مکرمی محترمی منشی صاحب زید مجدھم بعدادائے مراسم سنت ملتمس ، فتوٰی نظر فقیر سے گزرا میں اس امر میں  یکسر متفق ہوں  کہ صورت مذکورہ میں  ضمانت حاضری ۱۸ فروری تک منتہی ہوگئی اگرچہ جواب ظاہر الروایۃ اس کے خلاف ہے مگر اب عرف ومقاصد ناس قطعا اسی پر حاکم اوراتباع عرف واجب لازم، تو یہ حقیقۃً مخالفت ظاہر نہیں  بلکہ زمان برکت نشان حضرات ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم میں  عرف دائر وسائر یوں ہوتا تو ہم جز م کرتے ہیں  کہ حکم ظاہر الروایۃ ضرور مطابق روایت امام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ ہوتاولہذا ائمہ تصحیح نے اس روایت پر اسی وجہ سے فتوٰی دیا ہے کہ وہ اشبہہ بعرف ناس ہے، اسی لئے علماء نے فرمایا :
من لم یعرف اہل زمانہ فہو جاہل ۱؎۔
جو اہل زمانہ کونہیں  جانتا وہ جاہل ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار    باب الوتروالنوافل    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۹۹)
علامہ محقق شامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے اس کی تحقیق بروجہ شافی وکافی فرمادی ہے  مگر یہاں  حقیقت امر یہ ہے کہ دو کفالتیں  ہیں ، ایک کفالۃ بالنفس یعنی حاضری ضامنی، وہ ۱۸ فروری تک موقت ہے اور اس روایت وعرف کی رو سے بعد ۱۸ کے ختم ہوگئی، دوسری کفالت بالمال کہ اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کامیں  ذمہ دار ہوں  اس میں  اگرتوقیت بنظر ماسبق ہے تو جانب شرط میں  ہے اگر ۱۸ فروری تک بھاگ گئے تو مال کا ضامن میں  ہوں  اور کفالت کی ایسی شرط کے ساتھ تعلیق جائز ہے۔
فی الہدایۃ الاصل انہ یصح تعلیقہا بشرط ملائم لہا مثل ان یکون شرطا لوجوب الحق کقولہ اذۤا استحق المبیع اولامکان الاستیفاء مثل قولہ اذا قدم زید وھو مکفول عنہ اولتعذر الاستیفاء مثل قولہ اذا غاب من البلدۃ ۱؎۔
ہدایہ میں  مذکور ہے کہ کفالت کو اس کی مناسب شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح ہے مثلا وہ شرط وجوب حق کے لئے ہو جیسے ا سکا کہنا کہ جب مبیع میں  استحقاق ثابت ہوجائے یا وہ شرط وصولی کے امکان کے لئے ہو جیسے اس کا کہنا کہ جب زیدآجائے جبکہ وہ زید ہی مکفول عنہ ہو یا وہ شرط وصولی کے تعذر کے لئے ہو جیسے اس کا کہنا کہ وہ شہر سے غائب ہوگیا۔ (ت)
(۱؎ الہدایۃ    کتاب الکفالۃ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۱۱۸)
او ریہ صاحب جو آپ کا لطف نامہ لائے ان کے بیان سے معلوم ہوا کہ مدعا علیہ مدت کے اندر ہی فرار ہوگئے اگر یہ حق ہے تو شرط متحقق ہولی، پس اگر مطالبہ سے مراد زردعوٰی تھا تو اس صورت میں  فقیر کے نزدیک مال لازم ہو گیا اگرچہ بعد ۱۸ فروری کے کفالت نفس زائل ہوجائے اگرچہ یہاں اصل وہی تھی اور کفالت بالمال اس کی تابع وتاکید تھی کہ جب بوجہ وجود شرط مال لازم ہوگیا تواب اس کی سبیل ادا ہونا ہے یا طالب کی طرف سے معانی وگرہیچ
فی البزازیۃ کفل بنفسہ علی ان المکفول عنہ اذا غاب فالمال علیہ فغاب المکفول عنہم ثم رجع وسلمہ الی الداین لایبرأ لان المال بحلول المشروط لزمہ فلا یبرأ بالاداء اوالابراء ۲؎ وا ﷲ تعالٰی اعلم۔
بزازیہ میں  ہے کہ اگر کوئی شخص کفیل بالنفس بنا اس شرط پر کہ اگر مکفول عنہ غائب ہوگیا تو مال اس (کفیل) کے ذمے ہے بعد ازاں  مکفول عنہ غائب ہوگیا پھر لوٹ آیا اور کفیل نے اس کو دائن کے حوالہ کردیا تب بھی بری نہ ہوگا کیونکہ مشروط کے پائے جانے سے مال اس پر لازم ہوگیا تو اب ادائیگی یاصاحب حق کی طرف سے معافی کے بغیر بری نہ ہوگا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ  نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۸)
مسئلہ۲۸۰: از ریاست رامپور متصل موتی مسجد مرسلہ منشی واحد علی صاحب پیشکار محکمہ مال غرہ محرم الحرام۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید پر محکمہ دیوانی میں  الہ ما مہ عہ/ کی نالش کی، حاکم نے بغرض امتحان زید سے حاضری ضامنی طلب کی، خالد نے ۶ فروری ۱۸۹۹ء کو ضمانت نامہ بآں  عبارت لکھ دیا جو کہ محمدی بیگم نے دعوی ال ماصہ عہ/ کابناسیدمحمد امیردائر عدالت کیا ہے اور ان سے ضمانت حاضری طلب ہے، لہذا اقرار کرتاہوں  کہ ۱۸ فروری سنہ حال تک میں  ان کا حاضرضامن ہوں  ۱۸ تاریخ تک مدعاعلیہ شہر سے نہیں  بھاگیں  گے اگر بھاگ گئے تو مطالبہ مدعیہ کا میں  ذمہ دارہوں ، بنابراں  یہ حاضر ضامنی لکھ دی کہ سند ہو، المرقوم ۶فروری ۱۸۹۹ء/ مگر جس وقت خالد نے زید کی ضمانت حاضر کی اور کفالت نامہ مذکور لکھا اور اس وقت نہ مدعیہ موجود تھی نہ اس کا کوئی وکیل نہ پیروکار بلکہ حاکم دیوانی بھی نہ تھے، خالد نے بمواجہ زید مکفول عنہ کفالت نامہ لکھا جس پر سرشتہ دار نے بہ حکم ضابطہ لکھ دیا کہ مقر نے بحاضری خود اصالۃً شناخت گواہان حاشیہ تصدیق کی حکم ہوا کہ ناظر مدعا علیلہ کو سپرد حاضر ضامن کریں  ۶ فروری ۱۸۹۹ء اس پر ناظر نے یہ کیفیت لکھی کہ منشی واحد علی صاحب ضمانت تصدیق کراکر محکمہ مال میں چلے گئے مدعا علیہ بھی بعد داخل ہوجانے ضمانت کے عدالت سے چلا گیا لہذا تعمیل سپردگی سے معذور ہوں  ۶ فروری ۱۸۹۹ء اس پر حکم لکھا گیا کہ شامل مسل ہو، فروری ۱۸۹۹ء اس کے سوا نہ کوئی قبول منجانب مدعیہ واقع ہوا نہ اسے کوئی اطلاع اس کفالت کی دی گئی نہ ۱۸ فروری تک مدعیہ خواہ حاکم کسی نے مدعا علیہ کو کفیل سے طلب کیا نہ اس سےکچھ تعرض واقع ہوا، ۱۸ فروری کوحاکم نے مدعیہ سے بوجہ کمی اسٹامپ دعوٰی نامکمل قراردے کر تکمیل اسٹامپ چاہی ۔ جب مدعا علیہ نے دیکھا کہ ۱۸ فروری خالد کے منشائے کفالت تھی گزر گئی اور ضمانت ختم ہوگئی اور اس وت تک کوئی مطالبہ نہ ہوا اپنے نفس کو قید ضمانت سے فارغ پاکر شہر سے فرار کیا ایک مدت کے بعد جب مدعیہ نے دیکھا کہ مدعاعلیہ پر قابو نہ رہا بحیلہ کفالت خالد سے مواخذہ شروع کیا اب مدعیہ کی طرف سے اس اقرار پر زوردیا جاتاہے کہ ضمانت نامہ میں  صرف انتہائے مدت کا ذکر ۱۸فروری تک میں  ضامن ہوں  ابتدائے مدت کانام نہیں  کہ اب سے یاآج سے یا فلاں  تاریخ سے ۱۸ تک میں  ضامن ہوں  ایسی صورت میں  ظاہر الروایۃ یہ ہے کہ ضمانت اس تاریخ پر منتہی نہ ہوگی بلکہ اس کے بعد ہمیشہ کے لئے ضامن ہے لہذا ہمیں  اس سے مطالبہ کرنا پہنچتاہے مدعیہ نے جو فتوٰی لکھوایا اس میں  بطور تقدم بالحفظ یہ بھی ذکر کیا ہے کہ مدعا علیہ ۱۸ فروری سے پہلے فرار ہوگئے حالانکہ اس وقت تک کچہری میں  اس کا کوئی ذکرنہ کیا نہ ہر گز ۱۸ سے پہلے فرار کا کوئی ثبوت ہے بلکہ حاکم بالا نے ۱۸ کے بعد ایک حکم میں  زید کی نسبت اب فرار ہونالکھا ہے پس علمائے دین کی خدمت میں  استفسار ہے کہ اس صورت میں  بعد ۱۸ فروری کے مدعیہ کو خالد پر حاضر ضامنی مدعاعلیہ کا یا زردعوٰی کا مطالبہ پہنچتاہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب

اللہم ھدایۃ الحق والصواب صورت مستفسرہ میں  کفالت بالنفس بھی بعد ۱۸ فروری کے زائل اور کفالت بالمال کا خالد سے مطالبہ بھی بے اصل وباطل، تحقیق مقام یہ کہ کفالت دو ہیں 

(۱) کفالت بالنفس یعنی حاضر ضامنی جو اس کفالت نامہ کا اصل مفاد ومقصود مراد ہے۔

(۲) کفالت بالمال یعنی مال ضامنی جو اگرمستفادہو تو ان لفظوں سے کہ ۱۸ تک مدعاعلیہ شہر سے نہ بھاگیں  گے مطالبہ مدعیہ کا میں ذمہ دارہوں 

ہم یہاں  دونوں  کفالتوں پر کلام محققانہ کریں  کہ بطور بعونہٖ تعالٰی حکم شرع واضح ہو وباﷲ التوفیق۔ 

کفالت بالمال کا مطالبہ ہندہ کوخالد پر اصلا نہیں پہنچتا بوجوہ:

وجہ اول : خالد نے یہ نہ لکھا کہ اگر زید بھاگ جائے تو ہندہ کے دین یا مال یا زر دعوٰی یا اس قدرروپے کامیں  ذمہ دار ہوں  بلکہ مطالبہ کا ذمہ دار ہوا  اور مطالبہ ودین میں  فرق بدیہی ہے۔
Flag Counter