فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
152 - 180
درمختارمیں ہے:
من اعطی صیر فیادرہما کبیرا فقال اعطنی بہ نصف درہم فلوساونصفا الاحبۃ صح ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ ومابقی بالفلوس ۲؎۔
کسی نے صراف کو ایک بڑا درہم دیتے ہوئے کہا کہ نصف درہم کے پیسے دے دو اور نصف درہم دے دو جس میں سے ایک حبہ کم تر ہو تو بیع صحیح ہوگی نصف درہم ایک حبہ کم اپنی مثل کے مقابل ہوجائے گا اور باقی پیسوں کے مقابل ہوگا۔ (ت)
(۲؎ درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷)
نوٹ اور پیسے تو اصطلاحی ثمن ہیں سونا چاندی ثمن خلقی ہیں اور ہر شخص جانتاہے کہ ایک اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہے، مگر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ ایک روپیہ ایک اشرفی کو بیچنا صحیح ہے تو وجہ وہی ہے کہ اختلاف جنس کے بعد تفاضل جائز ہے۔
درمختارمیں ہے :
دودرہموں اور ایک دینار کو دو دیناروں اور ایک درہم کے بدلے فروخت کرنا صحیح ہے جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیرنے کی وجہ سے۔ (ت)
(۳؎درمختار باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵)
عام اشیاء کی قیمت کا اندازہ روپوں ہی کے ساتھ کیا جاتاہے اس سے وہ روپے کے عین یا چاندی کی جنس نہیں ہوجاتیں اشرفیوں کا اندازہ بھی یونہی ہے کہ فلاں اشرفی سولہ روپے کی فلاں بیس کی فلاں پچیس کی پیسوں کا اندازہ بھی یہی ہے کہ روپے کے سولہ آنے چونسٹھ پیسے اس سے اگر پیسے یا اشرفی روپے کے عین یاچاندی کی جنس ہوجاتے تو ایک اشرفی ایک روپیہ کو کیونکر جائز ہوتی جبکہ بیس روپے کی اشرفی ایک روپے کو بیچنا یایوں کہئے کہ مشتری کی طرف سے ایک روپیہ پچیس روپے کی اشرفی کو بیچنا صحیح ہوا اور ربا نہ ٹھہرا تو دس کانوٹ بارہ کو دینا کہاں سے رباہوجائیگا پچیس کے اشرفی کہنے نے جس طرح اشرفی کو چاندی نہ کردیا تھا یونہی دس کا نوٹ کہنا کاغذ کو نقرہ نہ بنادے گا۔ عام کتب مذہب میں تصریح ہے کہ علت ربا اتحاد وقدروجنس ہے اس کے بعد وزن میں برابری فرض ہے مالیت کا کچھ لحاظ نہیں مثلا کھری چاندی کا عمدہ زیور کہ صناعی کے باعث اپنے وزن سے دوچند قیمت کا ہوگیا ہو جب چاندی کے عوض بیچیں تو فرض ہے کہ دونوں کانٹے کے تول برابر ہوں اختلاف مالیت پر نظر کرکے کمی بیشی کی تو حرام اور ربا ہوجائے گا یونہی عمدہ سونا پچیس روپے تولے والاخراب سونے دس روپے تولے والے سے بیچیں جب بھی فرض ہے کہ وزن بالکل یکساں ہو اس کا خیال نہ کریں گے کہ اس کی مالیت تو اس سے ڈھائی گئی ہے،
ہدایہ ودرمختار میں ہے :
لایجوز بیع الجید بالردی ممافیہ الربا الا مثلا بمثل لاھدار التفاوت فی الوصف۔ ۱؎
اموال ربویہ میں عمدہ کی بیع ردی کے ساتھ صرف اسی صورت میں جائز ہے کہ وہ برابر برابر ہوں کیونکہ یہاں وصف میں تفاوت معتبر نہیں(ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب الربٰو مطبع یوسفی لکھنؤ ۳ /۸۱)
اگر نوٹ عرف میں بفرض غلط روپے کا عین ہی سمجھا جاتاہو تواب ہم پوچھتے ہیں کہ شرعا بھی اس پر روپے کی تمام احکام جاری ہونا ضروری ہے یانہیں، اگرنہیں تو ربا کدھرسے آیا، ابھی فتح القدیروردالمحتار وغیرہا سے تصریح گزری کہ کاغذ کاا یک پرچہ ہزار روپے کو بیچنا جائز ہے اور جائز بھی ایسا جس میں نام کو کراہت تک نہیں، خدا انصاف دے تو یہ نوٹ کی بیع مذکور کا صریح جزئیہ ہے جسے علمائے کرام حدوث نوٹ سے صدہا سال پیشتر تحریر فرماگئے اور ثمنیت اصطلاحیہ سے فرق محض جہالت ہے جس کا بیان مشرح گزرا اور اگر آپ کے زعم میں شرعا بھی نوٹ پرروپے ہی کے احکام ہیں تواب الٹا ربا تم پروارد ہوگا روپے کا حکم یہ نہ تھا کہ دوسرے روپے سے اسے بدلو تو مالیت برابر دیکھ لو بلکہ وزن برابر کرنے کاحکم تھا تو چاہئے کہ جولوگ دس کا نوٹ دس کوبیچیں حرام قطعی اور سود ہو کہ ایک طرف ماشہ بھر وزن ہے اور دوسری طرف دس تولہ بلکہ واجب ہوکہ کانٹے میں نوٹ رکھ کر جتنی چاندی اس پر چڑھے اسی قدر کو بیچیں تو نوٹ میں برابری فرض کرنے والے خود ہی اپنے زعم کے رو سے سود حلال کررہے ہیں اس سے بھی قطعی نظر سہی نوٹ اگر عین ہوگیا تو روپے کا ہوا اشرفی کا تونہ ہوگا یا ایک ہی چیز سونے اور چاندی دونوں کا عین ہوجائے گی اور ابھی درمختار سےگزرا کہ ایک روپےکی بیع ایک اشرفی سےصحیح ہےاور ہر گز ربا نہیں۔ نوٹ جبکہ روپے کا عین ٹھہرا تو دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفیوں کوبیچنا قطعا ربا نہ ہوگا اب یہ عجیب حکم پیدا ہوگا کہ دس کا نوٹ بارہ روپے کو بیچو جب تو سوداور دس کے نوٹ پر بارہ اشرفیاں لے جاؤ تو اصلا سود نہیں، غرض ان لوگوں کی مخالفت اصلا کسی اصل شرعی کی طرف راجع نہیں محض اپنے تخیلات بے سروپا ہیں یہ حکم بیع کا تھا البتہ دس کا نوٹ قرض دینا اور یہ ٹھہرا لینا کہ ادائے قرض کے وقت بارہ روپے یا پیسہ او پردس روپے لوں گا یہ حرام اور سود ہے۔ حدیث میں ہے : قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل قرض جرمنفعۃ فہو ربا ۱؎۔ رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے، اس کو حارث بن ابواسامہ نے سیدنا امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت کیا۔ (ت)
اوریہ خیال کہ بیع میں زیادہ کو بیچنا کیوں جائز ہوا اور قرض دے کر زیادہ ٹھہرالینا کیوں حرام ہوا تو دونوں ایک ہی سے ہیں یہ وہ مہمل اعتراض ہے کہ کافروں نے شریعت مطہرہ پر کیا اور قرآن عظیم نے اس کا جواب دیا:
قال اﷲتعالٰی قالوا انما البیع مثل الربٰو واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو ۲؎۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲ /۲۷۵)
اللہ تعالٰی نے فرمایا: کافر بولے بیع تو ایسے ہی ہےجیسے سود اور ہے یہ کہ اللہ نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔
فقیر ان مضامین عالیہ کی تفصیل میں بعونہ تعالٰی ایک رسالہ لکھ سکتاہے مگر عاقل ذی انصاف کو یہی جملے بس ہیں مسلمان انھیں بغور وانصاف دیکھیں اور اہل حق پر جاہلانہ اعتراض سے احتراز کریں والہادی وولی الایادی ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۶: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک نوٹ قیمتی (عہ/) روپے کا زید نے عمرو کے ہاتھ مبلغ ( ع عہ/) روپے کو اس شرط پر بیع کیا کہ ایک روپیہ ماہوار قسط کرکے بارہ مہینہ میں اس زرثمن کوپورا کردے جو زید نےعمرو سے مقرر کی ہے اور اس کے اطمینان کے لئے عمرو نے اپنے مکان وغیرہ کو مستغرق کردیا کہ اگر روپیہ نہ ادا ہو تو اس سے وصول کرسکے۔ بینوا توجروا
الجواب: جبکہ حقیقۃً بائع ومشتری دونوں کو فی الواقع بیع صحیح شرعی مقصود ہو اور فریقین کی سچی رضامندی سے عقد واقع ہو اور نوٹ اسی جلسہ میں مشتری کے قبضہ میں دے دیا جائے تو اختلاف جنس کی حالت میں شرع مطہر نے بازار کے بھاؤ پر کمی بیشی منع نہ کی، اور جہاں قرض دینا اور اس پر زیادہ لینا ہو وہ ضرور سودا ور حرام ہے جہال اگر اس فرق کو نہ جانیں تو یہ وہی امر ہے جس کی خود قرآن عظیم میں تصریح ہے :
قال اﷲ تعالٰی قالوا انما البیع مثل الربٰو واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو ۱؎۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۵)
اللہ تعالٰی نے فرمایا: کافر بولے بیع تو ایسے ہی ہے جیسے سود اور ہے یہ کہ اللہ نے حلال فرمائی بیع اور حرام فرمایا سود۔
اورخالی استغراق بے قبضہ شرعا کوئی چیز نہیں
قال اﷲ تعالٰی فرھن مقبوضۃ ۲؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا: پس رہن قبضہ کیا ہوا۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۲۸۳)
اور بعد قبضہ اس سے نفع اٹھانا حلال نہیں مثلا زید کو اس مکان میں رہنا یا کرایہ پر دے کر اس کا کرایہ لینا حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۷: از مارہرہ مطہر ضلع ایٹہ مرسلہ حضرت سید ارتضاحسین صاحب ۱۴ رجب ۱۳۲۶ھ
بیع الفلس بالفلسین جائز یا ناجائز؟ زیادہ نیاز
الجواب : راجح یہ کہ ناجائز ہے،
کما حققہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح واقرہ علیہ من بعدہ من المحققین کالبحر والنہر والغزی والمقدسی و الشرنبلالی وفی الدرالمختار حرم الکل محمد وصحح ۳؎ ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح میں اس کی تحقیق فرمائی اور بعد میں آنے والے محققین نے اس کو برقرار رکھا جیسے بحر ، نہر، غزی مقدسی اور شرنبلالی، اور درمختار میں ہے کہ امام محمد نے سب کو حرام کہا اور اس قول کو صحیح قرار دیا واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۳؎درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱)