Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
148 - 180
فی ردالمحتار عن البدائع من شروطہ بیان جنس المصنوع ونوعہ وقدرہ وصفتہ وان یکون ممافیہ تعامل وان لایکون مؤجلا والاکان سلما ۱؎ الخ وفیہ المراد بالاجل ماتقدم وھو شہر فما فوقہ ۲؎ الخ وفی الطحطاوی الاجل تارۃ یکون کاجل السلم بان کان شہرا فازید وھو عندہ سلم من غیر تفصیل ۳؎ الخ ،
ردالمحتار میں بحوالہ بدائع ہے استصناع کی شرطوں میں سے یہ ہے کہ مصنوع (جو چیز بنوانا مطلوب ہے) کی جنس، نوع، صفت اور مقدار کو بیان کرنا اوریہ کہ اس میں لوگوں کا عرف جاری ہو اور یہ کہ اس کی کوئی میعاد مقرر نہ کی جائے ورنہ وہ عقد سلم ہوجائے گا الخ اور اسی میں ہے کہ میعاد سے مراد وہی ہے جس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے یعنی ایک ماہ یا اس سے زیادہ الخ، طحطاوی میں ہے کہ میعاد کبھی سلم کی میعاد جیسی ہوتی ہے یعنی ایک ماہ یا اس سے زائد تو اس صورت میں بغیر کسی تفصیل کے یہ سلم ہے الخ،
 (۱؎ و ۲؎ ردالمحتار    کتاب البیوع باب السلم        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۲۱۲)

(۳؎ الطحطاوی علی الدرالمختار   کتاب البیوع باب السلم     دارالمعرفۃ بیروت    ۳/ ۱۲۶)
وفی الہندیۃ ان ضرب الاجل صار مسلما (حتی لایجوز الابشرائط السلم) ھذا اذا کان ضرب المدۃ علی وجہ الاستمہال بان قال شہرا ومااشبہ ذٰلک امااذا ذکر علی وجہ الاستعجال بان قال علی ان تفرغ منہ غدا اوبعد غد لایصیر سلما کذا فی الصغرٰی ۴؎ اھ ملخصا۔
ہندیہ میں ہے کہ اگر میعاد مقرر کی تویہ عقد سلم ہوگاجو کہ سلم کی شرطوں کے بغیر جائز نہیں) یہ اس وقت ہے جب بیان مدت مہلت طلب کرنے کے طور پر ہو مثلا ایک ماہ یا اس کی مثل ذکر کیا اور اگر مدت کا بیان طلب عجلت کے طور پر ہو مثلا کہا تجھ سے یہ چیز اس شرط پر بنواتا ہوں کہ توکل یا پرسوں اس کو بناکر فارغ ہوجائیں تو یہ عقد سلم نہ ہوگا یہ صغرٰی میں ہے اھ تلخیص (ت)
 (۴؎ فتاوٰی ہندیہ    ابواب التاسع  عشرفی القرض الخ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۲ /۲۰۸)
یہاں کہ میعاد ایک مہینہ یا زائد ہی کی تھی عقد بیع سلم ہوگیا اور بوجہ تردید کہ ایک مہینہ میں تیس اور زیادہ میں چوبیس نہ قیمت معین ہوگی نہ مدت، حالانکہ ان کی تعیین سلم میں ضرور ہے لہذا عقد فاسد ہوگیا بلکہ عند التحقیق استصناع ہر حال میں بیع ہی ہے۔
کما نص علیہ فی المتون وصححہ المحققون من الشراح ففی النقایۃ الاستصناع باجل سلم تعاملوا فیہ او لا، وبلا اجل فیما یتعامل فیہ بیع والمبیع العین لاالعمل اھ ۱؎ ومثلہ فی الاصلاح والملتقی والتنویر وغیرھا وفی الہدایۃ الصحیح انہ یجوز بیعا لاعدۃ والمعدوم قد یعتبر موجودا حکما و المعقود علیہ العین دون العمل ھوالصحیح ۲؎ اھ ملخصا ونحوہ فی الایضاح والدر وغیرھما من الاسفار الغر وقداوضحنا المقام مع ازالۃ الاوھام بتوفیق الملک العلام فیما علقناہ علی ردالمحتار۔
جیسا کہ متون میں اس پر نص کی گئی اور محقق شارحین نے اس کی تصحیح فرمائی، چنانچہ نقایہ میں ہے استصناع میں اگر مدت مقرر کی جائے تو وہ سلم ہوجاتاہے چاہے لوگوں کا عرف اس میں جاری ہویا نہ ہو اور بغیر مدت مقرر کرنے کے اگر اس میں عرف جاری ہو وہ بیع ہے اور مبیع عین (مصنوع) ہے نہ کہ عمل اھ  اور اصطلاح، ملتقی اور تنویر وغیرہ میں اس کی مثل ہے، ہدایہ میں ہے کہ یہ بطور بیع جائز ہے نہ کہ بطور وعدہ اور معدوم کو کبھی کبھی حکمی طورپر موجود اعتبار کرلیا جاتاہے اور معقود علیہ (مبیع) عین ہے نہ کہ عمل، اور یہی صحیح ہے اھ تصحیح، اور اسی کی مثل ہے ایضاح اور در وغیرہ روشن کتابوں میں اور ہم نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے ردالمحتار پر اپنی تعلیقات میں اس مقام کی وضاحت کرتے ہوئے تمام وہموں کا ازالہ کردیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ    کتاب البیع        نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۰۳)

(۲؎ الہدایہ            کتاب البیوع باب السلم    مطبع یوسفی لکھنؤ        ۳/ ۱۰۲)
اور بیع ہر گز ایسی جہالت ثمن کا تحمل نہیں کرسکتی کہ اتنی مدت ہو تو یہ قیمت اور اتنی ہو تو وہ
فی الخلاصہ رجل باع شیئا علی انہ بالنقد بکذا وبالنسئۃ بکذا اوالی شہر بکذا اوالی شہرین بکذا لم یجز ۳؎۔
خلاصہ میں ہے ایک شخص نے کسی شیئ کی بیع اس طرح کی نقد اتنے کی اورادھار اتنے کی یا ایک ماہ کے ادھار پر اتنے کی اوردو ماہ کے ادھار پر اتنے کی، تو جائز نہیں ۔ (ت)
 (۳؎ خلاصہ الفتاوٰی    کتاب البیوع    فصل فی خامس الجنس الاول فیما یتعلق بالثمن مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۳/ ۶۰)
تو استصناع میں اگرچہ ایک مہینہ یا اس سے زائد نہ ہو جب  ایسی تردید کی جائیگی عقد فاسد ہوگا اور فسخ واجب، ہذا ماظہرلی، واﷲ تعالٰی اعلم (یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا۔ اوراللہ تعالٰی بہتر جانتاہے۔ ت)
مسئلہ ۲۴۵: 

زید کے دوست نے فرمائش لکھی کہ مجھ کو کحل الجواہر بھیج دو، زید عمروکے دکان سے قرض خرید لایا، اور بعد دو ایک روزکے واپس کردیا، اس کے یہاں جاکر اورخیال دل میں یہ تھاکہ شاید وہ دوست قیمت نہ بھیجے تو مجھ کو دینا ہوگی ، غرض اس کے سامنے یعنی مالکان دکان کو دے دیا اور یہ اس سے کہا بھی مالک کحل الجواہر نے، میاں ذراسی بات کے لئے پھر شرمندہ ہونا پڑا ہے، اورقیمت تومیری پڑیا کحل الجواہر پر لکھی ہوئی ہے وہ بھیج دیں گے تم کو قیمت ، تم ان کوکحل الجواہر بھیج دو، پس بامر بائع دوبارہ زید نے اس کو لاکر بھیج دیا اپنے دوست کے پاس، سوال یہ ہے کہ اس صورت میں مالک کحل الجواہر زید سے قیمت وصو ل کرنے کا مجاز ہے یانہیں؟ اب زید نے اس کے امر سے بھیجا ہے۔ بینوا توجروا
الجواب: ضرورت وصول کرسکتاہے کہ فرمائش دوست کا حاصل اگر فرمائش نہ بھی ہو جس میں حقیقۃً خود زید مشتری ٹھہرے تو غایت درجہ توکیل سہی،
والحقوق فی البیوع ترجع الی الوکیل بخلاف النکاح فلیس فیہ الامعبرا اوسفیرا کما صرحوا بہ فی عامۃ الکتب۔
بیوع میں حقوق وکیل کی طرف لوٹتے ہیں بخلاف نکاح کے کہ اس میں وکیل محض تعبیر کرنے والا سفیر ہوتاہے، جیسا کہ فقہاء نے عام کتابوں میں اس کی تصریح کردی ۔ (ت)
توکیل سے قیمت وصول کرنے کا یقینا اختیار ہے اوراس کے کہنے سے خریدنا اس کا مانع نہیں ہوسکتا
فانہ اشارۃ لااکراہ فالشراء انما وقع من زید برضاہ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم و علمہ جل مجدہ اتم واحکم
کیونکہ یہ مشورہ ہے اکراہ نہیں ہے اور زید سے بیع اس کی رضامندی سے ہوئی ہے اور اللہ تعالٰی بہتر جانتاہے اور اس کا علم اتم ومستحکم ترین ہے۔ (ت)
Flag Counter