| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
سئل الحانوتی عن بیع الذہب بالفلوس نسئۃ فاجاب بانہ یجوز اذا قبض احد البدلین لما فی البزازیۃ لواشتری مائۃ فلس بدرہم یکفی التقابض من احد الجانبین قال ومثلہ لو باع فضۃ اوذھبا بفلوس کما فی البحر عن المحیط قال فلا یغتر بما فی فتاوی قاری الہدایۃ من انہ لایجوز بیع الفلوس الی اجل بذھب اوفضۃ اھ قلت والجواب حمل مافی فتاوی قاری الہدایۃ علی مادل علیہ کلام الجامع الصغیر من اشتراط التقابض فی الجانبین فلا یعترض علیہ بما فی البزازیۃ المحمول علی مافی الاصل ۱؎ الخ اھ ملخصا۔
حانوتی سے سونے کے پیسوں کے عوض ادھار بیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر بدلین میں سے ایک پر قبضہ کرلیا گیاہے تو جائز ہے اس دلیل کی وجہ سے جو بزازیہ میں ہے کہ اگر کسی نے ایک درہم کے عوض سو پیسے خریدے تو صرف ایک طرف سے قبضہ کافی ہے اور اگر کوئی پیسوں کے بدلے سونا یا چاندی بیچے تو اس کاحکم بھی یہی ہے جیسا کہ محیط کے حوالے سے بحر میں مذکور ہے اور فرمایا کہ جو فتاوٰی قاری الہدایہ میں ہے اس سے دھوکہ مت کھانا یعنی یہ کہ پیسوں کی سونے یا چاندی کے عوض ادھار بیع ناجائز ہے اھ میں کہتاہوں جواب یہ ہے کہ جو جو فتاوٰی قاری الہدایہ میں ہے وہ اس پر محمول کیا جائے گا جس پر جامع کا کلام دلالت کرتا ہے یعنی ایک طرف سے قبضہ کرنا شرط ہے لہذا اس پر بزازیہ کی اس عبارت سے اعتراض نہیں کیا جائے گا جو کہ مبسوط کے بیان پر محمول ہے الخ تلخیص (ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۴)
اسی میں ہے:
لو باع فضۃ بفلوس فانہ یشترط قبض احدا البدلین قبل الافتراق لاقبضہما کمافی البحر عن الذخیرۃ ونقل فی النہر عن فتاوی قاری الہدایۃ انہ لایصح تاجیل احدھما ثم اجاب عنہ ۲؎ الخ ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اگر کوئی چاندی کو پیسوں کے عوض بیچے تو اس میں افتراق سے پہلے بدلین میں سے صرف ایک پرقبضہ شرط ہے دونوں پر قبضہ شرط نہیں جیسا کہ بحرمیں بحوالہ ذخیرہ مذکور ہے، نہر میں فتاوٰی قاری الہدایہ سے منقول ہے کہ بدلین میں سے ایک کو مؤجل کرنا صحیح نہیں، پھر صاحب نہر نے اس کا جواب دیا۔ الخ، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار باب الصرف داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۳۵)
مسئلہ ۲۶۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ڈبل پیسہ کہ وزن میں کم ہے منصوری پیسے سے بدلنا اور کُچھ کوڑیاں اوپرلینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب ناجائز ہے اگرچہ کوڑیاں بھی نہ لے،
کما ہومذھب الامام محمد وھوالراجح والاقرب الی الصواب لتحقق العلۃ اعنی القدروالجنس ووجود التفاضل قطعا وورود الشرع بحرمتہ یقینا واما ماذکر وامن حدیث التفرقۃ بین مااذادخل تحت المعیار فلا یجوز وامااذالم یدخل کفنۃ بحفنتین وفلس بفلسین فیجوز فقد زیفہ العلامۃ المحقق علی الاطلاق فی الفتح ۱؎ بما ترکن الیہ البصائر وتسکن لدیہ الخواطر فلیراجعہ من شاء، قال الشامی وقد نقل من بعدہ کلامہ ھذا واقروہ علیہ کصاحب البحر والنہر والمنح والشرنبلالیۃ والمقدسی ۲؎ انتہی قال العلائی وحرم الکل محمد وصححہ کما نقلہ الکمال ۳؎ انتہی فافہم، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ امام محمد کا مذہب ہے او روہی راجح اور حق کے قریب ترین کیونکہ اس میں علت ربا یعنی قدروجنس متحقق ہے اور قطعی طورپر تفاضل موجودہے، اور اس کی یقینی حرمت پر شرع وارد ہے اور وہ جو فقہاء نے فرق والی بات ذکر کی ہے کہ اگر کوئی چیز معیار کے تحت داخل ہو تو بیع ناجائز اور اگر نہ داخل ہوجیسے ایک مٹھی دو مٹھی کے بدلے میں اور ایک پیسہ دوپیسوں کے بدلے میں تو جائز ہے اس کا رد علامہ محقق علی الاطلاق نے فتح میں کیا ہے جس کی طرف نظریں مائل ہوتی ہیں اور دل سکون پاتے ہیں تو جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے، شامی نے کہا کہ اس کے بعد والوں نے اس کا یہ کلام نقل کیا ہے اور انہوں نے اس کوبرقرار رکھا ہے جیسے صاحب البحر، نہر، منح، شرنبلالیہ اور مقدسی (انتہی) علائی نے کہاامام محمد نے اس سب کو حرام کہا اور ان کے قول کی تصحیح کی گئی جیسا کہ کمال نے اس کو نقل کیا (انتہی) پس سمجھ، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۱) (فتح القدیر باب الربٰو مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۶۳۔ ۱۶۲) (۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب الربٰو داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۱۸۱) (۳؎ درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱)
مسئلہ ۲۶۳ تا ۲۶۵: از کاٹھیا واڑ دھوراجی محلہ سیاہی گران مسئولہ حاجی عیسی خان محمد صاحب ۸ جمادی الاولٰی ۱۳۳۰ھ (۱) زیدنے عمرو کے ہاتھ روپے سے نوٹ ایک وعدہ پر بیچا عمرو بوقت ادا نوٹ لایاا ور اس نوٹ کے عوض زید سے روپے لے کر قبضہ کرلیا پھر روپے زید کو اداکردئے یہ جائزہے یانہیں؟ (۲) زیدنے عمرو کے ہاتھ ہزار وپے کا نوٹ گیارہ سو کو آٹھ ماہ کے وعدہ پر بیچا اور عمرو سے تمسک لکھا لیا پھر زید نے یہ تمسک بکر کو دے دیاکہ تم روپے وصول کرلو عمرو نے بجائے گیارہ سو روپوں کے گیارہ سو کانوٹ دیا، یہ جائز ہے یانہیں؟ (۳) زید نے دلال سے کہا میں ہزار کانوٹ گیارہ سو کو بیچتاہوں تم خرید ار تلاش کردو، دلال عمرو کے پاس آیا عمرو نے دلال سے کہا میرے لئے خرید لاؤ دلال نے عمرو سے تمسک لکھوالیا اور زید سے نوٹ خرید کر تمسک دے دیا اور نوٹ لاکر عمرو کو دے دیا، یہ جائز ہے یانہیں؟
الجواب (۱) جائز ہے مگر ایک صورت میں کہ وہی نوٹ لے کر آئے اور پہلی قیمت سے کم کو بیچے تو یہ ناجائز ہے،
لکونہ شراء ماباع باقل مما باع فان قلت ھو ثمن والاثمان لاتتعین فی العقود فلا یحکم بانہ یبیع ماشری قلت المناط ثمہ ایراد العقد علی عین ما ملکہ سابقا وھذا منتف عند عدم التعین اماھہنا فالمناط ان یعود الیہ عین ملکہ کما خرج قال فی التبیین فی تعلیل المسألۃ لان الثمن لم یدخل فی ضمان البائع قبل قبضہ فاذا عادالیہ عین مالہ بالصفۃ التی خرج من ملکہ وصار بعض الثمن قصاصا ببعض بقی لہ علیہ فضل بلا عوض فکان ذٰلک ربح مالم یضمن وھو حرام بالنص اھ ۱؎ وقال فی الفتح وہذا الان الثمن لایدخل فی ضمانہ قبل البقض فاذا عادالیہ الملک الذی زال عنہ بعینہ وبقی لہ بعض الثمن فہو ربح حصل لا علی ضمانہ من جہۃ من باعہ ۱؎ اھ ومثلہ فی سائر الکتب المعللۃ ومعلوم ان الاثمان لاسیما الاصطلاحیۃ وان لم تتعین فی العقود متعینۃ فی الملک قطعا فلیس للمودع ان یبدل دراہم الودیعۃ بدراہم من عندہ فعود ماملک کما خرج ثابت قطعا وعلیہ تدور رحی المنع کما علمت ھذا ماظہر لی وارجوان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی واعلم۔
کیونکہ یہ اپنی ہی فروخت کردہ شیئ کو اس قیمت سے کم پر خریدنا ہے جس پر اس نے فروخت کی تھی اور تو کہے کہ وہ ثمن ہے اور ثمن عقود میں متعین نہیں ہوتے چنانچہ یہ حکم نہیں لگایا جائے گا کہ وہ اسی چیز کو بیچ رہا ہے جس کو اس نے خریدا ۔ میں کہتاہوں کہ وہاں دارومدار عقد کے بعینہٖ اس چیز پر وار دکرنے پر ہے جس کا وہ سابق عقد میں مالک ہواا ور وہ عدم تعین کے وقت منتفی ہے لیکن یہاں دارومدار اس پر ہے کہ اس کا مملوک بعینہٖ اس کے پاس لوٹ آئے جیسے اس کی ملک سے خارج ہوا تھا، تبیین میں اس مسئلہ کی تعلیل یوں فرمائی کہ چونکہ ثمن قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوا اورجب اس کا مال بعینہٖ اس کے پاس لوٹ آیا اسی صفت کے ساتھ جس کے ساتھ اس کی ملک سے خارج ہوا تھا اور بعض ثمن بعض کا بدلہ ہوگئے تو اس کے لئے دوسرے پر کچھ زیادتی بلاعوض رہ گئی تو یہ نفع ہے اس چیز پر جو ابھی ضمان میں نہیں آئی، اور یہ نص سے حرام ہے اھ، فتح میں کہا یہ حکم اس لئے ہے کہ ثمن قبضہ سے پہلے بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوتے پھر اس کی مملوک جواس کی ملکیت سے زائل ہوئی تھی بعینہٖ اس کی طرف لوٹ آئی اورا س کے بعض ثمن باقی رہے تویہ ایسا نفع ہے جو اس چیز پر حاصل ہوا جو اس کی ضمان میں نہیں اور اس شخص کی طرف سے حاصل ہوا جس کو اس نے یہ چیز بیچی تھی اھ اور اس کی مثل تمام تعلیل بیان کرنے والی کتابوں میں ہے، اور یہ معلوم ہے کہ ثمن خصوصا اصطلاحی ثمن اگر چہ عقود میں متعین نہیں ہوتے مگر ملک میں قطعی طور پر متعین ہوتے ہیں لہذا جس کے پاس امانت کے طور پر درہم رکھے گئے ہوں وہ ان کو اپنے پاس سے دوسرے درہموں سے بدل نہیں سکتا چنانچہ مملوک کا لوٹ کر آنا جیسا کہ وہ ملک سے خارج ہوا تھا قطعی طور پر ثابت ہوگیا اور ممانعت کی چکی اس پر گھومتی ہے جیسا کہ تو جان چکا ہے یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ تعالٰی یہ درست ہوگا، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے۔ (ت)
(۱؎ تبیین الحقائق باب البیع الفاسد المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۵۴) (۱؎ فتح القدیر باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۷۱)