فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
163 - 180
باب متفرقات البیع
(بیع کے متفرق احکام)
مسئلہ ۲۷۴: از موضع دیورنیاں :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قیمت مقررہ اسٹامپ سے زیادہ لینا رشوت ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: یہ رشوت نہیں بلکہ اپنی خرید پر نفع لینا ہے مگر کلام اس میں ہے اسٹامپ بیچنا خود ہی کراہت سے خالی معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۵: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنی جائداد بدست زید اپنے سوتیلے بیٹے کے فروخت کی اور قیمت اس کی وصول پاکر پھر زید کے پاس امانت رکھ دی زیدنے مہ عہ/ ماہوار مقرر کردی، ہندہ نے کہاکہ مشاہرہ مجھے کیونکر دیتے ہو، کہا اسے آپ اس جائداد کی توفیر تصور فرمائے اس کا جواب ہندہ نے دیا کہ جب اس کی میں مالک نہ رہی تو توفیر کیسی، اس پر کہا کہ میں اپنے پاس سے یہ خدمت کرتاہوں ، ہندہ نے کہا یہ معلل بالغرض ہے اور میرے لئے ناجائز، آیاہندہ کے لئے یہ رقم لینا ناجائز ہے یاجائز؟ بینوا توجروا
الجواب : جائداد مبیعہ کی توفیر لینی تو صریح ناجائز جس سے ہندہ خود انکار کرتی ہے اور بطور خدمت اگر دینا واقعی ہو لینا جائز، اوراس کی واقعیت کی یہ نشانی ہے کہ زید اس سے پہلے بھی ہندہ کی اس قدر خدمت کرتاہویا اب ہندہ اپنا روپیہ واپس لے لے تو بھی بدستور خدمت کرتا رہے اور اگر ایسا نہ ہو تو اس کا یہ کہنا بطور خدمت دیتاہوں زبانی کہناہے بلکہ اس صورت میں ہندہ کاخیال صحیح ہے کہ وہ اسی غرض سے دیتاہے کہ ہندہ اپنی یہ رقم کثیرنہ مانگے اور تاحیات ہندہ اسی ماہوار پر ٹالے، اس نیت سے دینا دینے والے کو تو صریح ناجائز، اور ہندہ اسے اگر اپنے زرامانت میں مجرا کرکے لیتی رہے تو مضائقہ نہیں ورنہ اس کالینا بھی روانہیں واللہ تعالٰی اعلم۔
الجواب: اگر واقع میں اس نے لکھا اور دستخط کئے تھے تو انکار کرنے سے جھوٹ بولنے کا گنہگار ہوا مگر وفائے وعدہ پر جبری مطالبہ نہیں پہنچتا،
فتاوٰی خانیہ وفتاوٰی ظہیریہ وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں ہے : ان انجز وعدہ کان حسنا والا فلا یلزم الوفاء بالمواعید ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اور اگر وعدہ کو پورا کرے تو بہتر ہے ورنہ وعدوں کو پورا کرنا اس پر لازم نہیں ۔ اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الاجارۃ الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۴۲۵)
مسئلہ ۲۷۷: از سرنیاں ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۲ رجب ۱۳۳۱ھ
اکثر لوگ ترکاری خریدنے کے بعد جھگڑا کرکے زیادہ لیتے ہیں ـ۔
الجواب : جھگڑا کی اجازت نہیں ، اور زیادہ مانگنا بھی سوال میں داخل ہے، ہاں بطور خوداپنی خوشی سے زیادہ دے دے تو حرج نہیں ۔ واللہ تعالٰی اعلم
کتاب الکفالۃ
(ضامن بننے کا بیان)
مسئلہ ۲۷۸: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی قدر قرض بکر کا ذمہ عمرو کے ہے، زید نے کہا اسے میں ادا کردوں گا ، عمرونے بھی اسے قبول کرلیا، بکر نے کہا عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گا، اس صورت میں بکر کو زید سے اس قرضہ کے مطالبہ کااختیار ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب : صورت مستفسرہ میں زید اس قرضہ بکر کا جس کے ادا کا اس نے وعدہ کیا اگر لفظ صرف اس قدر تھے کفیل نہ ہوا کہ یہ مجرد وعدہ ہے اور وعدہ بے تعلیق بشرط لازم نہیں ہوتا، اور بکر کا اس سے کہنا کہ عمرو میرے مطالبہ سے بری ہوا میں تجھ سے لوں گا اور زید کا اس پر سکوت کرنا اول تو سکوت قول نہیں اور ہو بھی تو اس کی غایت اس قدر کہ زید نے قول بکر قبول کیا گویا اس نے کہا تو مجھ سے لینا یہ بھی ایک امر ہے جس کا حاصل وعدہ ہے کہ میں دوں گا اور اس قدر سے کفالت ثابت نہیں ہوتی۔
عالمگیری میں محیط سے ہے:
اذا قال انچہ ترابر فلان ست من بدہم فہذا وعد لاکفالۃ ۱؎۔
اگر کہا جو کچھ تمہارا فلاں پر لاز م ہے وہ میں دوں گا تو یہ وعدہ ہے کفالہ نہیں ۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۵۶)
اسی میں بنقل محیط فتاوٰی امام نسفی سے ہے:
من قال لغیرہ ان الدین الذی لک علی فلان انا ادفعہ الیک انا اسلمہ الیک انااقضیہ لایصیر کفیلا مالم یتکلم بلفظ یدل علی الالتزام نحو قولہ کفلت ضمنت علی الی وکان الشیخ الامام ظہیر الدین الحسن بن علی المرغینانی یقول اذا اتی بہذہ الالفاظ منجز الا یکون کفالۃ واذا اتی بہا معلقا بان قال ان لم یؤد فلان مالک علیہ فانا اودی فانا ادفع یصیر کفیلا ۱؎۔
کسی نے دوسرے سے کہا تیرا وہ قرض جو فلاں پر ہے وہ میں دوں گا میں تیرے سپرد کروں گا ، میں ادا کروں گا، وہ کفیل نہیں بنے گا جب تک کوئی ایسا لفظ نہ کہے جو التزام پردلالت کرتا ہو مثلا میں کفیل ہوں میں ضامن ہوں ، مجھ پر لازم ہے یا میرے ذمے ہے، امام ظہیر الدین حسن بن علی مرغینانی کہتے تھے اگر یہ الفاظ بطور تنجیر کہے تو کفیل نہ ہوگا اور اگر بطورتعلیق کہے مثلا یوں کہے کہ تیرا جو دین فلاں پر ہے اگر اس نے نہ دیا تو میں ادا کروں گا یا میں دوں گا، تو کفیل ہوجائے گا۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکفالۃ الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۵۷)
ایسا ہی خزانۃ المفتین میں ہے اور اسی پربزازیہ میں جزم فرمایا:
قائلا لما علم ان المواعید باکتساء صورۃ التعلیق تکون لازمۃ ۲؎ اھ ونقلہ فی الحامدیۃ واقرہ فی العقود الدریۃ۔
یہ کہتے ہوئے، یہ بات معلوم ہے کہ وعدے جب تعلیق کی صورت اختیار کریں تو ان کو پوراکرنا لازم ہوتاہے اھ اس کو حامدیہ میں نقل کیا اور عقود دریہ میں برقرار رکھا۔ (ت)
(۲؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوی ہندیہ کتاب الکفالۃ نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳)