Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
146 - 180
تنبیہ: یہ قیدیں جوہم نے ذکر کیں کہ پہلی بیع میں ثمن مؤجل ہو دوسری میں معجل اور دوسری میں بیع اور اس کے ثمن کا ادا کردینا پہلے ثمن کے میعاد مثلا گھنٹہ گزرنے سے پیشتر ہولے اور دوسری بیع کاشتکار کی طرف سے شیئ بیع پر قبضہ کرلینے کے بعد ہو انھیں ضرور ملحوظ رکھیں زائد وبیکار تصور نہ کریں یہاں منظور تو یہ ہے کہ کہ کاشکار کو روپیہ پہہچ جائے او اس کا دین اس پر قائم رہے تاکہ اس کی نسبت وہ عدہ ہوسکے اگر دونوں ثمن معجل ہوتے تو جیسے بیع ثانی میں سوروپے اس پر لازم ہوئے اور اس کے سو روپے اس پر لازم تھے دونوں پرسے برابر ہوکر اتر جاتے، یونہی اگر یہ بیع ثانی اور اس کے ثمن دے دینے کی کاروائی اس میعاد مقررہ سے پہلے نہ ہو لیتی تو میعاد گزر کرو وہ دین پر معجل ہوجاتا اور دونوں بری الذمہ ہوجاتے اب کہ کاشتکار کا دین اس پر معجل ہوا او راس کا دین اس پر ہنوز مؤجل ہے کہ اس کی میعاد نہ آئی اور اس نے اس کے روپے دے دئے اس نے لے لئے تو اس کا دین ا س پر قائم رہے گا۔
فی ردالمحتار عن الحلی عن البحر سائر الدیون ای ماسوی النفقۃ یقع التقاص فیہا تقاصا اولا بشرط التساوی فلواختلفا کما اذا کان احدہما جیدا وردیاً فلا بد من رضا صاحب الجید ۱؎ وفی الاشباہ علیہ الف قرض فباع من مقرضہ شیئا بالف مؤجلۃ ثم حلت فی مرضہ وعلیہ دین تقع المقاصۃ ۲؎ الخ قال فی غمزالعیون انما قید بالحلول لانہا لو لم تحل تقع المقاصۃ لاختلاف الوصف کالجید مع الردی ۳؎۔
ردالمحتار میں حلی سے بحوالہ بحر منقول ہے کہ نفقہ کے سوا تمام قرضوں میں ادلہ بدلہ ہوسکتاہے چاہے فریقین خود ایسا کریں نا نہ کریں بشرطیکہ دونوں طر ف کا قرض باہم برابرہو، اور اگر مختلف ہو مثلا ایک طر ف عمدہ اور دوسری طرف ردی ہو تو عمدہ والے کی رضامندی ضروری ہے، اور اشباہ میں ہے کہ ایک شخص پر ہزارو روپے قرض ہے اس نے قرض دہندہ کے ہاتھ کوئی چیز ہزارو رپے کے بدلے میں ادھار فروخت کردی پھر مقروض کے مرض الموت میں ادھار کی مدت پوری ہوگئی درانحالیکہ ابھی تک اس پر قرض موجود ہے تو اب یہ قرض ثمن مؤجل کا بدلہ ہوکر اتر جائے گا الخ، غمز العیون میں کہا کہ اس کو مدت کے پورے ہونے کے ساتھ مقید کیا گیا کیونکہ اگر مدت پوری نہ ہوئی تو ادلہ بدلہ نہ ہوگا کیونکہ وصف مختلف ہے جیسا کہ عمدہ اور ردی میں ہوتاہے ۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار)

(۲؎ الاشباہ والنظائر    کتاب المداینات        ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۴۷)

(۳؎ غمز عیون البصائر    کتاب المداینات        ادارۃ القرآن کراچی    ۲ /۴۷)
اور کاشتکار کی طرف سے بیع ثانی بعد قبضہ ہونے کے ضرورت یہ ہے کہ اگر پیش از قبضہ بائع کے ہاتھ بیع کردے گا تو بیع فاسدوناجائز ہوگی غیر کے ہاتھ بیچنے میں تو صرف اشیائے منقولہ پر قبضہ شرط ہے مثلا عمرو نے زید سے کوئی منقول چیز مول لی اور ہنوز اپنے قبضہ میں نہ آئی کہ بکر کے ہاتھ بیچ ڈالی یہ بیع فاسد ہوئی اورجائداد غیر منقولہ لے کر پیش ازقبضہ غیر بائع کے ہاتھ بیع کردی تو جائز ہے مگر جس سے مول لی تھی اس کے ہاتھ قبضہ سے پہلے اشیائے غیر منقولہ کی بیع بھی جائز نہیں لہذا قبضہ لازم ہے۔
Flag Counter