Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
161 - 180
باب بیع التلجیہ

(دکھلاوے کی بیع کا بیان)
مسئلہ ۲۶۹: کیا فرماتے ہیں  علمائے دین ومفتیان شرع متین صورت مسئولہ میں  کہ زید نے ایک قطعہ مکان جس کا وہ مالک تھا بدست عمرو اپنی کسی مصلحت سے بلاوصول زرثمن فرضی طریق سے بیعنامہ تصدیق کرادیا اور قبضہ اپنا مبیعہ پرنہیں دیا ہے، اور عمرو کی اب یہ خواہش ہے کہ میں  اسی مکان کو زید کے فوت ہونے پر اس کے ورثہ کو ہبہ کردوں ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اسی مکان کو ہبہ کرنا شرعا جائز ہے یانہیں  اور اگر ہبہ جائز ہے تو کن کن وجوہات میں  واپس ہوسکتاہے اور کس صورت سے واپس نہیں  ہوسکتا۔ بینوا توجروا
الجواب: عمروکو اگر اقرار وتسلیم یا بینہ عادلہ شرعیہ سے ثابت ہے کہ یہ بیع محض بطورفرضی کی گئی ہے جسے بیع تلجیہ کہتے ہیں  تو بیع شرعا منعقد ہوگئی ولہذا اگر عاقدین اسے جائز کردیں  نافذ ہوجائیگی۔
فی الدرالمختار انہ بیع منعقد غیر لازم کالبیع بالخیار ۱؎ الخ
درمختار میں  ہے کہ وہ بیع منعقدہے مگر لازم نہیں  جیسے خیار کے ساتھ بیع الخ ،
(۱؎ درمختار    کتاب البیوع باب الصرف    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۵۷)
وفی ردالمحتار انہما لواجازاہ جازوالباطل لاتلحقہ الاجازۃ ۱؎ الخ وقولہم باطل ای سیبطل ان لم یجز کما حققناہ فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
اور ردالمحتار میں  ہے کہ اگر عاقدین نے اس کی اجازت دے دی تو جائز ہوگی حالانکہ باطل کو اجازت لاحق نہیں  ہوتی الخ اورفقہاء کا قول کہ وہ بیع باطل ہے اس کا معنی یہ ہے کہ عنقریب باطل ہوجائے گی اگر اس کی اجازت نہ دی گئی جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں  اس کی تحقیق کی ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۷)
مگر جبکہ قبل اجازت زیدنے وفات پائی اب بیع باطل محض ہوگئی۔
فان البیع الموقوف یبطل بموت المالک بل والعاقد وان لم یکن مالکا کالفضولی ولاتصح اجازۃ ورثتہ بعدہ فی الدرالمختار حکمہ قبول الاجازۃ اذاکان البائع والمشتری والمبیع قائما وکذا یشترط قیام صاحب المتاع ایضا فلا تجوز اجازۃ وارثہ لبطلانہ بموتہ ۲؎۔ (ملخصا)
کیونکہ موقوف بیع مالک کی موت سے باطل ہوجاتی ہے بلکہ عاقد اگرچہ وہ مالک نہ ہو اس کی موت سے بھی باطل ہوجاتی ہے جیسے فضولی کی موت سے، اور اس کی موت کے بعد اس کے وارث کی اجازت سے بیع صحیح نہیں  ہوتی ، درمختار میں  ہے اس کا حکم یہ ہے کہ یہ اجازت کو قبول کرتی ہے جبکہ بائع مشتری اورمبیع قائم ہوں  اور اسی طرح مالک کا قائم ہونا بھی شرط ہے چنانچہ اسکی موت سے بیع کے باطل ہوجانے کی وجہ سے اس کے وارث کی اجازت نہیں ۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب البیوع   فصل فی الفضولی    مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۳۲)
تو عمرو غیر مالک کا اس مکان کو وارثان زید خود مالکان  کے نام ہبہ کرنا محض بے معنی ہے اور اگر براہ دیانت و امانت اپنے ورثہ یاآئندہ خود اپنی بریت کے اندیشہ سے چاہتاہے کہ بیعنامہ مصدقہ جو محض فرضی تھا بے اثر ہوجائے تواس کے لئے بھی اس ہبہ بے معنی کی ضرورت نہیں  اعلان کردے اور گواہ کرالے یا اقرار نامہ تصدیق کرادے کہ میں  اس مکان کا مالک نہیں  میرے نام بیع صرف بیع فرضی تھی یہ اظہار ہبہ محکم تر بھی ہوگا کہ ہبہ کے لئے شروط ہیں  پھر جب تک موانع ہبہ سے کوئی مانع نہ ہواختیار رجوع بھی ہوتاہے اور اگر صورت ہبہ ہی اختیار کرے اس کی شکلیں  اس طور پر کردے کہ کوئی شرعی اعتراض نہ رہے نہ آئندہ اختیار رجوع ہوتو یہ بھی ایک صورت اس مقصود محمودکے حصول کی ہے،
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۱؎،
بیشک عملوں  کا دارومدار تو نیتوں  پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ (ت)
 (۱؎ صحیح بخاری            باب کیف کان بدء الوحی   قدیمی کتب خانہ کراچی         ۱ /۲)
جس طرح نظر خلق میں  وہ بیع صحیح نافذ ظاہر کی گئی یونہی نظر خلق میں  یہ ہبہ تامہ لازمہ ظاہر ہوگا تو اندیشہ

سے تحفظ ہوجائے گا، واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۷۰: کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ زید نے مثلا ایک قطعہ مکان وایک حصہ دکان بدست بکر کسی وجہ خاص سے بیع فرضی کرکے قبضہ تام واسطے بکرکے حاصل کرادیادریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا بکر بہ سبب اس عقد فرضی کے مالک مکان وحصہ دکان کا شرعا ہوگایا نہیں ؟ بینو ا توجروا
الجواب

فی الواقع اگر بینہ شرعیہ یا اقرار بکر سے ثابت ہے کہ بیع فرضی طور پر کی گئی ہے تو بکر ہر گز مالک مبیع نہیں  اگر چہ قبضہ برضائے بائع کیا ہو،
فانہ بیع منعقد موقوف علی اجازتہما الموقوف لایقدر الملک بالقبض کما حققناہ فیما علقناہ فی ردالمحتار، واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ بیع منعقد عاقدین کی اجازت پر موقوف ہے او رموقوف میں  قبضہ سے ملکیت حاصل نہیں  ہوسکتی جیسا کہ ہم نے ردالمحتار پر اپنی تعلیق میں  اس کی تحقیق کردی ہے، اوراللہ سبحانہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
باب بیع الوفاء

(بیع وفاء کا بیان)
مسئلہ ۲۷۱: از ریاست رامپور بزریہ ملاظریف بنگلہ متصل مسجد مرسلہ مولوی محمد علیم الدین صاحب اسلام آبادی     ۱۸ جمادی الآخر ۱۳۱۴ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ ربکم فی جواز بیع الوفاء والانتفاع بہ ھل ھو جائز اما لا، بینوا بادلۃ الکتاب توجروا من الوہاب فی یوم الحساب
آپ کا کیا ارشاد ہے اللہ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے بیع الوفاء کے جواز اور اس سے نفع حاصل کرنے کے بارے میں  کیا یہ جائز ہے یانہیں ؟ کتابوں کے حوالہ سے مدلل بیان فرمائیں ، حساب والے دن بہت عطا فرمانے والے اللہ تعالٰی سے اجردئے جاؤ گے۔ (ت)
الجواب: المسئلۃ طویلۃ الاذیال کثیرۃ الاقوال وسیعۃ المجال بعیدۃ المنال وقد فصلنا ھا بتوفیق اﷲ تعالٰی فی بعض تحریر اتنا والذی تقررو تحرر ان بیع الوفاء رھن لایزید علیہ بشیئ ولا یخالفہ فی شیئ قال العلامۃ خیر الدین رملی فی فتاواہ الذی علیہ الاکثر انہ رھن لا یفترق عن الرھن فی حکم من الاحکام قال السید الامام قلت للامام الحسن الماتریدی قد فشا ھذا البیع بین الناس وفیہ مفسدۃ عظیمۃ و فتواک انہ رھن وانا ایضا علی ذٰلک فالصواب ان نجمع الائمۃ ونتفق علی ھذا ونظہرہ بین الناس فقال المعتبر الیوم فتوٰنا وقد ظہر بین الناس ذٰلک فمن خالفنا فلیبرز نفسہ ولیقم دلیلہ وفیہ اقوال ثمانیۃ وعلی کونہ رھنا اکثر الناس ۱؎ اھ وفیھا اٰیضا بیع الوفاء رھن ۲؎ الخ،
Flag Counter