Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
160 - 180
تومحل استدلال امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ''یدابید'' (ہاتھ ہاتھ) ہے لیکن فقہی مہارت والاجانتاہے کہ بیشک یہ لفظ انگلیوں کے پوروں کے ساتھ قبضہ کرنے میں نص صریح نہیں کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہمارے علمائے کرام رحمہم اللہ تعالٰی نے حدیث معروف میں اس کی تفسیر عینیت کے ساتھ فرمائی ہے جیسا کہ ہدایہ میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قول ''یدابید'' ''عینابعین'' ہے، یونہی روایت فرمایا ہے اس کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالٰی عنہ نے، انتہی، اور یہ کیسے ہوسکتاہے حالانکہ ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے فرمایا ہے کہ بے شک باہمی قبضہ تو فقط بیع صرف میں شرط ہے اس کے علاوہ جس میں ربا جاری ہوتاہے وہاں فقط تعیین معتبر ہے ، اگر ہمای ذکر کردہ عبارت میں اس کے قول کو تقابض (دوطرفہ قبضہ) پر محمول کیا جائے اور اس سے ایک پیسے کی دو پیسوں کے عوض بیع میں تقابض کا شرط ہونا اخذ کیا جائے تو پھر ایک کھجور کی دو کے عوض ، ایک انڈے کی دو کے عوض اور ایک اخروٹ کی دو کے عوض بیع میں بھی تقابض شرط ہوگا کیونکہ ان تمام مسائل کا سیاق ایک ہی ہے (لہذا حکم بھی ایک ہوگا) حالانکہ ہمارے ائمہ کرام اس کے قائل نہیں ہیں لہذا اس کو اشتراط تعیین پر محمول کرنا واجب ہے اور امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ''باعیانہا''' ان کے قول''یدابید'' کی تفسیر ہوگا ورنہ یہ قول لغوا ور بلاضرورت ہوگا کیونکہ تقابض میں تعیین کچھ اضافے سمیت موجود ہے توپھر اس (تعیین) کو تقابض کے بعد ذکر کرنا فائدہ سے خالی ہوگا ، یہی وجہ ہے کہ جب امام صاحب ہدایہ نے اس مسئلہ کو جامع صغیر سے نقل کیا تو اس میں سے یہ کلمہ (یدابید) ساقط کرکے فقط عینیت کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یعنی امام محمدرحمۃ اللہ تعالٰی علیہ (بنایہ علامہ عینی) نے فرمایا کہ جائز ہے بیع ایک انڈے کی دو انڈوں کے عوض اور ایک کھجور، کی دو کجھوروں  کے عوض اورایک اخروٹ کی دو اخروٹوں کے عوض اورایک معین پیسے کی دو معین پیسوں کے عوض ،انتہی، چنانچہ جامع صغیر میں تو ان شاء اللہ اس پر کوئی دلیل نہ ہوگی جوان بزرگوں نے فرمایا اور اگر ہو بھی تب بھی غیر کا احتمال بین ہوتے ہوئے اس کا ارادہ نہیں کیاجائے گا ، بخلاف اصل یعنی مبسوط کی عبارت کے کہ وہ تقابض کے شرط نہ ہونے پر نص ہے جیسا کہ عنقریب ان شاء اللہ تعالٰی تو دیکھے گا چنانچہ اسی پر اعتماد کرنا چاہئے اور اللہ تعالٰی ہی مالک توفیق ہے یہ وہ ہے جو اس قاصر بندے پر منکشف ہوا اس میں غور کر اگرتو اس کو حق پائے تو عمل کرنا تجھ پر لازم ہے ورنہ اس کودیوار پر دے مار۔ (ت)
 (۱؎ الہدایہ    کتاب البیوع باب الربا    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۸۳۔ ۸۲)

 (۱؎ البنایۃ فی شرح الہدایۃ    کتاب البیوع    باب الربٰو        المکتبۃ الامدادیہ مکہ مکرمہ    ۳ /۱۵۴)

(۲؎ الہدایہ    کتاب البیوع     باب الربٰو   مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳ /۸۳)
بالجملہ مذہب راجح پر بیع الفلوس بالدراہم والدنانیر میں ایک ہی جانب کا قبضہ کافی، پس صورت مستفسرہ میں بیع بلا تردد صحیح اور صراف پر مشتری کے لئے باقی پیسے لازم،
فی المبسوط اذا اشتری الرجل فلوسا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع فالبیع جائز اھ ۱؎ کذا فی الہندیۃ و فیہا عن الحاوی وغیرہ لواشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم و لم یقبض الفلوس حتی کسدت لم یبطل البیع قیاسا و لوقبض خمسین فلسا فکسدت بطل البیع فی النصف ولو لم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس ۲؎ اھ ملتقطا،
مبسوط میں ہے کہ جب کسی نے درہموں کے عوض پیسے خریدے اور ثمن نقدا ادا کردئے مگر بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہیں تو بیع جائز ہے اھ ہندیہ میں یونہی ہے، اسی میں حاوی وغیرہ سے منقول ہے اگرکسی نے ایک درہم کے عوض سو پیسے خریدے، بائع نے درہم پر قبضہ کرلیا مگر مشتری نے ابھی پیسوں پر قبضہ نہیں کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو قیاس کی رو سے بیع باطل نہیں ہوئی اوراگر پچاس پیسوں پر قبضہ کیا تھا کہ وہ کھوٹے ہوگئے تو نصف میں بیع باطل ہوگئی اگر وہ کھوٹے نہ ہوتے بیع فاسد نہ ہوتی اور مشتری باقی پیسے لینے کاحقدار ہوتا اھ تلخیص،
 (۱؎ المبسوط للسرخسی    کتاب البیوع باب البیع بالفلوس    دارالمعرفۃ بیروت    الجزء الرابع عشرص۲۴)

(فتاوی ہندیہ  کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور    ۳/ ۲۲۵)

(۲؎ فتاوی ہندیہ    کتاب الصرف الفصل الثالث فی بیع الفلوس نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۲۲۵)
وفی التنویر وشرحہ باع فلوسا بمثلہا او بدراہم اوبدنانیر فان نقد احدہما جازوان تفرقا بلاقبض احدہما لم یجز ۳؎ اھ ومسئلۃ المقام یستدعی اکثر من ھذا وفیما ذکرنا کفایۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تنویر اور اس کی شرح میں ہے کہ کسی نے پیسوں کو ان کی مثل کے عوض یا درہموں کے عوض یا دیناروں کے عوض بیچا پس اگر دونوں میں سے ایک نے نقد ادائیگی کردی توبیع جائز ہے اور اگر دونوں قبضہ کئے بغیر متفرق ہوگئے تو ناجائز ہے اھ اس مقام کا مسئلہ اس سے زیادہ تفصیل کا تقاضا کرتاہے اورجو کچھ ہم نے ذکر کیا اس میں کفایت ہے اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب البیوع با ب الربٰو        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۴۲)
مسئلہ ۲۶۸: از دھوراجی ملک کاٹھیا وار کوچہ کھٹچرا سٹریٹ مسئولہ عبدالکریم ابن قاسم ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ

بخدمت شریف جناب مخدوم ومکرم مجدد مائۃ حاضرہ، تکلیف دینے کا باعث یہ ہے کہ جو رسالہ کفل الفقیہ آپ کی جانب سے شائع ہوا ہے اس میں  بعض لوگوں  کو شک ہے کہ یہ رسالہ مولاناصاحب کے نام سے کسی دوسرے نے چھپواکر شائع کردئے ہیں  اس بات کا بہت چرچا ہورہا ہے کہ نوٹ کو مال قرار دیا ہے وہ کس طرح سے ہوسکتاہے، ہمارا اعتماد آپ کے اوپر ہے ، مطلب ہمارا یہ ہے کہ اگر حضور کی جانب سے کفل الفقیہ شائع ہوا ہو تو آپ اپنے دست مبارک سے ہم کو جواب دیں  تاکہ ان پر عمل کریں  اورشک دورہوجائے اور جب تک آپ کی طرف سے جوا ب نہیں  آئے گا وہاں  تک لوگوں کو بحث بھی رہے گی اور ہم لوگوں  کے دل پر شک رہے گا توآپ برائے خدا جلد جواب تحریر کریں ۔
الجواب

رسالہ کفل الفقیہ الفاہم فقیر ہی کی تصنیف ہے مکہ معظمہ میں  وہاں  کے ایک عالم جدہ نے فقیر سے اس کا سوال کیا اور فقیر نے وہیں  تصنیف کیا اور متعدد علمائے کرام مکہ مکرمہ نے اس کی نقلیں  لیں  پھر بعد واپسی فقیر نے اسے طبع کرایا پھر حاجی عیسیٰ خاں  محمد صاحب نے مع ترجمہ چھپوایا، مدینہ طیبہ میں  مصر کے دو جلیل عالموں  مدرسین  جامع ازہر نے اسے دیکھا اور فرمائش کی کہ اس کے نسخے ہم کو ضرور بھیج دو، ان کو بھیج دئے گئے، نوٹ کا مال ہونا اس رسالہ میں  دلائل ساطعہ سے روشن کردیاہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Flag Counter