Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
147 - 180
فی الدرالمختار صح بیع عقار لایخشی ھلاکہ قبل قبضہ من بائعہ (متعلق بقبض لاببیع لان بیعہ من بائعہ قبل قبضہ فاسد کما فی المنقول) ولا یصح اتفاقا بیع منقول قبل قبضہ ولو من بائعہ بخلاف ھبتہ واقراضہ ورھنہ واعارتہ من غیر بائعہ فانہ صحیح علی الاصح ۱؎ اھ ملخصا مزیدا من ردالمحتار ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے غیر منقول جائداد کو اس کے بائع سے لے کر اپنے قبضہ میں کرنے سے پہلے فروخت کرنا صحیح ہے جبکہ اس جائداد کی ہلاکت کا خوف نہ ہو (من بائعہ کا تعلق قبض کے ساتھ ہے بیع کے ساتھ نہیں کیونکہ غیر منقول کو قبضہ سے پہلے اس کے بائع کے ہاتھ فروخت کرنا فاسد ہے جیسا کہ مال منقول میں ہوتاہے) اور مال منقول کی بیع قبضہ سے پہلے اگر چہ اس کے بائع کے ہاتھ ہو بالاتفاق صحیح نہیں بخلاف اس منقول کے غیر بائع کو ہبہ کرنے قرض دینے رہن رکھنے اور عاریت پر دینے کے کہ یہ اصح قول کے مطابق درست ہے۔ اھ تلخیص(مع ردالمحتار سے کچھ اضافہ کے)۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب البیوع فصل فی التصرف فی المبیع        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۷)

(ردالمحتار    کتاب البیوع فصل فی التصرف فی البیع        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۶۱)
مسئلہ ۲۴۳: ۲۹ شعبان ۱۳۳۳ھ             مرسلہ حافظ ایاز نجیب آباد ضلع بجنور محلہ پورہ

ماہ جون میں جو زراعت نیشکر پر کرلہو بدلی ہوتی ہے اور نرخ بال کی یہ شرط قرار داد ہوئی کہ شاہ نگر کے سے ایک روپیہ یا( ۸/ ) کم یا زیادہ طرفین کی رضامندی سے تحریر ہوجاتی ہے اور جو روپیہ اس وقت بوقت تحریر لینا ٹھہرتاہے وہ دے دیا جاتاہے باقی آئندہ مال آتا رہتاہے اورروپیہ جاتا رہتا آخر اختتام پر کل مال کا حساب وکتاب ہوجاتاہے اگر صورۃ مذکورہ جائز ہے 0و فبہا ورنہ اس کے جواز کے واسطے کیا حیلہ ہے کیونکہ اس کا عام رواج ہے۔
الجواب : نیشکر کے بدلے جس طرح کہ رائج ہے محض بے اصل وبوجوہ ناجائز ہے اس وقت گنا بھی موجود نہیں ہوتا اور نہ رس، اس کے جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ مثلا سوروپیہ کے بدلی کرنی منظور ہے تو اس کی خرید وفروخت کا کچھ نام نہ لیں بلکہ اپنی کوئی چیز سو  روپے کی اس کے ہاتھ ایک معین مدت مثلا گھنٹے بھر کے وعدہ پر بیع کریں اور وہ شے اس کے قبضے میں دے دیں اور وہ ابھی گھنٹہ نہ گزرنے پائے کہ شخص مذکور وہی شے سو روپیہ نقد کو مالک اول کے ہاتھ بیع کردے اور یہ اسی وت سو روپیہ اس کے ادا کردے اب اس کی چیز اس کے پاس آگئی اور سو نقد اسے پہنچ گئے اور اس کے سوروپیہ اس پر دین رہے جب وہ وعدہ کا گھنٹہ گزرے یہ اپنے روپیوں کا ا سے تقاضا کرے وہ کہے میں تیرے روپے دس منٹ میں دوں گا اگر نہ دوں تو وعدہ کرتاہوں کہ اپنے روپیوں کے عوض اس نرخ سے رس دوں گا اس کے دستاویز جیسے لکھی جاتی ہے لکھالیں اب اس کی خریداری جائز ہوگئی اس حیلہ شرعیہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
الجواب : نیشکر کے بدلے جس طرح کہ رائج ہے محض بے اصل وبوجوہ ناجائز ہے اس وقت گنا بھی موجود نہیں ہوتا اور نہ رس، اس کے جواز کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ مثلا سوروپیہ کے بدلی کرنی منظور ہے تو اس کی خرید وفروخت کا کچھ نام نہ لیں بلکہ اپنی کوئی چیز سو  روپے کی اس کے ہاتھ ایک معین مدت مثلا گھنٹے بھر کے وعدہ پر بیع کریں اور وہ شے اس کے قبضے میں دے دیں اور وہ ابھی گھنٹہ نہ گزرنے پائے کہ شخص مذکور وہی شے سو روپیہ نقد کو مالک اول کے ہاتھ بیع کردے اور یہ اسی وت سو روپیہ اس کے ادا کردے اب اس کی چیز اس کے پاس آگئی اور سو نقد اسے پہنچ گئے اور اس کے سوروپیہ اس پر دین رہے جب وہ وعدہ کا گھنٹہ گزرے یہ اپنے روپیوں کا ا سے تقاضا کرے وہ کہے میں تیرے روپے دس منٹ میں دوں گا اگر نہ دوں تو وعدہ کرتاہوں کہ اپنے روپیوں کے عوض اس نرخ سے رس دوں گا اس کے دستاویز جیسے لکھی جاتی ہے لکھالیں اب اس کی خریداری جائز ہوگئی اس حیلہ شرعیہ کی تحقیق وتفصیل ہمارے فتاوٰی میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
باب الاستصناع

(بیع استصناع کا بیان)
مسئلہ ۲۴۴: مسئولہ حافظ یعقوب خاں صاحب ۱۶ ربیع الآخر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بڑھئی نے اقرار کیا کہ فلاں قسم کی کُرسیاں ایک درجن ایک ماہ کے اندربقیمت مبلغ (؎)کودوں گا اور جب تک تمھاری کُرسیاں تیار نہ کروں اور کسی کا یااپنا مال نہ بناؤں گا اگر وعدہ خلافی کروں تو کُرسیاں مذکورہ بقیمت(للعہ عہ/)کو دوں گا، پس بڑھئی نے وعدہ خلافی کی یعنی اور کسی کامال بنایا اور کُرسیاں بھی ایک ماہ کے بعد دیں پس اس صورت میں حسب اقرار (للعہ عہ/)کو درجن لینا درست ہے یانہیں؟
الجواب

صورت مستفسرہ میں وہ کرسیاں اس عقد کی بنا پر نہ (للعہ عہ /)درجن کو لینا جائز نہ (؂)کو بلکہ اس عقد کا فسخ کرنا واجب ہے کہ یہ عقد فاسد ہوا اور عقد فاسد گناہ ہے اور گناہ کا ازالہ فرض ، ہاں اگر چاہیں تو عقد کو فسخ کرکے اب یہ کُرسیاں بعقد جدید باہمی رضامندی سے جتنے کو ٹھہر جائیں خریدلیں، وجہ یہ ہے کہ کسی سے کوئی چیز اس طرح بنوانا کہ وہ اپنے پاس سے اتنی قیمت کو بنادے یہ صورت استصناع کہلاتی ہے کہ اگر اس چیز کے یوں بنوانے کا عرف جاری ہے اوراس کی قسم وصفت وحال وپیمانہ وقیمت وغیرہا کی ایسی صاف تصریح ہوگئی ہے کہ کوئی جہالت آئندہ منازعت کے قابل نہ رہے اوراس میں کوئی میعاد  مہلت دینے کے لئے ذکر نہ کی گئی تو یہ عقد شرعا جائز ہوتا ہے اور اس میں بیع سلم کی شرطیں مثلا روپیہ پیشگی اس جلسہ میں دے دینا یا اس کا بازار میں موجودرہنا یا مثلی ہونا کچھ ضرور نہیں ہوتا مگر جب اس میں میعاد ایک مہینہ یا زائد کی لگادی جائے تو وہ عقد بیعنہٖ بیع سلم ہوجاتاہے اور اس وقت تمام شرائط بیع سلم کا متحقق ہونا ضروری ہوتاہے۔ اگرا یک بھی رہ گئی عقد فاسد ہوگیا۔
Flag Counter