Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
156 - 180
(۲) جائز ہے خواہ زید نے بکر کو صرف وصول کرنے کا وکیل کیا ہو یا اس دین کا مالک کرکے قبضہ کرنے کا حکم دیا ہو، 

غمز العیون میں ہے:
یفہم من فروع الواقعات الحسامیۃ ان لصاحب الدراہم الدین استبدال الدنانیر بہا وعکسہ وھو ظاہر وکثیر الوقوع وھی مسألۃ بیع الدین من المدیون ۲؎۔
فروع واقعات حسامیہ سے مفہوم ہوتاہے  دراہم کے قرض والے کو اختیار ہے کہ وہ اس کے بدلے دینار لے لے اور اسی طرح اس کا عکس، اور یہ ظاہر اور کثیر الوقوع ہے اور یہ دین کو مدیون کے ہاتھ بیچنے کا مسئلہ ہے۔ (ت)
(۲؎ غمز العیون البصائر مع اشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۲۱۳)
اشباہ میں ہے:
فی وکالۃ الواقعات الحسامیۃ لوقال وھبت منک الدراھم التی علی فلان فاقبضہا منہ فقبض مکانہا دنانیر جاز لانہ صارالحق للموھوب لہ فیملک الاستبدال ۱؎۔
واقعات حسامیہ کے باب الوکالۃ میں ہے کہ اگر کسی نے دوسرے کو کہا میں نے تجھے وہ درہم ہبہ کردئے جومیرے فلاں پر ہیں تو ان پر قبضہ کرلے، پھر اس نے دراہم کے بدلے دنانیر وصول کرلئے تو جائز ہے کیونکہ یہ موہوب لہ کا حق بن گیا لہذا وہ تبدیل کرسکتاہے۔ (ت)
(۱؎اشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲/ ۲۱۳)
نیز یہاں اگر عمرو وہی نوٹ جو زید سے خریدا سو روپے کانوٹ اپنے پاس سے ملاکر یوں گیارہ سو کے عوض دے تو یہ بھی دونوں صورتوں میں جائز ہے، اگر زید نے بکر کو اس دین کا مالک کردیا تھا جب تو ظایر لان من باع لم یشرو من شری لم بیع (کیونکہ جس نے بیچا اس نے خریدا نہیں اور جس نے خریدا اس نے بیچا نہیں۔ ت) اور اگر زید نے بکر کو وکیل کیا تو ہمارے امام مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک جائز ہے کہ جو چیز کسی قیمت کو بیچی اور قیمت ہنوز ادانہ ہوئی ہو کسی کو اپنا وکیل کرکے اس کے ذریعہ سے وہ چیز کم قیمت کو خریدے، ہاں اگر بکر وکیل نہ ہوتا صرف رسول ہوتا مثلا زید بکر سے کہتا کہ یہ تمسک لے جاؤ اور عمرو سے میری طرف سے کہو کہ میرا روپیہ دے دے بکر آکر اس سے کہتا  کہ زید تجھ سے اپنا روپیہ مانگتا ہے اس پر عمرو وہی نوٹ جو زیدسے خریدا تھا سو کا نوٹ ملا کر بھیج دیتا تو یہ زید کو ناجائز ہوتا کہ یہ خود زید کا خریدنا ہوتا رسول تو بیچ میں نرا ایلچی تھا بخلاف وکیل کہ حقوق بیع اسی کی طرف راجع ہوتے ہیں تو یوں ہوا کہ عمرو سے اس نے خریدا اور اس سے زید نے لیا بیچ میں ایک بیع کا توسط ہوگیا لہذا زید کو لینا حلال ہوا،
غایۃ البیان علامہ اتقانی میں مختصرا مام ابوالحسن کرخی سے ہے: ان وکل البائع من یشتریہ باقل من الثمن الاول فاشتراہ فالشراء جائز عند ابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقال ابویوسف الشراء لازم للوکیل ولایلزم الاٰمر، وقال محمد للامر بشراء فاسد الی ھنالفظ الکرخی وجہ قول محمد انہ امرہ بمالو باشرہ بنفسہ یکون فاسداووجہ قول ابی یوسف العقد لہ زیادۃ فساد بدلیل ابطال الجہاد فلم یجز التوکیل بہ ولابی حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان الموکل فی المعنی مشتری من الوکیل قاصداکما اذا اشتری من غیرہ ۱؎۔
اگر بائع نے وکیل بنایا کہ وہ بائع کی فروخت کردہ چیز کو ثمن اول سے کم پر خریدے اور اس نے خریدلیا تو یہ خریداری امام اعظم ابوحنفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک جائز ہے، امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ یہ خریداری وکیل کے لئے لازم ہوگی آمر کے لئے لازم نہ ہوگی، اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا یہ خریداری فاسد ہے، یہاں تک کرخی کے لفظ ہیں، امام محمد کے قول کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس کام کا وکیل بنایا جس کو اگر یہ خود کرتا تو فاسد ہوتا، امام ابویوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ عقد میں زیادہ فساد ہے اس دلیل کی وجہ سے کہ اس پر ابطال جہاد کی وعید حدیث میں آئی ہے لہذا اس کی توکیل جائز نہیں، اور امام ابوحنیفہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ مؤکل دراصل وکیل سے خریدتاہے تو یہ ایسے ہی ہوگا جیسے وہ کسی غیر سے خریدے۔ (ت)
 (؎ حاشیہ الشلبی علی تبیین الحقائق بحوالہ مختصرا لکرخی    باب البیع الفاسد    المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر  ۴ /۵۴)
فتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
لوباع ثم وکل اٰخر حتی یشتری باقل جاز عندہ ۲؎۔
اگر کسی نے کوئی چیز بیچی پھر کسی کو وکیل بنایا تاکہ وہ اس کو پہلے سے کم قیمت پر خریدے تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الفصل العاشر  نورانی کتب خانہ پشاور ۳/۱۳۳)
تبیین الحقائق میں ہے:
لواشتراہ الوکیل صح لانہ ماباع ولابیع لہ ولو باع الوکیل ثم اشتراہ احدہما لایصح اما الوکیل فلانہ باع واما المؤکل فلانہ بیع لہ اھ مختصرا ۳؎۔
اگر وکیل نے اس کو خریدا تو درست ہے کیونکہ نہ تو وکیل نے اس چیز کو بیچا اور نہ ہی اس کے لئے بیچا گیا، اور اگر وکیل نے اس چیز کو بیچا پھر ان دونوں میں سے کسی ایک نے اس کو (ثمن اول سے کم پر) خریدا تو درست نہیں کیونکہ وکیل نے تو خود اسے بیچا اور مؤکل کے لئے وہ چیز بیچی گئی اھ اختصار (ت)
(۳؎ تبیین الحقائق        باب البیع الفاسد        المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر        ۴ /۵۵)
فتح القدیر میں ہے:
لواشتری وکیل البائع باقل من الثمن الاول جاز عندہ خلافا لہما لان تصرف الوکیل عندہ یقع لنفسہ ۱؎ الخ
اگر بائع کے وکیل نے ثمن اول سے کم پر خریدا تو امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک جائز ہے بخلاف صاحبین کے کیونکہ امام صاحب کے نزدیک وکیل کا تصرف اپنی ذات کے لئے واقع ہوتاہے اھ
 (ا؎ فتح القدیر        باب البیع الفاسد    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/ ۶۸)
Flag Counter