فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
154 - 180
مسئلہ ۲۵۹: مرسلہ مولوی احسان حسین ۲۳ شعبان ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کسی شخص نے بہ نیت تجارت ہزار پانسو کے نوٹ کچہری سے خرید کرکے دس روپے کا نوٹ بارہ روپے کو قرض فروخت کرکے ایک روپیہ ماہوار سال بھر تک مدیون سے لے لینا مقرر کیا اور اگر دو نوٹ دس دس روپے کے فروخت کئے تو دو روپے ماہوار قسط ایک سال تک مقرر کیا اور مدیون سے تمسک لکھا کہ شرط کرلیتے ہیں کہ سال بھر میں ادا نہ کرو گے تو نالش کرکے مع خرچہ کے مدیون کی جائداد سے یا اس کے ضامن سے وصول کیا جائے گا۔ بینوا توجروا
الجواب
یہ صورت ناجائز ہے کہ شرط فاسد مفسد بیع ہے اور بیع فاسدحرام وواجب الفسخ اور مدار اعمال کانیت پر ہے،
واللہ یعلم المفسد من المصلح ۱؎
(اور اللہ تعالٰی جانتاہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے ۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۲۰)
جو فعل سو د کی نیت سے کیا جائے قطعا موجب گناہ ہوگا اگر چہ فی نفسہ ربا نہ اور قرض زیادہ کو بیچنا بھی کراہت سے خالی نہیں اورنوٹ کی خریدوفروخت پر کمی بیشی بلا شبہہ جائز ہے والتفصیل فی فتاوٰنا (اورتفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۲۶۰: ۸رمضان المعظم ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ نوٹ رائج الوقت سو روپیہ کا ایک سو بیس روپیہ کو کسی شخص کے ہاتھ فروخت کیا جائے اور دس روپے ماہوار مشتری سے وصول کیا جائے تویہ فروخت جائز ہے یاناجائز؟
الجواب: نوٹ مثل اور اشیاء فروختنی کے ایک چیز ہے مالک کو اپنی ملک پر نفع لینے بیع وشراء شرعی میں اختیار ہے جبکہ مشتری کی رضامندی ہو دس روپے کا تھان مشتری کی رضامندی سے سوروپے کو بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں پھر وہ روپے چاہے نقد ٹھہریں خواہ قسط بندی سے،
امام ابن الہمام فتح القدیر شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں :
لو باع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۲؎۔
اگرکاغذ کا ایک ٹکڑا ہزار درہم کے بدلے میں بیچا تو جائزہے اور اس میں کراہت نہیں ہے۔(ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴)
ہاں یوں کہ سوروپے قرض دئے اوریہ ٹھہرالیا کہ اس کے عوض ایک سودس روپے کا نوٹ لوں گا یا سو روپے کا نوٹ ایک سودس کو بیچا اور قرار داد کیا کہ یہ زر ثمن اگر بتدریج دو تو سال بھر تک دس روپے ماہوار یہ صورتیں قطعی سود وحرام ہیں، حدیث میں ہے :
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۱؎۔
جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ (ت)
(۱؎ کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۶ /۲۳۸)
اوریہ خیال کہ بیع میں زیادہ بیچنا کیوں جائز ہوااور قرض دے کر زیادہ ٹھہرالینا کیوں حرام ہوا، دونوں ایک ہی سے ہیں، یہ وہ مہمل اعتراض ہے کہ کافروں نے شریعت مطہرہ پر کیا اور قرآن عظیم نے اس کا جواب دیا:
قال اﷲ تعالٰی قالوا انما المبیع مثل الربٰو واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو ۲؎۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: کافر بولے بیع تو ایسی ہی ہے جیسے سود اور ہے یہ کہ اللہ تعالٰی نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۷۵)
مسئلہ ۲۶۱: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے بقال کو ایک روپیہ دیا کہ اس کے پیسے دے دے اس نے ۸ /دئے اور کہا کہ ۸/ کل دوں گا، یہ چھوڑ دینا گناہ ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : اس صورت کے جواز میں روایات مختلف ہیں لیکن اکثر معتبرات مثل تنویرا لابصار ودرمختار وفتاوٰی بزازیہ ومبسوط ومحیط وذخیرہ وبحرالرائق ونہر الفائق وفتاوٰی علامہ حانوتی وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں جواز پر جزم فرمایا تو بہتر بچنا ہے خروجا عن الخلاف (اختلاف سے نکلنے کے لئے۔ ت) اور اگر ایسا کرے تو کچھ گناہ بھی نہیں لجنوح عامۃ العلماء الی الجواز (عام علماء کا جواز کی طرف بیان ہونے کی وجہ سے ۔ ت)
تنویر الابصارمیں ہے:
باع فلو سا بمثلہا او بدراہم اوبدنانیر فان نقد احدہما جازوان تفرقا بلاقبض احدہما لم یجز ۳؎ انتہی۔
کسی نے پیسے فروخت کئے اپنی مثل کے عوض یا درہموں یا دیناروں کے عوض، اگر دونوں میں سے ایک نے نقد ادائیگی کی تو جائز ہے اور اگرقبضہ سے پہلے بائع اور مشتری دونوں جدا ہوگئے تو ناجائز ہے۔انتہی۔ (ت)
(۳؎ درمختار شرح تنویر الابصار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۲)
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے :
اذا اشتری الرجل فلو سابدراہم و نقد الثمن ولم تکن الفلوس عند البائع فالبیع جائز کذا فی المبسوط وروی الحسن عن ابی حنیفۃ اذا اشتری فلوسا بدراہم ولیس عند ھذا فلوس ولا عند الاٰخردراہم ثم ان احدہما دفع و تفرقاجازوان لم ینقد واحد منہما حتی تفرقا لم یجز کذا فی المحیط ۱؎ اھ ملخصا۔
اگر کسی نے درہموں کے بدلے پیسے خریدے اور ثمن نقد ادا کردئے مگر بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہ تھے تو بیع جائز ہے یونہی مبسوط میں ہے، اورحسن نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ اگر کسی نے درہموں کے عوض پیسے خریدے جبکہ نہ اس (بائع) کے پاس پیسے ہیں نہ دوسرے (مشتری) کے پاس درہم ہیں پھر اگر ان میں سے ایک نے ادائیگی کردی اور وہ جدا ہوگئے تو جائز اور اگر جدا ہونے تک دونوں میں سے کسی نے بھی ادائیگی نہ کی تو ناجائز ہے محیط میں یوں مذکور ہے اھ تلخیص۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الصرف الباب الثانی الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۲۲۴)