Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
153 - 180
مسئلہ ۲۵8: از ملک بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیا مرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دس روپے دے کر پندرہ روپے کا پیسہ لینا جائز ہوگا یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب: بیع میں جائز ہے
قال اﷲ تعالٰی واحل اﷲ البیع ۱؎
 (اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور حلال کیا ہے اللہ تعالٰی نے بیع کو۔ ت)
 (۱؎ القرآن الکریم      ۲ /۲۷۵)
درمختارمیں ہے :
صح بیع درہمین ودینار بدرہم و دینارین بصرف الجنس بخلاف الجنس ومثلہ بیع کُرّبروکر شعیر بکر بروکر شعیر وکذا بیع احد عشردرہما بعشرۃ دراہم ودینار ۲؎۔
جنس کو خلاف جنس کی طر ف پھیرنے کی وجہ سے دو درہموں اور ایک دینار کو دو دیناروں اورایک درہم کے عوض بیچناصحیح ہے، اور اسی کی مثل ہے ایک بوری گندم او ایک بوری جو کو دو بوری گندم اور دو بوری جو کے عوض فروخت کرنا اور اسی طرح گیارہ درہموں کو دس درہم اور ایک دینار کے عوض بیچنا۔ (ت)
 (۲؎ درمختار        کتاب البیوع باب الصرف     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۵۵)
اورقرض میں حرام
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو ۳؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور اس نے سود کوحرام کیا۔ ت)
 (۳؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۴؎۔
جوقرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ (ت)
 (۴؎ کنزالعمال        حدیث ۱۵۵۱۶        مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۶/ ۲۳۸)
یعنی اگر دس روپے دو سوچالیس آنے کو بیچے تو حلال اور اگر دس روپے قرض دئے اس شرط پر کہ د و سوچالیس یا ایک سو اکسٹھ ہی آنے لوں گا توحرام ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter