Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
158 - 180
احکام الہیہ جل وعلا کے اتباع وامتثال سے ہر گز باب رزق مسدود نہیں ہوسکتا جبکہ وہ رب کریم رؤف رحیم احکام نفس وشیطان کی پیروی اپنی شدید شنیع نافرمانی پر دروازہ رزق بند نہیں کرتا ع
گناہ بیند وناں برقرار میدارد
 (وہ گناہ دیکھتاہے اور اس کے باوجود روزی برقرار رکھتاہے۔ ت)
تو اپنے احکام کریمہ کے اتباع پر کیوں بند فرمائے گا مگر ہمارے مسلمان بھائیوں کی حالت سخت قابل افسوس ہے جو شخص جس کام میں ہاتھ ڈالے اس پر فرض عین ہے کہ اس کے متعلق جو احکام شرع ہیں انہیں سیکھ لے تاکہ معصیت الہی میں نہ پڑے ہمارے بھائیوں نے یہ مسئلہ دنیاوی قانونی میں جاری کیا اور قانون ربانی میں چھوڑدیا اگر کوئی مقدمہ دو روپے کا دائر کریں گے پانچ وکیلوں سے پوچھیں گے کہ اس میں کوئی خامی نہ رہ جائے کسی طرح قانون انگریزی کی مخالفت نہ آئے کہ مقدمہ ہاتھ سے جائے مگر کسی دینی کام میں علماء سے دریافت کرنے کی اصلا حاجت نہیں کہ یہ کیونکر حلال ہے کس طرح حرام کس صورت میں صحیح، کس طورپر فاسد، تو وجہ کیا کہ دو روپے استغفراللہ بلکہ دو پیسے کا نقصان گراں گزرتا ہے دین کی پرواہ کیاہے، یہاں بھی اپنی ناواقفی سے یہ گناہ عظیم سر پر لیا ہے ، اگر علم رکھیں یا علماء سے پوچھیں تویہ کارخانہ بدستور یوں ہی جاری رہے اور خالص حلال وطیب ہو فقط اتنا کریں کہ قیمت میں سونے چاندی، روپیہ، اشرفی، اٹھنی، چونی، دونی نہ کہیں بلکہ جتنے روپوں کو بیچنا ہو اتنے کے پیسوں یا نوٹ کانام لیں مثلا سو روپیہ کا کلابتوں بیچنا ہے تو یوں کہے کہ میں نے یہ کلابتوں تیرے ہاتھ ایک ہزار چھ سوآنے فلوس رائحۃ الوقت کو بیچا یا بعوض نوٹ احاطہ فلاں رقمی صد روپیہ کے بیع کیا اب نہ اتحاد جنس ہے کہ تماثل شرط ہو، ظاہر ہے کہ کلابتوں میں چاندی ہے اور یہاں پیسے یا کاغذ نہ یہ بیع صرف ہے کہ قرضوں مطلقا حرام ہوتا، بنائے کاغذ اصل آفرینش میں ثمن نہیں اور صرف وہی کہ ثمن خلقی ثمن خلقی سے بیع کی جائے، یہ صرف سونا یا چاندی ہے وبس ، ہاں ازانجا کہ فلوس ونوٹ اصطلا حا ثمن ہیں ایک جانب سے قبضہ ضرور ہے کیلا یلزم الافتراق عن دین بدین (تاکہ دین کے بدلے میں دین سے جدا ہونا لازم نہ آئے۔ ت) لہذا اگر روپیہ کے پیسے خریدے روپیہ دے دیا اور پیسے پھر دئے جائیں گے تو مذہب راجح ومعتمد میں کچھ مضائقہ نہیں بعینہٖ یہی حال کلابتوں اور پیسوں یانوٹ کی ہے کہ صرف ایک طرف سے قبضہ ہوجانا کافی اگرچہ دوسری جانب قرض ہو، درمختار میں ہے: الصرف شرعا بیع الثمن بالثمن ای ماخلق للثمنیہ ۱؎ اھ ملخصا صرف اصطلاح شرع میں ثمن کے بدلے ثمن کی بیع ہے یعنی جسے ثمنیت کےلئے پیدا کیا گیا اھ تلخیص۔
(۱؎ درمختار    کتاب البیوع باب الصرف    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۵۵)
وفی ردالمحتار عن البحر عن الذخیرۃ فی مسألۃ بیع فلس بفلسین باعیانہما ان محمداذکر ھا صرف الاصل ولم یشترط التقابض (وعللہ من اعتمد من المشائخ) بان التقابض مع التعیین شرط فی الصرف ولیس بہ ۱؎ کما فیہ عنہ عنہما عنہم قلت وقد حققنا المسألۃ بتوفیق اﷲ تعالٰی فی فتاوٰنا العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ بمایتعین الوقوف علیہ فانہ بحمدہ تعالٰی نفیس لہم قال ابن عابدین سئل الحانوتی عن بیع الذھب بالفلوس نسیئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احد البدلین لما فی البزازیۃ لواشتری مائۃ فلس بدرہم یکفی التقابض من احد الجانبین قال ومثلہ مالو باع فضۃ اوذھبا بفلوس کما فی البحر عن المحیط ۲؎ الخ۔
اور ردالمحتارمیں ایک معین پیسے کی دو معین پیسوں کے عوض بیع کے مسئلہ کے ضمن میں بحوالہ بحر ذخیرہ سے منقول ہے کہ بیشک امام محمد نے اس کو اصل کے باب الصرف میں ذکر کیا اور تقابض کو شرط قرار نہیں دیا، اور معتمد مشائخ نے اس کی تعلیل یوں بیان کی تعیین کے ساتھ تقابض تو صرف میں شرط ہے حالانکہ یہ صرف نہیں، جیسا کہ اس میں امام ابوحنیفہ ، صاحبین اور ان تمام سے منقول ہے قلت (میں کہتاہوں) بے شک ہم نے اس مسئلہ کی تحقیق اپنے فتاوٰی ''العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ'' میں اس اندازسے کردی ہے جس پر واقفیت حاصل کرنا متعین ہے کیونکہ بحمداللہ یہ ان کے لئے بہت عمدہ ہے، امام ابن عابدین نے کہا کہ حانوتی سے سونے کی پیسوں کے عوض ادھار بیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ جائز ہے بشرطیکہ بدلین میں سے ایک پر قبضہ کرلیا گیا ہو اس دلیل کی وجہ سے جو بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی نے سو پیسے ایک درہم کے عوض خریدے تو صرف ایک طرف سے قبضہ کافی ہے اور فرمایا کہ اگر کسی نے پیسوں کے عوض سونا یا چاندی بیچا تو اس کاحکم بھی ایسا ہی ہے بحر میں محیط کے حوالے سے یونہی منقول ہے۔ الخ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب الربٰو        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۸۴)

(۲؎ردالمحتار    کتاب البیوع باب الربٰو        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۸۴)
پھر لیتے وقت یہ ضرور نہ ہوگا کہ خاص پیسے یانوٹ ہی لیں بلکہ برضائے مشتری ان پیسوں یا نوٹوں کے روپے بھی لے سکتے ہیں،
فانہ بیع عین بدین کان علیہ فیجوز برضاہ وقد علمت انہ لیس بصرف ولا سلم قال فی الدرالمختار لوباع ابلا بدراہم اوبکُرّبرجاز اخذ بدلہما شیئا اٰخروکذا الحکم فی کل دین قبل قبضہ کمہرواجرۃ وضمان متلف وبدل خلع وعتق بمال وموروث وموصی بہ والحاصل جواز التصرف فی الاثمان والدیون کلہا قبل قبضہما عینی سوی صرف وسلم فلا یجوز اخذ خلاف جنسہ لفوات شرطہ ۱؎ھ۔
کیونکہ عین کی اس دین کے بدلے میں بیع ہے جو بائع پرہے تو اس کی رضامندی سے جائز ہے حالانکہ تو جان چکا ہے کہ یہ صرف اورسلم نہیں ہے، درمختار میں کہا گیا کہ اگر کسی نے درہموں کے بدلے یا ایک بوری گندم کے بدلے اونٹ بیچا تو ان دونوں کے بدلے کوئی اور شے بھی لے سکتاہے اور یہی حکم ہے قبضہ سے پہلے دین کا ، جیسے مہر، اجرت، ضائع شدہ شیئ کا تاوان، خلع کا بدل، مال کے بدلے آزاد کرنا، مال مورث اور وہ مال جس کی وصیت کی گئی ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام ثمنوں اور دینوں میں قبضہ سے پہلے تصرف جائز ہے (عینی ) سوائے صرف اور سلم کے کہ ان میں خلاف جنس ثمن لینا ناجائز ہے بسبب فوت ہوجانے اس کی شرط کے اھ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب البیوع      فصل فی التصرف فی البیع        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۸۔ ۳۷)
ہاں یہ ضرور ہے کہ جس مجلس میں ان کے عوض روپیہ دینا ٹھہرے اسی مجلس میں تمام وکمال روپیہ اد ا کردیا جائے ورنہ یہ معاوضہ یعنی پیسوں یانوٹوں کے بدلے جوروپیہ دینا قرار پایا ہے ناجائز ہوجائیگا۔
للافتراق عن الکائی بالکائی فی ردالمحتار قولہ جاز اخذ بدلہما شیئا اٰخر لکن بشرط ان لایکون افتراقا بدین کما یاتی فی القرض ۲؎ اھ (وقال فی قرض الدر) جاز شراء المستقرض القرض ولوقائما من المقرض بدراہم مقبوضۃ فلو تفرقا قبل قبضہا بطل لانہ افتراق عن دین بزازیۃ ۳؎ فلیحفظ۔
دین کے بدلے دین کی بیع سے جدا ہونے کی وجہ سے ردالمحتارمیں ہے کہ مصنف کا قول کہ ان دونوں کے بدلے کوئی شے لینا جائز ہے مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ دین کے ساتھ بائع اور مشتری میں جدائی نہ ہو جیسا کہ قرض کے باب میں آرہا ہے اھ اور در کے باب القرض میں فرمایا مستقرض کے لئے جائز ہے کہ قرض دہندہ سے درہم مقبوضہ کے عوض قرض کو خریدے اگر قائم ہو پھر اگر وہ دونوں ان دراہم مذکورہ پر قبضہ سے پہلے متفرق ہوگئے تو خریداری باطل ہوجائے گی کیونکہ یہ قرض سے افتراق ہے (بزایہ) اس کو محفوظ کرلینا چاہئے۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار   کتاب البیوع     فصل فی التصرف فی البیع      داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۶۶)

(۳؎ درمختار    کتاب البیوع    فصل فی القرض        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۹ ۔ ۴۰)
تو دیکھئے صورت بعینہا وہی رہی جو ان بائعوں میں جاری ہے صرف ایک لفظ کے تغیر میں حرمت سے حلت ہوگئی اس مسئلہ کو خوب شائع کرنا چاہئے کہ اہل اسلام جو بلاوجہ گناہ میں مبتلا ہیں معصیت سے نجات پائیں، وباللہ التوفیق۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter