| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۲۴۶: از شاہجہان پور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نوٹ پر بٹہ لگانا مثلا سو(ما/) روپے کا نوٹ ننانوے (لع لعہ)کو خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب ظاہر ہے کہ نوٹ ایک ایسی حادث چیز ہے جسے پیدا ہوئے بہت قلیل زمانہ گزرا فقہائے مصنفین کے وقت میں اس کا وجود اصلا نہ تھا کہ ان کے کلام میں اس کا جُزیہ بالتصریح پایا جائے مگراس وقت جہاں تک خیال کیا جاتاہے نظر فقہی میں صورت مسئولہ کا جواز ہی معلوم ہوتاہے اور عدم جواز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی پرظاہر کہ علت تحریم ربا قدرمع الجنس ہے یہ اگر دونوں متحقق ہوں تو فضل ونسیہ دونوں حرام اور ایک ہو تو فضل جائز نسیہ حرام اور دونوں نہ ہو تو دونوں حلال۔
کما فی عامۃ الاسفار وفی تنویر الابصار علتہ القدر مع الجنس فان وجدا حرم الفضل والنساء وان عدماحلا وان وجد احدھما حل الفضل وحرم النساء ۱؎۔
جیسا کہ عام کتابوں میں ہے، اور تنویر الابصارمیں ہے کہ زیادتی کے حرام ہونے کی علت قدر مع الجنس ہے اور یہ دونوں موجود ہوں تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں اور اگر ایک موجود ہو تو زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے اور اگر دونوں معدوم ہو تو زیادتی اور ادھار دونوں حلال ہیں۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب الربٰو مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۱)
اور مانحن فیہ میں بالبداہۃ دونوں مفقود عدم مجانست اس لئے کہ یہ کاغذ ہے وہ چاندی ، اور انعدام قدر اس طرح کہ یہ نہ مکیل ہے نہ موزون ، پس حسب ضابطہ مقررہ یہاں فضل ونسیہ دونوں حلال ہونا چاہئے، مسئلہ کا جواب تو اسی قدر سے ہوگیا لیکن غیر فقیہ کو اس جگہ یہ وہم گزرتاہے کہ ہر چند اصل حقیقت میں نوٹ صرف ایک چھپے ہوئے کانام ہے مگر عرف واصطلاح میں گویا وہ بعینہٖ روپیہ ہے اسی لئے ہر جگہ روپیہ کا کام دیتاہے لین دین میں سوروپے کا نوٹ دینے اور سو روپیہ نقد دینے میں ہرگز تفاوت نہیں سمجھا جاتا عموما اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتاجاتا ہے تو گویا وہ سورپے تھے کہ بعض ننانوے کے خریدے گئے اور اس کی حرمت میں کچھ شبہ نہیں توصورت مسئولہ میں حکم تحریم دیا چاہئے۔
اقول: جسے فن شریف فقہ میں کچھ بھی بصیرت حاصل ہے اس کے نزدیک اس کا وہم کا ازالہ نہایت آسان ، نوٹ کے ساتھ تومعاملہ اثمان برتا جانا اسے حقیقۃً ثمن یعنی احدالنقدین نہ کردے گا غایت یہ کہ اثمان مصطلحہ سے ٹھہرے یعنی وہ کہ اصل خلقت میں سلع وکالا ہیں مگر عرف واصطلاح نے انھیں ثمن ٹھہرالیا ہے جیسے پیسے یا بعض بلاد ہند میں کوڑیاں بھی، اور ازا نجا کہ اثمان اصلیہ سوا زروسیم کے کچھ نہیں تو اہل عرف اگر غیر ثمن کو ثمن کرنا چاہیں ناچار اس کی تقدیر اثمان خلقیہ سے کریں گے، اسی لئے پیسوں کی مالیت یونہی بتائی جاتی ہے کہ روپے کے سولہ آنے پس نوٹ کو جب عرفاً ثمن کرنا چاہا اس کے اندازے میں بھی اصل ثمن کی جانب رجوع ضرور ہوئی اور یوں قرار دیاگیا کہ فلاں نوٹ سوروپے کا ، فلاں دو سو کا، فلاں ہزار کا، مگر یہ صرف تقدیر ہی تقدیر ہے اس سے اتحاد جنس وقدر ہرگز لازم نہیں آتا جیسے اندازہ فلوس سے چونسٹھ پیسے روپے کا عین نہ ہوگئے یوں ہی اس قرارداد سے وہ نوٹ حقیقۃً سوروپے یاچاندی نہ ہوجائے گا، پس علت ربا کا تحقق ممکن نہیں نہ عاقدین اتباع عرف واصطلاح پر مجبور کہ جو قیمت انہوں نے ٹھہرادی یہ اس سے کم وبیش نہ کرسکیں یہ اپنے معاملہ کے مختار ہیں چاہیں سو روپے کی چیز ایک پیسے کو بیچیں یا ہزار اشرفی کو خریدیں صرف تراضی درکار ہے، آخر نہ دیکھا کہ ایک روپے کے پیسے بہ تعیین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں مگر علماء نے اٹھنی سے زیادہ کے عوض میں آٹھ آنے بیچناروا رکھا ،اور سب جانتے ہیں کہ ایک اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہے لیکن فقہا نے ایک روپےکے عوض ایک اشرفی خریدنا جائز ٹھہرا یا تو یہ وجہ کیا ہے وہی اختلاف جنس جس کے بعد تفاضل میں کچھ حرج نہیں
فی الدرالمختار ومن اعطی صیر فیا درہما کبیر افقال اعطنی بہ نصف درہم فلوسا (بالنصف صفۃ نصف) ونصفا (من الفضۃ صغیرا) الاحبۃ صح (ویکون النصف الاحبۃ بمثلہ وما بقی من الفلوس ۱؎)
درمختار میں ہے کہ کسی نے صراف کو ایک بڑا درہم دیتے ہوئے کہا کہ مجھے نصف درہم کے عوض ایک چھوٹا درہم جو بڑے درہم کے نصف سے ایک حبہ کم ہو دے دے تو یہ بیع صحیح ہے اور چھوٹا درہم جو بڑے کے نصف سے ایک حبہ کم ہووہ اپنے مثل کے مقابل ہوجائیگا اور باقی پیسوں کے مقابل ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۷)
اور اسی میں ہے :
صح بیع درہمین ودینار بدرہم ودینارین لصرف الجنس بخلاف جنسہ ۲؎۔
دو درہم اور ایک دینار کی بیع ایک درہم اور دو دیناروں کے بدلے میں صحیح ہے کیونکہ ہر جنس کو اپنی جنس کے خلاف کے مقابل قرار دیاجائے گا۔ (ت)
(۲؎درمختار کتاب البیوع باب الصرف مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۵)
جب یہاں تک شرعا جائز رہا تو سوروپے کا نوٹ ننانوے کے عوض خریدنے میں کیاحرج ہوسکتاہے کہ یہاں تو نہ قدر متحد نہ جنس واحد، یہ حکم بیع وشراء کا ہے جہاں نفع وانتفاع شرعاروا، البتہ قرض اس طرح پر دینا کہ ننانوے روپے دیتاہوں اور ان کے بدلے سور وپے کا نوٹ لے گا بے شک ممنو ع ہوگا
فان کل قرض جرمنفعۃ فہو ربٰو نطق بذلک الحدیث والفقہ ۳؎۔
کیونکہ جو قرض نفع کو کھینچے وہ سود ہے حدیث اور فقہ اس پر ناطق ہیں (ت)
(۳؎ کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۶/ ۲۳۸)
یہاں تک کہ علمانے تو منفعت سقوط خطر طریق کے سبب ہنڈوی کو ناجائز ٹھہرایا کما ذکروہ اٰخر کتاب الحوالۃ (جیسا کہ فقہا نے اس کا ذکر کتاب الحوالہ کے آخر میں کیا ہے۔ ت) اوراسی طرح بقال کے پاس اس شرط پر روپیہ پیشگی رکھ دینا کہ حسب حاجت وقتا فوقتا چیزیں خریدتے رہیں گے صرف اسی نفع کی وجہ سے مکروہ فرمایا کما فی الکراہیۃ الہدایۃ وغیرہا قبیل مسائل متفرقۃ۔ جیساکہ ہدایہ وغیرہ میں کتاب الکراہیۃ کے تحت مسائل متفرقہ سے تھوڑا پہلے مذکورہے۔ (ت) حالانکہ یہ منفعتین کوئی مال نہیں تو مالیت میں رجحان کیونکر درست ہوگا بیشک یہ امر مقصد شرع کے (کہ صیانت اموال ناس ہے اور وہی علت تحریم ربا کما فی الفتح (جیسا کہ فتح میں ہے۔ ت) بالکل خلاف ہے ہذا ماظہرلی (یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔