Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
159 - 180
مسئلہ ۲۶۷: از بجنور درحدود ۱۳۰۰ھ مرسلہ مولوی غلام مصطفی صاحب تلمیذ حضرت والاعلام قدس سرہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بیع فلوس رائجہ کی جو حکم ثمن میں ہیں بمقابلہ روپیہ کے بیع صرف ہے یانہیں؟ اور اگر صراف کو روپیہ دیا اس کے پاس کل روپیہ کے پیسے نہ تھے موجود دئے باقی کا وعدہ کردیا تو یہ بیع جائز ہوگی یانہیں؟ اور جبکہ یہ بیع صرف بسبب صدق تعریف کے کہ بیع الثمن بالثمن ہے قرار دی جائے گی تو اس میں شرائط بیع صرف کے کہ متحد الجنسین میں تماثل اور تقابض اور مختلف الجنسین میں تقابض ہے درصورت جواز کے پائے جائیں گے یانہیں؟ بینواتوجروا
الجواب: بیع الفلوس بالدارہم صرف نہیں نہ اس میں سب احکام صرف جاری۔
فان الصرف بیع ماخلق الثمنیۃ بماخلق لہا کما فسرہ بذٰلک فی البحر وتبعہ فی الدرالمختار ۱؎ واقرہ الشامی وغیرہ و معلوم ان الفلوس لیست کذا وانما عرض لہاحکم الاثمان بالاصطلاح مادامت رائجۃ والافہی عروض کما فی اصل خلقتہا وبعدم کونہ صرفا صرح العلامۃ الشامی عن البحر وصاحب البحر عن الذخیرۃ عن المشائخ فی باب الربٰو من ردالمحتار ۲؎۔
کیونکہ صرف تو خلقی ثمن کو خلقی ثمن کے عوض بیچنے کا نام ہے جیسا کہ اس کی تفسیر بیان کی بحر نے اور درمختار میں اس کی اتباع ہے اور شامی وغیرہ نے اس کو برقرار رکھا اور یہ بات معلوم ہے کہ پیسے ثمن خلقی نہیں انہیں تو جب تک وہ رائج ہیں اصطلاح میں ثمنوں کاحکم عارض ہے ورنہ تویہ سامان ہیں جیسا کہ اصل خلقت میں تھے اور اسکے بیع صرف نہ ہونے کی تصریح علامہ شامی نے ردالمحتار کے باب الربٰو میں بحر کے حوالہ سے کی اور صاحب بحر نے بحوالہ ذخیرہ عن مشائخ نقل کیا۔ (ت)
 (۱؎ بحرالرائق     کتاب الصرف    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶/ ۱۹۲)

(درمختار    کتا ب البیوع        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۵۵)

(۲؎ ردالمحتار    کتاب البیوع    باب الربٰو    داراحیاء التراث العربی بیروت   ۴/ ۱۸۴)
مگر اس قدر میں شک نہیں کہ جب تاعین رواج ان کے لئے حکم اثمان ہے تو احدالجانبین میں قبض بالید ہونا ضروری ہے۔
والالکان افتراقا عن دین بدین و قد نہی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع الکائی بالکائی ۱؎۔
ورنہ یہ دین کے بدلے دین سے افتراق ہوگا حالانکہ رسول اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ادھار کے بدلے ادھار کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ (ت)
 (۱؎ سنن الدارقطنی    کتا ب البیوع حدیث ۲۶۹        نشرالسنۃ ملتان    ۳ /۷۱)
اختلاف اسی میں ہے کہ آیا یہ قبضہ جانبین سے مشروط یا ایک ہی جانب میں کافی جس نے اصل خلقت پر نظر کی کہا صرف نہیں پھر تقابض کی کیا حاجت۔
وھم الاکثرون وعلیہ نص محمد فی المبسوط واعتمدہ فی المحیط والحاوی والبزازیۃ والبحر الرائق والنہر الفائق وفتاوی الحانوتی وتنویر الابصار والدرالمختار والفتاوی الہندیۃ وغیرہا من متون المذھب وشروحہ و فتاوٰہ وھو مفاد کلام الامام الاسبیجابی کما نقلہ الشامی عن الزین عن الامام
اور وہ اکثر ہیں اسی پر امام محمد نے مبسوط میں نص فرمائی اور اسی پر اعتماد کیا گیا ہے محیط، حاوی ، بزازیہ، البحرالرائق، النہر الفائق ، فتاوٰی حانوتی، تنویر الابصار ، درمختار اور فتاوٰی ہندیہ وغیرہ مذہب کے متون، شروح اور فتاوٰی میں، اور یہی مفا دہے امام اسبیجابی کے کلام کا جیساکہ اس کو شامی نے بحوالہ زین امام اعظم سے نقل کیا ہے۔ (ت)

اور جس نے ثمنیت مصطلحہ پر لحاظ کیا تقابض شرط ٹھہرایا۔
کما افتی بہ العلامۃ قاری الہدایۃ واولہ الفاضل عمر بن نجیم بما یخرجہ عن الخلاف ونازعہ المحقق الشامی قائلا انہ محمول  علی مادل علیہ کلام الامام محمد فی الجامع الصغیر من اشتراط التقابض من الجانبین وکل ذٰلک مشرح فی ردالمحتار۲؎ وغیرہ من الاسفار،
جیسا کہ اس پر فتوٰی دیا علامہ قاری الہدایہ نے اور فاضل عمر بن نجیم نے اس کی ایسی تاویل کی جو اس کو خلاف سے نکالتی ہے اور محقق شامی نے یہ کہتے ہوئے اس کے ساتھ منازعت کی کہ اس کو اس معنی پر محمول کیا جائے گا جس پر جامع صغیر میں امام محمد کاکلام دلالت کرتاہے یعنی دونوں جانبوں سے تقابض شرط ہے اور اس تمام کی تفصیل ردالمحتار وغیرہ ضخیم کتابوں میں ہے،
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو  داراحیاء التراث العربی بیروت  ۴/ ۱۸۴)
قال العبد الضعیف غفراﷲ تعالٰی لہ وما جنح الیہ الفاضل الشامی سیدی محمد بن امین الدین اٰفندی ابن عابدین رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ من دلالۃ کلام الجامع الصغیر علی ذٰلک الاشتراط فقد تبع فیہ صاحب البحر والعلامۃ زین الدین عول علی ماوقع فی الذخیرۃکما ھو ایضا مذکور فی الحاشیۃ الشامیۃ ولکن لی فیہ تأمل بعد فانی راجعت الجامع فوجدت نصہ ھکذا محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم رجل باع رطلین من شحم البطن برطل من الیۃ اوباع رطلین من لحم برطل من شحم البطن اوبیضۃ ببیضتین اوجوزۃ بجوزتین اوفلسا بفلسین اوتمرۃ بتمرتین یدابید باعیانہا یجوز وھو  قول ابی یوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ وقال محمد رحمۃ اﷲ علیہ لایجوز فلس بفلسین ویجوز تمرۃ بتمرتین ۱؎ انتہی کلامہ الشریف نفعنا اﷲ تعالٰی ببرکاتہ فی الدنیا والاٰخرۃ اٰمین۔
یہ عبدضعیف (اللہ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے) کہتاہے کہ جس معنی کی طرف علامہ سید محمد امین الدین آفندی ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی مائل ہوئے اس میں انہوں نے صاحب البحر کی پیروی کی اور علامہ زین الدین نے اس پر اعتماد کیا جو ذخیرہ میں واقع ہوا جیساکہ حاشیہ شامیہ میں بھی مذکور ہے لیکن ابھی تک مجھے اس میں تأمل ہے بیشک میں نے جامع صغیر کی طرف رجوع کیا تو اس کی نص کو یوں پایا کہ محمد نے یعقوب سے اور اس نے ابوحنیفہ سے روایت کیا (رضی اللہ تعالٰی عنہم) کہ ایک شخص نے دورطل پیٹ کی چربی ایک رطل الیہ کی چربی کے عوض یا دو رطل گوشت ایک رطل پیٹ کی چربی کے عوض بیچا یا ایک انڈہ دوانڈوں کے عوض یا ایک اخروٹ دواخروٹوں کے عوض یا ایک پیسہ دوپیسوں کے عوض یا ایک چھوہارا دو چھوہاروں کے عوض فروخت کیا اس طور پر کہ ان تمام چیزوں کا لین دین ہاتھوں ہاتھ ہوا اور یہ تمام چیزیں معین تھیں تو یہ بیع ہے اور یہی قول امام ابویوسف رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کا ، او رامام محمد رحمۃاللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ایک پیسے کی بیع دو پیسوں کے عوض ناجائز اور ایک چھوہارے کی بیع دو چھوہاروں کے عوض جائز ہے ، امام صاحب کا کلام شریف ختم ہوا، اللہ تعالٰی ہمیں دنیاوآخرت میں اس کی برکات سے نفع عطا فرمائے آمین ،
 (۱؎ الجامع الصغیر    کتاب البیوع باب البیع فیما یکال اویوزن        مطبع یوسفی لکھنؤ    ص۹۷)
فمحمل الاستباط انما ھوقولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ یدا بید ولکن قددری من مارس الفقہ ان ھذا اللفظ لیس نصاصریحا فی التقابض بالبراجم الاتری علمائنا رحمہم اﷲ تعالٰی فسروہ فی الحدیث معروف بالعینیۃ کما قال فی الہدایۃ ومعنی قولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام یدابید عینابعین کذا رواہ عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۱؎ انتہی کیف وقد قال اصحابنا رضی اﷲ تعالٰی عنہم ان التقابض انما یشترط فی الصرف واما ماسواہ ممایجری فیہ الربٰوا فانما یعتبر فیہ التعین فان حمل قول ھذا فی العبارۃ التی ذکر نا علی التقابض واستجلب منہ اشتراط ذٰلک فی فلس بفلسین کان ایضا مشترطا فی تمرۃ بتمرتین و بیضۃ ببیضتین وجوزۃ بجوزتین فان المسائل کلہا مسوقۃ بسیاق واحد وہذا لم یقل بہ ائمتنا فوجب حملہ علی اشتراط التعین وکان قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ باعیانہا تفسیر القولہ یدابید والا لکان حشوا مستغنی عنہ فان التقابض فیہ التعیین مع شیئ زائد فذکرہ بعدہ خال عن الفوائد ولذا لما نقل الامام صاحب الہدایۃ ھذہ المسئلۃ عن الجامع الصغیر اسقط عنہا تلک الکلمۃ واقتصر علی ذکر العینیۃ حیث قال قال (ای محمد کما صرح بہ العلامۃ بدرالعینی فی البنایۃ ۱؎) یجوز بیع البیضۃ بالبیضتین والتمرۃ بالتمرتین والجوزۃ بالجوزتین ویجوز بیع الفلس بالفلسین باعیانہما انتہی، فلیس فی الجامع ان شاء اﷲ تعالٰی دلیل علی ماذکر ھٰؤلاء الاعلام وان کان فمع احتمال الغیر احتمالا بینا لایراد ولایرام بخلاف عبارۃ الاصل اعنی المبسوط فانہا نص ای نص فی عدم اشتراط التقابض کما ستری ان شاء اﷲ تعالٰی فعلیہ فلیکن التعویل واﷲ تعالٰی ولی التوفیق ہذا ما سنح للعبد القاصر فتاملہ فان وجدتہ حقا فعلیک بہ والافارم بہ الجدار۔
Flag Counter