Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
162 - 180
یہ مسئلہ لمبے دامنوں  والا، بہت زیادہ اقوال والا اور وسیع مباحث والا ہے، اور ہم نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے اپنی بعض تحریروں  میں  اس کی تفصیل بیان کردی ہے اور وہ بات جو اس میں  ثابت وثابت شدہ ہے یہ ہے کہ بیع الوفاء رہن ہے نہ اس سے کچھ زائد اورنہ ہی کسی شیئ میں  اس کے مخالف ہے، علامہ خیرالدین رملی نے اپنے فتاوٰی میں  فرمایا کہ اکثر فقہاء اسی پر ہیں  کہ یہ رہن ہے اور کسی حکم میں رہن سے جدا نہیں  ہے سیدامام کا قول ہے کہ میں  نے امام ابوالحسن ماتریدی سے کہا کہ یہ بیع لوگوں  میں  پھیل گئی اوراس میں  فساد عظٖیم ہے جبکہ آپ کا فتوٰی ہے کہ یہ رہن ہے اورمیں  بھی اسی کا قائل ہوں  تو بہتر ہے کہ ہم ائمہ کوجمع کرکے اس پر متفق کریں اور اس کو لوگوں میں ظاہر کریں  تو انہوں  نے فرمایا کہ آج ہمارا فتوٰی معتبر اور لوگوں  میں  ظاہر ہے لہذا جو ہماری مخالفت کرے اس کو چاہئے کہ وہ خود کو سامنے لائے اور دلیل قائم کرے بیع الوفاء میں  آٹھ اقوال ہیں  اور اس کے رہن ہونے پر لوگوں  کی اکثریت متفق ہے اھ اور یہ بھی اسی میں ہے کہ بیع الوفاء رہن ہے الخ،
 (۱؎ فتاوٰی خیریہ        کتاب البیوع    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۶۔۲۲۵)

(۲؎ فتاوٰی خیریہ        کتاب البیوع    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۲۶)
وفی العقود الدریۃ من کتاب النکاح باب الولی بیع الوفاء، منزل منزلۃ الرھن ۳؎الخ وفیہا من الرھن بیع الوفاء منزل منزلۃ الرھن کما صرحوا بہ ۴؎ ثم ذکرنصوصا تدل علیہ فاذن لا یجوز لہذا الذی ھو مشتر صورۃ مرتہن معنی الانتفاع بمشریہ المرھون مطلقا علی ما ھو الفتوی الاٰن للعلم بمقاصد اھل الزمان وقد علم شرعا ان المعہود عرفا کالمعہود شرطا کما افادہ ھٰھنا العلامۃ السید الطحطاوی ثم العلامۃ السید الشامی فی حواشی الدروقد افتیت بہ و ھوالحق الواضح جہارا ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
عقودالدریۃ کتاب النکاح کے باب الولی میں  ہے کہ بیع الوفاء بمنزلہ رہن کے ہے الخ اور اسی میں  ہے کہ بیع الوفاء رہن کے بمنزلہ ہے جیسا کہ فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے پھر اس میں  ایسی نصوص ذکر کی گئی ہیں  جو اس کے رہن ہونے پر دلالت کرتی ہیں  تو ایسی صورت میں  اس اس شخص کے لئے جو بظاہر مشتری اور درحقیقت مرتہن ہے بالکل جائز نہیں کہ وہ اس خریدی ہوئی مرتہن شے سے نفع حاصل کرے اور اب اہل زمانہ کے مقاصد کو جانتے ہوئے اسی پر فتوی ہے ،اور تحقیق یہ بات شرعا معلوم ہے کہ جو چیز عرف میں  طے شدہ ہو وہ ایسے ہی ہوتی ہے جیسے اس کی شرط لگائی گئی ہو جیسا کہ اس مقام پر علامہ سید طحطاوی نے پھر علامہ شامی نے در کے حواشی میں  اس کا فائدہ دیا اور بیشک میں  نے اسی پر فتوی دیا اور یہی واضح اورکھلا حق ہے، اوراللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۳؎ العقود الدریۃ    کتاب النکاح    ارگ بازار قندہارافغانستان    ۱ /۱۸)

(۴؎العقود الدریۃ   کتاب الرہن    ارگ بازار قندہارافغانستان   ۲/ ۲۵۴)
مسئلہ ۲۷۲: ازقصبہ منڈوا ضلع فتحپور مرسلہ حافظ محی الدین صاحب ۱۰ جمادی الاولٰی ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نےعمرو کی کچھ جائداد اس طرح پر لیا کہ عمروجب روپیہ زید کاادا کر دے تو اپنی جائداد واپس لے اور جب تک روپیہ ادا نہ ہو تب تک زید اس جائداد کا لگان گورنمنٹی  اسی جائداد سے ادا کرے اور جو روپیہ اس جائداد کا لگان گورنمنٹی سے بڑھے وہ روپیہ زید اپنے تصرف میں  لاکر یا کرے تو روپیہ بڑھتی کا زید کو لینا جائز ہے یانہیں ؟ سود ہوگا یانہیں ؟ اگر سود ہوگا تو ان لوگوں کی نماز جو سود لیتے نہیں  ہیں  صرف مہاجنوں  کو سود دیتے ہیں  زید کے پیچھے ہوگی یانہیں ؟
الجواب: یہ صورت بیع بالوفاء کی ہے او ر اس کاحکم مثل رہن کے ہے اور اس سے جو منفعت حاصل ہو حرام ہے ، حدیث میں  فرمایا : کل قرض جرمنفعۃ فہو ربٰو ۱؎۔  جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ (ت)
 (۱؎ کنزا لعمال        حدیث ۱۵۵۱۶    مؤسستہ الرسالہ بیروت    ۶ /۲۳۸)
اس کے پیچھے نماز مکروہ ہے اگر چہ مقتدی بھی سود لینے یا دینے والے ہوں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۳: از ریاست چھتاری مدرسہ محمودیہ ضلع بلند شہر مرسلہ امیر حسن طالبعلم ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نے اپنی کوئی زمین یا مکان یا دکان عمرو کے ہاتھ بعوض سو روپے کے فروخت کی اور باقاعدہ بیعنامہ لکھ پڑھ دیا مگر بیعنامہ سے پہلے یا بعد بائع مشتری سے یہ وعدہ پختہ لے لیا کہ جب میں  تجھے تیرا زرثمن پورا پورا ادا کروں  تو تو مجھے میری بیع واپس کر دینا اور تاواپسی تو مبیع سے فائدہ اٹھاتے جانا، مشتری نے اس بات کو بطیب خاطر پسند کرلیا تو کیایہ بیع جائزہے اور مشتری کو تاواپسی مبیع سے فائدہ اٹھانا جائز ہے یاکیا؟
الجواب: اگر واقع میں  انھوں  نے بیع قطعی کی ہے اور اس میں  یہ شرط ملحوظ نہیں ، بیع سے جدا یہ ایک وعدہ ہو لیا تھا بیع صحیح ہوئی اور اس سے انتفاع مشتری کو جائز ، ورنہ تحقیق یہ ہے کہ وہ بیع نہیں  بلکہ رہن ہے اور مشتری کو اس سے انتفاع حرام، یہ بیع صحیح بلا دغدغہ ہونے کی صورت یہ ہے کہ اگر یہ قرار داد عقد سے پہلے ہوا تھا تو عقد کرتے وقت یہ کہہ لیں  کہ ہم اس قرار داد سے باز آئے اب بیع قطعی کرتے ہیں  اور اگر عقد کے بعدیہ قرارداد ہو تو بصورت شرط نہ ہو بلکہ صرف ایک وعدہ،
ردالمحتار میں  ہے :
وفی جامع الفصولین ایضا لو ذکر البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ۱؎۔
جامع الفصولین میں  ہے کہ اگر بیع کا ذکر بلا شرط کیا پھر شرط کو بطور وعدہ ذکر کیا تو بیع جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۱۔ ۱۲۰)
اسی میں  ہے :
فی جامع الفصولین ایضا لوشرطا شرطا فاسداقبل العقد ثم عقدا لم یبطل العقد اھ قلت وینبغی الفساد لو اتفقا علی بناء العقد علیہ کما صرحوا بہ فی بیع الہزل کما سیأتی اٰخر البیوع وقد سئل الخیر الرملی عن رجلین تواضعا علی بیع الوفاء قبل عقدہ وعقدا البیع خالیا عن الشرط فاجاب بانہ صرح فی الخلاصۃ والفیض والتتارخانیۃ وغیرہا بانہ یکون علی ماتواضعا ۱؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جامع الفصولین میں یہ بھی ہے کہ اگرعاقدین نے عقد سے پہلے کوئی شرط فاسد لگائی پھر عقد کیا تو عقدباطل نہ ہوگا۔ اھ میں  کہتاہوں  کہ اگر وہ دونوں  عقد کی بناء اس شرط فاسد پر کرنے پر متفق ہوئے تو عقد فاسد ہونا چاہئے جیسا کہ فقہاء نے بیع ہزل کے بارے میں تصریح کی ہے جیساکہ عنقریب بیع کی بحث کے آخر میں  آئے گا، علامہ خیر الدین رملی سے ان دو شخصوں  کے بارے میں  سوال کیا گیا جنہوں  نے عقد سے پہلے بیع الوفاء کی شرط ٹھہرائی پھر اس شرط سے خالی عقد کیا تو آپ نے وہی جواب دیا جس کی تصریح خلاصہ، فیض اور تتارخانیہ وغیرہ میں  کی گئی ہے یعنی یہ بیع اس شرط پر ہوگی جو انھوں نے ٹھہرائی تھی، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع مطلب فی الشرط الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۲۱)
Flag Counter