Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
151 - 180
مسئلہ ۲۵۳ تا ۲۵۴: از بدایوں محلہ سوتہنہ مرسلہ مولوی حامد بخش صاحب خان بہادر ۲۷ رمضان المبارک ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:

(۱) زید نے دس روپیہ کاسرکاری نوٹ بکرکے ہاتھ بارہ روپے میں اس شرط سے بیچا کہ بکر اس کو ایک سال میں بارہ روپیہ باقساط یاکل یکشمت ادا کردے تویہ بیع صحیح ہے اور سود تونہیں ہے؟

(۲) زید نے مختلف دھات کے سکہ دس روپیہ کے جمع کرکے بکر کے ہاتھ (صہ عہ/ ) روپیہ میں بیع کئے او ر یہ روپیہ چار ماہ کے بعدلینا چاہا تو یہ بیع صحیح ہے یانہیں؟ یا اس پندرہ روپیہ کاغلہ کسی قسم کا کسی نرخ پر ٹھہرالیا تو وہ جائز ہے یانہیں؟
الجواب

(۱) نوٹ اگرقرض دیا جائے اور ایک پیسہ زیادہ لینا ٹھہرالیا جائے تو قطعی حرام ہے
قال اﷲ تعالٰی وحرم الربٰو ۲؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور اللہ تعالٰی نے سود کو حرام کیا۔ ت)
 (۲؎ القرآن الکریم    ۲ /۲۷۵)
اور اگر نوٹ روپیہ کے عوض بیع کریں اور اس پر جو قیمت مکتوب ہے اس سے کم یا زیادہ برضائے باہمی معجل خواہ مؤجل باجل معلوم ثمن قرار دیں تو ضرور حلال ہے
قال اﷲ تعالٰی واحل اﷲ البیع ۳؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال کیا ۔ ت)
(۳؎القرآن الکریم     ۲ /۲۷۵)
جس شخص نے یہ گمان کیا کہ نوٹ عرفاً چاندی کا عین ہو رہا ہے تو دس کا نوٹ بارہ کو بیچنا گویا دس روپے بارہ روپیہ کو بیچنا ہے اور سود ہے یہ اس کی محض نافہمی اور قواعد شرعی سے بیگانگی بہ استیلا ئے وہمی ہے نوٹ اگر چاندی کا ہم جنس نہیں اور قطعا نہیں جب تو کمی بیشی حرام ٹھہرانا کیا معنی کہ ہمارے ائمہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے اجماع سے اختلاف جنس کی حالت میں تفاضل حلال ہے اور اگر بفرض غلط اسے چاندی کا عین سمجھ لیجئے تو اب دس کانوٹ دس کو بیچنا عین سود اور حرام مردود ہوگا، اموال ربویہ میں شرع نے مالیت کالحاظ نہیں فرمایا بلکہ وزن وکیل میں برابری کاحکم دیا ہے تمام کتب میں تصریح ہے کہ جیدہ وردیہ سواء (اس کا عمدہ اور ردی برابر ہیں۔ ت) سادہ کاری کا زیور ایک ماشہ وزن کا ایک ایک روپیہ کی مالیت کا ہوتاہے پھر کیا شرعا ماشہ بھر چاندی کی انگوٹھی ایک روپے کی بیچنی حلال ہوگی، حاشا بلکہ قطعا سود ہوگی واجب یہ کہ تول میں بلا تفاوت یکساں  ہوں تو نوٹ بھی اگر چاندی ہی کا قرار پاگیا تو ہرگز اس کا لحاظ جائز نہیں کہ مالیت میں دس یا سو یا ہزار روپے کا ہے بلکہ وزن معتبر ہوگا کانٹے میں ایک طرف نوٹ دوسری طرف چاندی رکھئے دونی چونی جو کچھ چڑھے بس اتنے کو بیچنا حلال ا ورا س سے ایک پیسہ زیادہ لیا اور سود کا وبال تو ظاہر ہوا کہ نوٹ کو چاندی ٹھہرا کر جو لوگ دس کا نوٹ دس ہی کو بیچنا بتارہے ہیں اب اپنے منہ آپ سود کو حلال کرتے اور بندگان خدا کو حرام کا راستہ سکھا رہے ہیں ،جانے دیں ان کی خاطر ہم نے تسلیم کرلیا کہ نوٹ بالکل چاندی ہے اور روپے سے بدلنے میں اس کی مالیت ہی کی برابر لازم ہے بہت اچھا، جب وہ چاندی ٹھہرا تو سونا تونہ ہوسکے گا یا ایک ہی چیز یا سونے دونوں کی عین ہے اور جب سونا نہیں تو نوٹ اور اشرفی ضرور مختلف الجنس ہیں اور اب تفاضل یقینا سود نہیں دو روپے اور ایک اشرفی کو دو اشرفیوں اور ایک روپے کے عوض بیچنے کا جزئیہ درمختار وغیرہ کتب مذہب میں مصرح ہے صرف للجنس الی خلاف الجنس ۱؎ (جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیرتے ہوئے ۔ ت)
(۱؎ درمختار    کتاب البیوع باب الصرف    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۵۵)
یعنی یہ قرار دینگے کہ ایک اشرفی ایک روپے کو بیچی اور دو روپے دواشرفیوں کے عوض بیع کئے اور یہ صحیح ہے کہ جنس مختلف ہے تو دس روپے کا نوٹ بارہ اشرفیوں کو بیچنا تو سود نہ ہوگا اب اپنے اس مسئلہ کا اندازہ خود وہی کرسکیں گے کہ دس روپے کا نوٹ بارہ روپے کو بیچنا تو سود اور بارہ اشرفیوں کو بیچنا صحیح وغیر مردود۔

بالجملہ یہ سب ہوسات بے معنی ہیں جن پر شرع مطہر سے اصلا دلیل نہیں اور ہمارے علمائے کرام قدست اسرارہم کی کرامت ہے کہ حدوث نوٹ سے صدہا سال پہلے اس کا جزئیہ ارشاد فرماگئے۔
فتح القدیر میں فرمایا :
لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۱؎۔
     یعنی اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزارروپے کو بیچا جا ئز ہے اور اصلا کراہت بھی نہیں۔
 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الکفالۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶ /۳۲۴)
اس وقت کاغذ کا ٹکڑا ہزار کو بکتا کہاں  تھا وہ یہی نوٹ کہ اب حادث ہوا اور علماء نے صدہا سال پیشتر اس کا حکم بتایا، یہ اجمال ہے اور اس مسئلہ کی باقی تفصیل فتاوٰی فقیر میں ہے اور اہل انصاف کو اسی قدر کافی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) غلہ کہ ابھی نہ لیا جائے گا اور وعدہ پر ٹھہرا لیا گیا اس میں تو بیع سلم کی شرائط درکارہیں جن کی تفصیل و تمثیل سب بتکمیل فتاوٰی فقیرمیں مذکور، اور اگر ان دھاتوں میں سونا چاندی دونوں میں سے کچھ نہیں تو دس کی مالیت کی پندرہ روپے کو چارماہ کے وعدہ پر بیچنا جائز جبکہ ایک طرف سے قبضہ ہوجائے اوراگر سونا یا چاندی بھی ہے تو وعدہ پر بیچنا حرام، ہاں نقد پندرہ روپے کو دس روپے کے مختلف دھاتوں کے سکے دے دینا صحیح ہے اور سود نہیں،
لما مرصرف الجنس الی خلاف الجنس ۲؎ ای فیکون بالفضۃ مایساویہا وزنا من الدراہم وبالباقی الباقی، واﷲ تعالٰی اعلم۔
جیساکہ گزرا کہ جنس کو خلاف جنس کی طرف پھیرا جائیگا یعنی چاندی کے بدلے درہم میں سے اس وزن کے برابر ہوگا  اور باقی باقی کے بدلے، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار  کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی۲ /۵۵)
مسئلہ ۲۵۵: از شہر کہنہ مرسلہ حمایت اللہ خاں صاحب ۲۹ رجب ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ دس روپے کا نوٹ دے کر بارہ روپیہ عوض میں لینا حلال ہے یا حرام؟ بینوا توجروا
الجواب 

بیع میں حلال ہے یعنی دس کانوٹ بارہ یا بیس کو برضائے مشتری بیچے تو کچھ مضائقہ نہیں 

فتح القدیرو ردالمحتار وغیرہما کتب معتمدہ میں ہے :
لوباع کاغذۃ بالف یجوز ولایکرہ ۲؎۔
   اگر کاغذ کا ٹکڑا ہزاروپے میں بیچا تو جائز ہے اور ا س میں کوئی کراہت نہیں۔ (ت)
(۳؎ فتح القدیر  کتاب الکفالۃ   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴)
اور اصطلاحی طورپر اس کی قیمت معین ہونا بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی کو نہیں روکتا، ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنا مال جو عام نرخ سے دس روپے کا ہو برضائے مشتری سو روپیہ کو بیچے یا ایک ہی پیسہ کو دے دے
قال اﷲ تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: مگر یہ کہ ہو تمھارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم۴ /۲۹)
نوٹ کا ثمن اصلاحی ہونا بھی اس کا مانع نہیں کہ اختلاف جنس کی حالت میں ہمارے ائمہ کے اجماع سے تفاضل جائز ہے ایک روپے کے پیسے بہ تعین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں ہر بچہ جانتاہے کہ روپے کے صرف سولہ آنہ آتے ہیں نہ پندرہ نہ سترہ، یہ عرفی تعیین اور اس کا ثمن مصطلح ہونا عاقدین پر کمی بیشی حرام نہیں کرسکتا۔ علماء نے تصریح فرمائی کہ اٹھنی سے زیادہ کے عوض آٹھ آنے پیسے بیچنا حلال ہے،
Flag Counter