| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
سئل فی رجل استلم من اٰخر الفی قرش دینادوعدہ ان یعطیہ بہازیتا بالسعر الواقع یوم کذا فلما جاء الیوم الموعود وکان سعر الزیت معلوما فیہ ارسل یطلبہ منہ فارسل بہ زیتا ہل یکون بیعا بالسعرالمعلوم یومئذ ام لا یکون بیعا وللمدیون طلب الزیت (اجاب) نعم یکون بیعانافذ والحال ہذا کما صرح بہ مجمع الفتاوٰی والقنیۃ والمجتبٰی معزیاالی النصاب وقد افتی بذلک المرحوم صاحب منح الغفار (الی قولہ) والاصل فی ذٰلک ان البیع عندنا یعقد بالتعاطی فافہم واﷲ تعالٰی اعلم۔ ۱؎ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول: انما انعقد بالتعاطی لان الذی جری بینہما من قبل انما کان وعدا اما لوکان ذٰلک عقدا لماصح لعدم اجتماع شرائط السلم کمالایخفی واذالم یصح ذٰلک لم یجز التعاطی المبنی علیہ کما صرح بہ فی البحر والدروغیرہما۔
اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جس نے دوسرے سے دوہزار (ترکی سکے) قرش بطور قرض وصول کئے اور وعدہ کیا کہ اس کے بدلے فلاں دن روغن زیتون دوں گا اس بھاؤ پر جو اس دن ہوگا، پھر جب وعدے کادن آگیا اور اس دن زیتوں کا بھاؤ معلوم تھا چنانچہ قرض دہندہ نے مدیون سے روغن زیتون مانگ بھیجا اوراس نے روغن زیتون بھیج دیا تو کیا یہ اس دن کے معلوم بھاؤ پر بیع ہوگی یا نہیں ہوگی اور مدیون کو روغن زیتون واپس مانگنے کا حق ہوگا؟ آپ نے جواب دیا ہاں بیع نافذ ہوگی اورحال یہی ہے جیسا کہ نصاب کی طرف منسوب کرتے ہوئے مجمع الفتاوی قنیہ اور مجتبٰی میں اس کی تصریح کی گئی ہے اور تحقیق اسی پرمرحوم صاحب منح الغفار نے فتوٰی دیا، (اس کے اس قول تک کہ) اور اس میں اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک تعاطی (باہمی لین دین) کے ساتھ بیع منعقد ہوجاتی ہے پس سمجھ اور اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے اھ مجھے یاد پڑتاہے کہ میں نے اس پریوں حاشیہ لکھا میں لکھتاہوں کہ تعاطی سے صرف اس لئے بیع منعقد ہوئی کہ جو گفتگو اس سے پہلے ان کے درمیان ہوچکی تھی وہ وعدہ تھا لیکن اگر وہ عقد ہوتا تو صحیح نہ ہوتا کیونکہ اس میں عقد سلم کے شرائط جمع نہیں ہیں جیسا کہ پوشیدہ نہیں تو جب عقد صحیح نہیں تو تعاطی بھی جائز نہیں جس کی بناء پر اسی عقد پر ہے جیسا کہ بحراور در وغیرہ میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی خیریہ کتاب البیع باب السلم دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۲۵)
مگر یہاں اور دقت درپیش ہے یہ صورت یوں نہیں کہ پہلے سے بسبب قرض وغیرہ کسی پر کچھ دین آتا تھا جس کے عوض کوئی شے دیگر لینا نہ قرار پایا تھا اس کے بعد مدیون نے بطور خود وعدہ کرلیا کہ میں بعوض دین یہ شے دوں گا یہاں تو وہ روپیہ اسی لئے دیا جاتا ہے کہ اس کے عوض رس لیں گے اور اسی بناء پر لیتا ہے تو اگرچہ بیع نہ سہی مگر قرض کے ذریعہ سے نفع حاصل کرنا ہا اور وہ سود ہے،
حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کل قرض جومنفعۃ فہو ربا ۱؎۔
جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔
(ت) (۱؎ کنزالعمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ۶ /۲۳۸)
اب اس عقد کا حاصل یہ ہوا کہ اتنا روپیہ تجھے قرض دیتاہوں اس شرط پر کہ تو اس کے عوض مجھے اتنا رس دے قرض اگرچہ شرط فاسد سے فاسد نہیں ہوتا بلکہ وہ شرط ہی باطل ہوجاتی ہے۔
علی مافی الدر ومتنہ عن الخانیۃ القرض لایتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منہا لا یبطلہ ولکنہ یلغو شرط ردشیئ اٰخر، فلو استقرض الدراھم المکسورۃ علی ان یؤدی صحیحا کان باطلا وکذا لو اقرضہ طعاما بشرط ردہ فی مکان اٰخر وکان علیہ مثل ماقبض ۲؎ الخ
اس بنا پر جو در اور اس کے متن میں خانیہ سے منقول ہے کہ قرض جائز شرط کے ساتھ متعلق نہیں ہوتا تو فاسد شرط قرض کو باطل نہیں کرتی لیکن دوسری شے لوٹانے کی شرط ہوجاتی ہے چنانچہ اگر کسی نے پھوٹے درہم قرض لئے اس شرط پر کہ صحیح درہم واپس کرے گا تو یہ شرط باطل ہے اور یوں ہی اگر کسی کو اناج قرض دیا اس شرط پر کہ دوسرے شہر میں واپس لوٹا ئے گا اس صورت میں مقروض پر واجب ہے کہ جیسی چیز اس نے قرض لی تھی ویسی ہی واپس لوٹائے الخ۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب البیوع باب القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰)
مگر ایسا قرض خود ہی معصیت وحرام ہے۔
فی الدرعن الخلاصۃ القرض بالشرط حرام والشرط لغو بان یقرض علی ان یکتب بہ الی بلد کذا لیوفی دینہ ۱؎ الخ
درمیں خلاصہ سے منقول ہے کہ شرط کرکے قرض دینا حرام ہے اور شرط لغو ہے جیسے کوئی شخص اس شرط پر قرض دے کہ مقروض اس کو فلاں شہر کی طرف لکھ دے تاکہ وہاں اس کا قرض ادا کیا جائے۔ (ت)
(۱؎درمختار کتاب البیوع باب القرض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۰)
اور یہاں صراحۃ شرط نہ بھی کریں تاہم بحکم عرف اس کا مشروط ہونا قرض دینے لینے والے دونوں پر ظاہر وآشکارہ ہوتاہے۔
والمعہود عرفا کالمشروط لفظا فی ردالمحتار من اٰخر الحوالۃ عن الفتح عن الواقعات قالوانما یحل ذٰلک عند عدم الشرط اذا لم یکن فیہ عرف ظاہر فان کان یعرف ان ذٰلک یفعل کذلک فلا ۲؎۔
جو عرف میں معہود ہو وہ ایسے ہی ہے جیسے لفظ شرط لگائی گئی ہو ردالمحتار میں باب الحوالہ کے آخر میں فتح سے بحوالہ واقعات منقول ہےفقہاء نے کہا ہے کہ عدم شرط کے وقت یہ قرض اس وقت حلال ہے جب اس میں (دوسرے شہر کی طرف لکھنے کا) عرف ظاہر نہ ہو چنانچہ اگر معروف ہے کہ وہ ایسا کرے گا تو حلال نہیں۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۹۶)
غرض یوں بھی جواز حاصل نہ ہوا، ہاں اس کی صورت یہ ہے کہ جس قدر کا رس خریدنا ہو اتنے روپوں کے عوض اپنی کوئی چیز اس کا شتکار کے ہاتھ ایک قریب وعدہ پر بیچے مثلا کہے میں نے یہ شیئ تیرے ہاتھ سو روپے کو بیچی اس شرط پر کہ یہ روپے ایک گھنٹہ کے بعد ادا کئے جائیں گے وہ کہے میں نے خریدی اس سے زائد کوئی رس وغیرہ کا ان لفظوں می نہ ہو پھر وہ شیئ مبیع اس کاشتکار کے قبضہ میں دے دے اور اس سے زرثمن نہ لے جب وہ قابض ہوجائے اسی چیز کو اب کاشت کار اس بائع کے ہاتھ سو روپے پر بیع کردےء اور اس میں کوئی میعاد ادائے ثمن مقرر نہ کرے یہ خریدے اور اس وقت کاشتکار کو روپے دے کر شیئ مبیع لے لے، یہ مبیع ثانی اور اس کے روپے ادا کرنے کی کاروائی اس مدت وعدہ سے پہلے ہولے جس مدت تک کاشتکار کے لئے بیع سابق میں ثمن مؤجل کیا ہے مثلا وہاں ایک گھنٹہ کا وعدہ ٹھہرا تھا تو یہ کاروائی گھنٹہ گزرنے سے پہلے ہولے وعلی ہذا القیاس ، اور بہت ضرور ہے کہ ان دونوں بیعوں سے حقیقۃ خرید وفروخت کا قصد کریں، فقط فرضی طور پر نہ ہوں اب اس کی چیز تو اس کے پاس واپس آئی اور کاشکار کو سو روپے مل گئے اور اس کے سو روپے اس کے ذمہ پر دین رہے، جب گھنٹہ یامیعاد جو قرار پائی تھی گزر جائے یہ اپنے اس دین کا کاشتکار سے مطالبہ کرے وہ کہے گھڑی بھر میں تیرا دین دیتاہوں اگرنہ دوں گا تو معاہدہ کرتاہوں کہ اس دین کے عوض فلاں مہینے میں اس نرخ سے اتنا رس ادا کروں گا بعدہ اسی مضمون کا اقرار نامہ لکھا جائے جیسا کہ کھنڈ ساری میں رائج ہے جس کی نقل عبارت اوپر گزری اس طور پر نہ تو بیع سلم ہوئی جس میں اس شے کابازر میں ہونا مشروط ہوتا نہ قرض ہوا جس سے انتفاع مشروط حرام ٹھہرتا بلکہ بذریعہ بیع صحیح ایک دین اس کا شتکار پر لازم ہوا بعدہ، اس دین کی نسبت یہ وعدہ ومعاہدہ قرار پایا بیع سابق کے بعد جو یہ قرار داد ہوئی اس عقد کی شرط نہ ٹھہرے گی کہ بوجہ شرط فاسد بیع فاسد ہوکر پھر گناہ لازم آئے۔