Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
145 - 180
فانہ لیس بشرط رأسابل وعد مستأنف و قد قال فی ردالمحتار ذکر فی البحر انہ لو اخرجہ مخرج الوعد لم یفسد وصورتہ کما فی الولوالجیۃ قال اشترحتی ابنی الحوائط ۱؎ اھ، قلت والذی فی الہندیۃ عن الظہیریۃ اشتربصیغۃ الامرفاذا کان ھذا فی الوعد لمقارن فکیف فی المفارق فہذا یوجب الصحۃ اجماعا و لوسلم فالشرط المتأخر لایلتحق باصل العقد عندھما،
کیونکہ یہ سرے سے شرط ہی نہیں بلکہ نیا وعدہ ہے تحقیق، ردالمحتار میں بحوالہ بحر فرمایاکہ اگر اس نے بطور وعدہ اس کو ذکر کیا تو بیع فاسد نہ ہوگی اور اس کی صورت جیسا کہ ولوالجیہ میں ہے یوں ہے کہ بائع نے کہا تو (انگور کے خوشے) خریدلے میں (باغ کی) دیواریں بنادوں گا اھ میں کہتاہوں کہ ہندیہ میں بحوالہ ظہیریہ امر کے صیغہ کے ساتھ ہے یعنی ''اشتر'' (توخرید) یہ اس وعدے کے بارے میں ہے جو عقد سے مقترن ہو اگر اس سے جدا ہو تو کیسے بیع فاسد ہوسکتی ہے تو یہ صحت بیع کو بالاجماع ثابت کرتی ہے اور اگر تسلیم کرلیا جائے (کہ یہ شرط ہے) تو شرط مؤخر صاحبین کے نزدیک اصل عقد کے ساتھ لاحق نہیں ہوئی،
 (۱؎ ردالمحتار        باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴/ ۱۲۰)

(۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب البیوع    الباب العاشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۱۳۶)
وفی روایۃ عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم وفی اخری لہ یلتحق وقد صححتا فعند اختلاف التصحیح لک العمل بایتہما شئت لاسیما ماوافق علیہ الصاحبان رضی اﷲ تعالٰی عن الجمیع قال فی ردالمحتار قولہ ولا بیع بشرط اشار بقولہ بشرط الی انہ لابد من کونہ مقارنا للعقد لان الشرط الفاسد لو التحق بعدالعقد قیل یلتحق عند ابی حنیفۃ وقیل لا وھوالاصح کما فی جامع الفصولین فی فصل ۳۹  لکن فی الاصل انہ یلتحق عند ابی حنیفۃ وان کان الالحاق بعد الافترق عن المجلس وتمامہ فی البحر قلت ہذہ الروایۃ الاخری عن ابی حنیفۃ وقد علمت تصحیح مقابلہا وہی ولہما ویؤیدہ ماقدمہ المصنف تبعاللہدایۃ وغیرہا من انہ لوباع مطلقا عن ہذہ الاٰجال ثم اجل الثمن الیہا صح فانہ فی حکم الشرط الفاسد کما اشرنا الیہ ھناک ۱؎ اھ۔
اورامام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ایک روایت یوں ہی ہے اور ان سے منقول دوسری روایت میں ہے کہ لاحق ہوتی ہے، تحقیق دونوں روایتوں کی تصحیح کی گئی ہے، اور جب تصحیحیں مختلف ہوجائیں تو تجھے اختیار ہے ان میں سے جس پر چاہے عمل کرے خصوصا وہ تصحیح جس پر صاحبین بھی امام اعظم سے متفق ہوں رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین، ردالمحتارمیں کہا کہ ماتن نے اپنے قول ''ولابیع بالشرط'' میں لفظ بشرط سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ شرط کا عقد کے مقارن ہونا ضروری ہے کیونکہ شرط فاسد اگر عقد کے بعد لگائی گئی تو ایک قول یہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک عقد کولاحق ہوگی  اور ایک قول یہ ہے کہ لاحق نہیں ہوگی اوریہی زیادہ صحیح ہے جیسا کہ جامع الفصولین فصل ۳۹ میں ہے لیکن اصل میں ہے کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک لاحق ہوگی اگرچہ اس کا الحاق مجلس سے عاقدین کے جدا ہونے کے بعد ہو اور اس کی پوری بحث بحرمیں ہے، میں کہتاہوں یہی امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی دوسری روایت ہے حالانکہ اس کے مقابل روایت کی تصحیح تومعلوم کرچکا ہے اور وہ صاحبین کا قول ہے اور اس کی تائید کرتا ہے وہ جو ہدایہ وغیرہ کی اتباع میں مصنف پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ یہ کہ اگر کسی نے مذکورہ مدتوں کا عقدمیں ذکر کئے بغیر بیع کی پھر ثمن کو ان میعادوں کے ساتھ مؤجل کردیا تو بیع صحیح ہے کیونکہ یہ شرط فاسد کے حکم میں ہے جیساکہ ہم نے وہاں اس کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ اھ (ت)
 (۱؎ردالمحتار    باب البیع الفاسد   مطلب فی البیع بشرط فاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۲۰)
اس طریقہ سے ایک اور نفع عظیم کی امید ہے وہ دستاویز جو بطور مذکور لکھی جاتی ہیں نراوعدہ ہی وعدہ ہوتی ہیں کہ اس شخص کو اس پر جبر کا اصلا اختیار نہیں ہوتا اگروہ رس نہ دے تو یہ صرف اپنے روپے کا اس سے تقاضا کرسکتاہے رس کا مطالبہ نہیں پہنچتا کہ وعدہ کی وفا پر قضاء جبر نہیں کما نصوا علیہ قاطبۃ (جیسا کہ اس پر تمام فقہاء نے نص کی ہے۔ ت) اور یہ صورت جو ہم نے لکھی علماء فرماتے ہیں ایسی شکل کا وعدہ وعدہ لازمہ ہوجاتاہے کہ اس کے ایفاء پر جبر پہنچتاہے،
جامع الفصولین میں ہے:
لوذکر البیع بلا شرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ولزم الوفاء بالوعد اذ المواعید قد تکون لازمۃ فیجعل لازما لحاجۃ الناس ۱؎۔
اگر بائع اور مشتری نے بغیر شرط کے بیع کا ذکر کیا پھر بطور وعدہ شرط کا ذکر کیا تو بیع صحیح ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے کیونکہ وعدہ کو پورا کرنا کبھی ضروری ہوتاہے لہذا لوگوں کی حاجت کے لئے اس کے پورا کرنے کو ضروری قرار دیا جائے گا۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ جامع الفصولین    باب البیع الفاسد    داراحیاء الترا ث العربی بیروت    ۴/ ۱۲۰)
فتاوٰی خیریہ میں ہے :
قد صرح علماؤنا بانہما لوذکرا البیع بلاشرط ثم ذکر الشرط علی وجہ العدۃ جاز البیع ولزم الوفاء بالوعد ۲؎۔
     ہمارے علماء نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ اگر بائع اور مشتری نے بیع کو بلاشرط ذکر کیا پھر بعدمیں شرکاء کاذکر وعدہ کے طور پر کیا تو بیع جائز ہےا ور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی خیریہ   کتاب البیوع     باب البیع الفاسد    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۲۳۸)
درمختارمیں ہے :
لوبعدہ علی وجہ المیعاد جاز ولزم الوفاء بہ لان المواعید قد تکون لازمۃ لحاجۃ الناس وھوالصحیح کما فی الکافی والخانیۃ واقرہ خسرو ھنا والمصنف فی باب الاکراہ وابن المالک فی باب الاقالۃ الخ ۳؎۔
اگر عقد کے بعد شرط کاذکر بطور وعدہ کیا تو بیع جائز ہے اور وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے کیونکہ وعدوں کو پورا کرنا لوگوں کی حاجت کے پیش نظر کبھی لازم ہوتاہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ خانیہ اور کافی میں ہے خسرو نے یہاں مصنف نے باب الاکراہ میں اور بن الملک نے باب الاقالہ میں اس کو برقرار رکھا الخ (ت)
 (۳؎ درمختار    کتاب البیوع      باب الصرف        مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۵۸، ۵۷)
بزازیہ میں ہے :
اذا قال معلقا بان قال ان لم یؤد فلان فانا ادفعہ الیک ونحوہ یکون کفالۃ لماعلم ان المواعید باکتساء صورالتعلیق تکون لازمۃ فان قولہ انا احج لایلزم لہ شیئ ولو علق وقال ان دخلت الدار فانا احج یلزم الحج ۱؎۔
اگر کوئی بطور تعلیق ضامن بنایا بایں صورت کہ کہا اگر فلان نے قرض کی ادائیگی نہ کی تو میں تجھے ادا کروں گا یا اس جیسی کوئی اور صورت کی تویہ کفالت درست ہےکیونکہ تجھے معلوم ہوچکا ہے کہ وعدے تعلیق کی صورت میں لازم ہوتے ہیں چنانچہ کسی کے یوں کہنے سے کہ میں حج کروں گا اس پر کچھ لازم نہیں ہوتا اور اگر یوں کہاکہ اگر میں گھرمیں داخل ہوا تو حج کروں گا یعنی تعلیق کی تو اس صورت میں (دخول دار سے) اس پر حج لازم ہوگا (ت)
 (۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکفالہ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۳)
اہل اسلام اس نفیس طریقہ کے بجالانے میں کابلی نہ کریں اس میں نہ کوئی خرچ ہے نہ حرج نہ وقت صرف زبانی دو تین لفظوں میں مطلب کامل مراد حاصل گناہ زائل، دستاویز تو لکھواتے ہی ہیں صرف اتنا زائد ہے کہ اس سے پہلے ایک چیز اس کے ہاتھ گھنٹہ بھر کے وعدے پر بیچ کر قبضہ میں دے کر فورا خریدلے اور روپیہ دے دے اور گھنٹہ کزرنے کے بعد دین کی نسبت اس کا وہ وعدہ لے لے، اس الٹ پھیر میں نہ کچھ وقت ومحنت ہوگی نہ کوئی پیسہ خرچ ہوگا اور معصیت الٰہی سے بچ کر مال حلال ہاتھ آئے گا اللہ عزوجل توفیق بخشے، آمین!
Flag Counter