Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
150 - 180
مسئلہ ۲۴۷: مرسلہ شیخ حسین بخش صاحب رضوی فاروقی خیر آبادی  ۲۹ رجب ۱۳۰۵ھ

چہ میفرمایند مسند آرایان شرع مبین ومولویان دین متین درباب کہ زید یک درم نزدبکر آورد گفت کہ این درم برگیرد فلوس بدہ بکر منجملہ نرخ فلوس رائج الوقت زید راداد گفت کہ فلوسے چند بموجب نرخ کم اند بازآمد برگیرید آید وقت دوم آمدہ باقی ماندہ فلوس برگرفت بموجب شرع لطیف ایں عمل نامشروع ست یا جائز وفلوسہائے باقی ماندہ از روئے شرع شریف ربٰو باشد یا نہ؟ بینوا توجروا بحوالہ کتاب والیہ المرجع والمآب واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب
مسند شریعت پر جلوہ افروز ہونے والے دین متین کے علمائے کرام اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں کہ زید ایک درہم بکر کے پاس لایا اور کہا یہ درہم لے لو اوراس کے پیسے دے دو، بکر نے بازار کے نرخ کے مطابق رائج الوقت پیسے زید کو دیتے ہوئے کہا کچھ پیسے کم ہیں پھر کسی وقت آکر لے جانا، چنانچہ زید بعد میں کسی وقت آیا اور باقی پیسے لے لئے شریعت لطیفہ کی رو سے یہ عمل جائز ہے یا ناجائز؟ بقیہ پیسے جو بعد میں لئے گئے سودہونگے یانہیں؟ بحوالہ کتب بیان فرمائیں  اور اجر پائیں، اللہ تعالٰی کی طرف ہی لوٹ کر جاناہے اوروہی بہتر جانتاہے۔ (ت)
الجواب: دربیع فلوس بدرہم برمذہب راجح تقابض شرط نیست ہمیں قبضہ یک جانب کافیست پس چوں زید درہم بہ بکر داد قبضہ از یک طرف متحقق شد، اگرزید آن دم یک پول ہم نگرفتے روابودے حالانکہ بعض آں وقت وبعض دیگر وقت دیگر گرفت وہنوز فلس رائج بودہ کاسد نشدہ ہم جائز ماند وہیچ احتمال ربٰو رانیافت فی الہندیۃ عن المبسوط اذا اشتری الرجل فلوسا بدراہم ونقد الثمن ولم تکن الفلوس عندالبائع بالبیع جائز اھ ۱؎ وفیہا عن الحاوی وغیرہ لواشتری مائۃ فلس بدرہم فقبض الدرہم و قبض خمسین فلسا فکسدت بطل فی النصف ولولم تکسد لم یفسد وللمشتری مابقی من الفلوس ۲؎ اھ ملخصا وایں مسئلہ رادر فتوائے دیگر ہر چہ تمامتر رنگ تفصیل دادہ ام۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
راجح مذہب کے مطابق پیسوں کی درہم کے ساتھ بیع میں دو طرفہ قبضہ شرط نہیں بلکہ صرف ایک طرف کا قبضہ کافی ہے لہذ جب زید نے بکر کو درہم دے دیا تو ایک طرف سے قبضہ متحقق ہوگیا، اگرزید اس وقت ایک پیسہ بھی نہ لیتا تب بھی جائز  تھا حالانکہ یہاں تو کچھ پیسے اس وقت اورکچھ دوسرے وقت اس نے لئے اور دوسرے وقت تک وہ پیسے رائج تھے کھوٹے نہیں ہوئے تو یہ جائز ہے، اور سود کا اس میں کوئی احتمال نہیں، ہندیہ میں مبسوط کے حوالہ سے مذکور ہے کہ ایک شخص نے درہموں کے بدلےمیں پیسے خریدے اور ثمن نقد ادا کردئے جبکہ بائع کے پاس اس وقت پیسے موجود نہیں تھے تو یہ بیع جائز ہے اھ، اسی میں حاوی وغیرہ کے حوالہ سے مذکور ہے کہ اگر کسی نے ایک درہم کے عوض سو پیسے خریدے بائع نے درہم پرقبضہ کرلیا اور مشتری نے پچاس پیسوں پر قبضہ کرلیا اب پیسے کھوٹے ہوگئے تو نصف میں بیع فاسد ہوگئی اگروہ کھوٹے نہ ہوتے تو بیع فاسد نہ ہوتی اور مشتری کو باقی پیسے لینے کاحق ہوتا اھ تلخیص اس مسلہ کومیں نے دوسرے فتوٰی میں تمام تر تفصیل کا رنگ دیا ہے، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ        کتاب الصرف الباب الثانی الفصل الثالث    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۲۲۴)

(۲؎فتاوٰی ہندیہ        کتاب الصرف الباب الثانی الفصل الثالث    نورانی کتب خانہ پشاور   ۳ /۲۲۵)
مسئلہ ۲۴۸: از پکسرانوالہ ڈاکخانہ رسول پور ضلع رائے بریلی مسئولہ عبدالوہاب ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے بکر سے ایک روپیہ کے پیسے بھنائے بکر نے روپیہ لے کر بارہ آنے اسی وقت زید کو دے دئے اورکہا چارآنے اس وقت نہیں کل یا پرسوں دے دوں گا اب بقیہ پیسہ زیدکو دوسرے یاتیسرے دن لینا جائز ہے یاربا لازم آئے گا۔ بینوا توجروا
الجواب

روپے اورپیسوں کے مبادلہ میں ایک طرف کا قبضہ کافی ہے صورت مسطور ہ میں کوئی ربانہ ہوگا ، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۹: از کانپور گورکھپور دکان مرسلہ محمد حی صاحب ۱۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نوٹ مروجہ مبلغ یک صد روپیہ کا ہے اس کا خوردہ نوٹ لیا جائے کم بیش پر جائز ہے یانہیں؟ خوردہ میں نقد روپیہ ہو یا چھوٹے نوٹ ہوں سو روپے نقدکے مقابلہ میں سوروپے کا نوٹ لیا جائے یا اس پر کچھ بٹہ لے کر کمی بیشی جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : نوٹ کی بیع اور مبادلہ میں کمی بیشی برضامندی فریقین مطلقا جائز ہے کہ وہ اموال ربویہ سے نہیں۔ ہاں سو روپے کا نوٹ قرض دیا جائے اور یہ ٹھہرا لیا جائے کہ پیسہ اوپر سو لیں گے یہ سود اور حرام قطعی ہے، اوراس کے تمام مسائل کی تفصیل اگر درکار ہو تو ہمارے رسالہ کفل الفقیہ الفاہم میں ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۵۰: از گونڈل معرفت قاضی قاسم صاحب مرسلہ سید غلام محی الدین صاحب راندیری ۱۱ صفر ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ موتی کے بیوپاری موتیوں کی خریدوفروخت کرتے ہیں سو روپیہ اور بروقت قیمت لینے دینے کے فیصدی دس روپے کم کے حساب سے معاملہ طے ہوتاہے پھر بھی اگر خریدنے والا نقد روپے ادا کرے تو فی صد پندرہ روپے کم سے معاملہ طے ہوتاہے ورنہ مہینے کی میعاد کے بعد ادا کرے تو وہی فیصدی دس روپے کم لینے دینے کا رواج ہے، آیا اس طرح کامعاملہ طے کرنا اور خرید وفروخت کرنا جائز ہے یانہیں؟
الجواب:  جبکہ باہمی تراضی سے ایک امر متعین منقطع ہوکوئی حرج نہیں
قال تعالٰی الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: مگر یہ کہ ہو تمھارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم        ۴ /۲۹)
مسئلہ ۲۵۱:  مرسلہ الف خاں مہتمم مدرسہ انجمن اسلامیہ سانگور ریاست کوٹہ راجپوتانہ ۲۳ صفر ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان کرام اندریں معاملہ کہ قصبہ سانگور کے مدرسہ انجمن اسلامیہ کا روپیہ عرصہ دراز سے جمع رہتاہے اس سے کوئی تجارت وغیرہ نہیں ہوتی ہے کہ جس سے روپے کی افزائش کی صورت ہو، لہذا اگر ان روپوں کی اشرفیاں کسی قدر کہ جن کا نرخ اس وقت کمی بیشی ہوجاتاہے خرید کر ہمراہ روپیہ ان اشرفیوں کا نرخ اس وقت کے حساب سے زیادہ قیمت پرلگا کر ادھار میں بیع کی جائیں تویہ عمل شرعا درست ہے کہ نہیں یا کہ برائے اطمینان اس عمل کے ساتھ زیور رہن لیاجائے تو یہ طریقہ بیع اشرفیوں کا درست تونہیں ہے جواب بطریق مذہب حنفی دیا جائے ، آفرید گار عالم جزائے خیرعنایت فرمائے گا۔ بینوا توجروا
الجواب: صورت مذکورہ سوال حرام ہے
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الاھاء وھاء ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: مگر (یہ اس وقت جائز ہے) جب ہاتھوں ہاتھ ہو یعنی مجلس میں دونوں طرف سے قبضہ کرلیا جائے۔ (ت)
 (۱؎ صحیح البخاری  کتاب البیوع باب بیع الشعیر بالشعیر    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۹۰)
ہاں یہ جائز ہے کہ اشرفیاں وقت ارزانی خریدیں اور وقت گرانی بیچیں یا باجازت اہل چندہ نوٹ خرید کر ادھا ر زیادہ کو بیچیں مگرعقد ہو جس میں ثمن ایک مدت معینہ کے بعد دینا قرارپائے، یہ ہو کہ اس کانوٹ دو مہینہ کے وعدے پر قرض دیا اور پیسہ اوپرلینا قرار پایا کہ یہ حرام ہے، حدیث میں ہے : کل قرض جرمنفعۃ فہو ربٰو۲؎۔

جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ (ت)
 (۲؎ کنزالعمال        حدیث ۱۵۵۱۶         موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶ /۲۳۸)
بخلاف بیع کہ اس پر نفع لینا جائز ہے۔
قال اﷲ تعالٰی واحل اﷲ البیع وحرم الربٰو ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور اللہ تعالٰی نے بیع کو حلال اور سود کوحرام کیا۔ (ت)
 (۳؎ القرآن الکریم   ۲ /۲۷۵)
حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۴؎۔
جب نوعیں مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیع کرو۔ (ت) اور اس کی کامل تفصیل ہمارے رسالہ ''کفل الفقیہ الفاہم'' میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۴؎؎ نصب الرایہ    کتاب البیوع        المکتبۃ الاسلامیہ ریاض    ۴/۴)
مسئلہ ۲۵۲: از بیرم نگر ڈاکخانہ سرگدا مرسلہ غلام صدیق صاحب مدرس ۱۰ شوال ۱۳۲۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید پیسے کوڑی بیچنے کا پیشہ کرتاہے جووقت خریداری روپیہ قیمت کا دیتاہے اس کو پونے سولہ گنڈے پیسے دیتاہے اور جو روپیہ قیمت کا اسی وقت نہیں دیتے ہیں دوسرے وقت کا وعدہ کرتے ہیں ان کو یازدہ گنڈے پیسے دیتاہے اور مدت وعدہ اور کمی بیشی نرخ کا جیسے سودکا شبہ پڑے کچھ حساب نہیں کرتا بطور نوٹ فروشی یہ بیع بھی صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب:صراف کہ نقد روپیہ دینے والے کو پونے سولہ آنے دے یہ بیع بلاکراہت جائز ہے اور جوروپیہ اس وقت نہ دے دوسرے وقت کا وعدہ کرے اسے روپے کے عوض بارہ آنے دینا بھی جائز ہے، سود وحرام وگناہ نہیں، صرف مکروہ تنزیہی یعنی خلاف اولٰی ہے کہ نہ کرے تو بہتر ہے او رکرے تو حرج نہیں۔
فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرہما من الاسفار لاکراھۃ فیہ الاخلاف الاولی لما فیہ من الاعراض عن مبرۃ القرض ۱؎ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فتح القدیر اور ردالمحتاروغیرہ کتابوں میں مذکور ہے کہ اس میں کراہت نہیں تاہم یہ خلاف اولٰی ہے کیونکہ اس میں یہ قرض دینے کے احسان سے اعراض ہے، اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب البیوع باب الصرف    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۲۴۴)
Flag Counter