| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اقول: وبالجملۃ النقل فی المسألۃ فاش مستفیض فما وقع فی ردالمحتار لواشتروا بالوکالۃ عن البائع لایجوز لوکانوا اجانب عنہ کما فی قول المصنف اوبوکیلہ ۲؎ اھ سہو عظیم یجب التجنب عنہ ومنشأہ ان المصنف قال فسد شراء ماباع بنفسہ اوبوکیلہ ۳؎ الخ والظرف کان متلعقا بباع وحدہ وتوھم العلامۃ رحمہ اﷲ تعالٰی تعلقہ بکلالفظی الشراء وباع علی سبیل التنازع حیث قال قولہ بنفسہ اووکیلہ تنازع فیہ کل من شراء وباع الخ ۳؎، ثم نقل من البحر کلاما لایوھم مابتخیلہ اصلا انما فیہ منع شراء البائع سواء باع لنفسہ اولغیرہ ومن باع لہ وکیلہ وسواء کان شراء لنفسہ اولغیرہ اماالذی لم یبع ولا بیع لہ فلا تعرض فیہ لمنعہ من الشراء اصلا سواء شری لنفسہ اولغیرہ کوکیل البائع بالشراء اما مافی مختصرا لکرخی فی صدرالکلام المذکور لایجواز ان یشتری ذٰلک وکیل البائع فی قولہم جمیعا ۱؎ (ملخصا) فمعناہ وکیلہ بالبیع کما قدمناہ عن التبیین وفیہ لووکل رجلا ببیع غیرہ فباع ثم ارادالوکیل ان یشتری باقل لنفسہ اولغیرہ بامرہ لم یجز ۲؎ اھ (ملخصا) ومثلہ فی الہندیۃ عن المحیط نعم وکیل البائع فی کلام الفتح المذکور بمعنی وکیلہ بالشراء فتثبت ولاتزل وباﷲ التوفیق واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
میں کہتاہوں خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں نقل عام تواتر کے ساتھ ہے اور جو ردالمحتار میں واقع ہوا ہے کہ اگر بائع کے وکیل ہوکر انہوں نے خریدا تو ناجائز ہے اگرچہ وہ بائع سے اجنبی ہوں _________ جیسا کہ مصنف کے قول ''اوبوکیلہٖ'' میں ہے اھ یہ بہت بڑا سہو ہے جس سے بچنا واجب ہے، اس سہو کا منشا یہ ہے کہ مصنف نے کہا اس چیز کو خریدنا فاسد ہے جس کو بائع نے بذات خود بیچا یا اس کے وکیل نے بیچا الخ اس عبارت میں ظرف (جارمجرور) صرف "باع" سے متعلق تھا جبکہ علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے وہم کیا کہ یہ بطور تنازع "باع" اور" شراء" دونوں لفظوں سے متعلق ہے اسی لئے علامہ نے فرمایا کہ شراء اور باع میں سے ہر ایک نے مصنف کے قول ''بنفسہٖ اووکیلہٖ'' میں تنازع کیا الخ اس کے بعد علامہ شامی نے بحر سے ایسا کلام نقل فرمایا جو علامہ شامی کے تخیل کاوہم تک نہیں رکھتا کیونکہ اس میں تو بائع کی خریداری کو ممنوع قرار دیا گیا ہے چاہے بائع نے بذات خود بیچا ہو یا اس کے وکیل نے اور چاہے اپنے لئے خریداری کرے یا غیر کے لئے لیکن وہ شخص جس نے نہ تو خود بیچا نہ ہی اس کے لئے اس چیز کو بیچا گیا اس کی خریداری کی ممانعت سے اس عبارت میں بالکل کوئی تعرض نہیں چاہے وہ اپنے لئے خریدے یا غیر کے لئے جیسے خریداری کے لئے مقرر کردہ وکیل اور وہ جو کلام مذکور کے شروع میں مختصر کرخی میں مذکور ہے کہ بائع کے وکیل کا اس چیز کو خریدنا تمام فقہاء کے قول میں ناجائز ہے اس کا معنی وہ وکیل جس کو بیع کے لئے مقرر کیا گیا تھا جیسا کہ تبیین کے حوالے سے ہم اس کا ذکر پہلے کر چکے ہیں، اسی میں ہے کہ کسی نے دوسرے کو کسی چیز کی بیع کا وکیل بنایا اور اس نے وہ چیز فروخت کردی پھر اسی وکیل کا ارادہ ہوا کہ اس چیز کو ثمن اول سے کمتر ثمن کے عوض اپنی ذات کے لئے یا کسی اور کے لئے اس کے حکم پر خریدے تو یہ ناجائز ہے اھ اور اس کی مثل ہندیہ میں بحوالہ محیط ہے، فتح کے کلام مذکور میں وکیل بائع سے مراد بائع کا وہ وکیل ہے جس کو خریداری کے لئے اس نے مقرر کیا چنانچہ ثابت قدم رہ مت ڈگمگا، اور توفیق اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے اور اللہ تعالٰی سبحنہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۱۵) (۳؎ درمختار باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۲۶) (۴؎ ردالمحتار باب البیع الفاسد داراحیاء التراث العربی بیروت۴ /۱۱۴) (۱؎ حاشیہ الشلبی تبیین الحقائق بحوالہ مختصر الکرخی باب بیع الفاسد الطبعۃ الکبرٰی مصر ۴ /۵۴) (۲؎ تبیین الحقائق باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۴)
(۳) جائز ہے اگر عمرو نے کہا کہ خرید لاؤ اور اس نے زید سے خرید کر اس جلسہ میں قبضہ کرلیا اس صورت میں عمرو کا تمسک لکھ دینا خریداری نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ دلال زید سے خریدنے کے بعد روپے کے اطمینان کے لئے یہ تمسک اسے دے دے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ہاں اگر دلال نے آکر عمرو سے کہا اور عمرو نے جواب دیا کہ میں نے خریدا یعنی عقد بیع وشراء یہیں ہولیا اور تمسک لکھ گیا بعدہ دلال نے نوٹ زید سےلاکردیا تو حرام وباطل ہے کہ جلسہ بیع میں نہ نوٹ پر قبضہ ہوا نہ روپوں پر۔
فکان افتراقا عن دین بدین وقد نہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع الکائی بالکائی ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
تو یہ دین سے دین کے بدلے جدائی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ادھار کی ادھار کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۱؎ سنن الدارقطنی کتاب البیوع حدیث ۲۶۹ نشرالسنۃ ملتان ۳/ ۷۱)
مسئلہ ۲۶۶: از بنارس محلہ کندی گرٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ حکیم عبدالغفور صاحب ۱۶ جمادی الاولٰی ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلابتوں کی بیع ادھار جائز ہے یانہیں۔ بظاہر معلوم ہوتاہے کہ ناجائز ہوگی کہ گو اس میں تین جز وشریک ہیں یعنی سونا چاندی ریشم لیکن چونکہ حصہ چاندی کا زیادہ ہے لہذا کلابتوں مذکور حکماً چاندی قرار دیا جائے گا اب بوجہ اتحاد جنس یعنی چاندی درمیان کلابتوں اورروپیہ کے بیع ادھارناجائز ہونا چاہئے، یہ بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ہزار ہا بندہ خدا اس معاملہ میں مبتلا ہیں اگر واقعی بیع مرقومہ بالاناجائز ہے اور اشخاص مرتکب فعل ہذا بیع مذکور سے روک دئے جائیں تو باب تجارت خصوصا اہالیان بنارس پارچہ فروش کا مسدود ہوجائے گا نوبت فاقہ کشی کی پہنچے گی، بینوا بالکتاب توجروا یوم الحساب
الجواب : کلابتوں میں سونے کا تو صرف رنگ ہی رنگ ہے اور نرے رنگ کا کچھ اعتبار نہیں جبکہ جلانے سے سونا اس میں سے جدا نہ ہوسکتاہے۔
فان حٍ تمویہ والتمویہ لاعبرۃ بہ لانہ مستہلک کما صرحوا بہ قاطبۃ وفی کافی الامام الحاکم الشہید اذا اشتری لجاما مموہا بفضۃ بدراہم اقل مما فیہ اواکثر فہو جائز لان التمویہ لایخلص الا تری انہ اذا اشتری الدار المموہۃ بالذہب بثمن مؤجل یجوز ذٰلک وان کان مافی سقوفہا من التمویۃ بالذھب اکثر من الذھب فی الثمن ۱؎۔
کیونکہ اس صورت میں یہ سونے کا پانی چڑھانا ہے اوراس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ یہ ہلاک ہونے والی چیز ہے جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے امام حاکم شہید کی کافی میں مذکور ہے اگر کسی نے ایسا لگام خریدا جس پر چاندی کا پانی چڑھا یا گیا تھا کچھ درہموں کے بدلے میں جو اس چاندی سے کم ہوں جس کا پانی لگام پر چڑھا یا گیا یا اس سے زیادہ ہوں تو یہ بیع جائز ہے کیونکہ پانی چڑھانے میں مستعمل چاندی لگام سے الگ نہیں ہوسکتی۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر کوئی ثمن مؤجل کے بدلے ایسا مکان خریدے جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیاہے تو یہ بیع جائز ہوگی اگرچہ پانی چڑھانے میں مستعمل سونا ثمن کے سونے سے زیادہ ہو اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ کافی الحاکم کتاب البیوع باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۳۷)
مگر چاندی کا خود عین مستقل طو ر پر اس میں قطعا موجود کہ وہ چاندی اور ریشم یا سوت کے تار ہیں ایک دوسرے پر بٹے ہوئے تو اس کی بیع غایت یہ کہ چاندی اور اس کے ساتھ ایک اور چیز کی بیع ہوئی یہ اسے حکم صرف سے خارج نہ کرے گا جبکہ دوسری جانب بھی ثمن خلقی یعنی سونا یاچاندی یا روپیہ یا اشرفی ہو پس صورت اتحاد جنس کہ روپیہ یاچاندی کے عوض کلابتوں بیچیں تماثل وتقابض دونوں اور بحالت اختلاف کہ سونے یا اشرفی سے مبادلہ کریں صرف تقابض بدلین بلاشبہہ لازم ہوگا تماثل یہاں یوں کہ ثمن کی طرف چاندی ان تاروں کی چاندی سے جو کلابتوں میں ہیں وزن میں زیادہ ہوتاکہ اس میں سے ان کے مقابل اورباقی اس دوسری چیز ریشم یاسوت کے مقابل ہوجائے اگر ثمن کی طرف چاندی اس کلابتوں کی چاندی سے وزن میں کم یا برابر ہے یا کمی بیشی معلوم نہیں تو بیع حرام وباطل ہے، اور تقابض یوں کہ اس مجلس میں خریدنے والا کلابتوں اور بیچنے والا اس کی قیمت پر قبضہ کرلے اگر کسی طرف سے ایک لمحہ کے لئے بھی ادھار ہو تو بیع باطل و حرام ہے
درمختار میں ہے:
الاصل انہ متی بیع نقد مع غیرہ کمفضض ومزرکش بنقد من جنسہ شرط زیادۃ الثمن فلو مثلہ اواقل اوجہل بطل ولو بغیر جنسہ شرط التقابض ۲؎ فقط۔
قاعدہ یہ ہے کہ جب نقد کوغیر کے ساتھ ملاکر بیچا جائے جیسے مفضض اور مزر کش (جن چیزوں پر سونے یا چاندی کے پتر چڑھائے گئے ہوں تو اگر نقد مبیع کے ہم جنس نقد کے بدلے بیچا جائے تو ثمن کا زیادہ ہونا شرط ہے اگر برابر ہو یا ثمن اس سے کم ہو یا کمی بیشی مجہول ہو توبیع باطل ہے اور اگر غیر جنس کے نقد کے بدلے میں بیچا جائے تو فقط تقابض (دو طرفہ قبضہ) شرط ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵)