| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۲۴۲: از پیلی بھیت محلہ شیرمحمدمرسلہ شیخ نادر حسین صاحب ۲۳ جمادی الآخر ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرعی مبین اس مسئلہ میں کہ فی زمانہ جیسا رواج رس نیشکر کے فروخت کاہےکہ ادھر کھیت میں درخت نمود ہوئے ادھر اس وقت کے نرخ بموجب پیشگی روپیہ دے دیا آیا کسی حیلہ شرعی سے یہ بات جائز ہے یانہیں؟ اور اگر وقت تیار ہونے نیشکر کے اس وقت کے نرخ بموجب رس خریدا جائے تو بھی جائز ہے یانہیں؟ اوراگر جائز نہیں ہے توضرورت کے لئے کوئی حیلہ شرعی بھی ہے یانہیں کیونکہ زمانہ کا رواج بہت مجبور کررہاہے۔ بینوا توجروا
الجواب :نہ درختوں کے نمود پر جائز نہ نیشکر کی تیاری پر جائز نہ یہ جائز کہ جب رس موجودہوجائے اور بکنے لگے اس آئندہ سال کے رس کی بیع کرلیں کہ بیع سلم میں شرط ہے کہ وہ شے عقد سے وقت قرار داد تک کس وقت بازار سے منقطع نہ ہو پہلی دو صورتوں میں تو اس وقت عقد منقطع تھاگنے کی تیاری سے رس بازار میں تو نہ آگیا جو شرط جواز متحقق ہو اور پچھلی صورت میں اگرچہ رس وقت عقد موجود ہے مگر وقت قرارداد یعنی آئندہ سال تک موجود نہ رہے گا چند روز بعد بازار سے ختم ہوجائے گا ہمارے تمام ائمہ مذہب کا ان سب صورتوں کے ناجائز وحرام ہونے پر اجماع ہے متون وشروح وفتاوٰی ان کی تحریر سے مالا مال ہیں ہمیں خلاف مذہب فتوٰی دینے کی کسی طرح اجازت نہیں، ہاں اگر رس کہیں تیار ہوگیاکہیں ابھی ایکھ کھڑی ہے ایسے زمانہ میں جن کے یہاں ہنوز رس نہیں ان سے رس کی بیع سلم کرلینا بلا شہبہ جائز ہے جبکہ وعدہ اتنی قریب مدت تک کا کیا جائے جس میں اس سال کا رس بازار میں سے ختم نہ ہونے پائے،
بحرالرائق ودرمختار میں ہے :
مایکتب فی وثیقۃ السلم من قولہ جدید عامہ مفسد لہ ای قبل وجود الجدید اما بعد فیصح کمالایخفی ۱؎۔
وہ جو عقد سلم کے وثیقہ میں لکھا جاتاہے کہ اس سال کی جدید (گندم) تو یہ جدید کے موجود ہونے سے مفسد عقد ہے لیکن اس کے موجود ہونے کے بعد صحیح ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸) (بحرالرائق کتاب البیع باب السلم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۱۶۰)
اور اس تیاری وغیر تیاری میں کچھ گاؤں یا پرگنہ یا ضلع کااتحاد بھی شرط نہیں بلکہ اگر اس ضلع بھرمیں ابھی کہیں رس بلکہ گنا بھی تیار نہیں اوردوسرے ضلع میں رس بکنے لگا ہے تو جہاں ہنوز معدوم ہے وہاں والے بھی بیع سلم کرسکتے ہیں جبکہ ان دونوں ضلعوں میں اتنابعد عظیم نہ ہو کہ ان کے یہاں کی ایکھ ماری جائے یا رس پرکوئی افت آئے تو وہاں سے رس منگا کر دینے میں سخت شدید مشقت ہو جیسے ہندوستان میں ابھی مفقود ہے اور مثلا مصر یا برہما میں تیار ہوگیا تو ایسی تیاری پر ہندوستان میں اس کی بیع سلم حلال نہیں،
درمختارمیں ہے :
لوانقطع فی اقلیم دون آخر لم یجز فی المنقطع ۱؎۔
اگر ایک ملک میں مسلم فیہ نایاب ہے دوسرے میں نہیں ہے تو جہاں نایاب ہے وہاں سلم جائز نہیں۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷)
ردالمحتارمیں ہے :
ای المنقطع فیہ لانہ لایمکن احضارہ الابمشقۃ عظیمۃ فیعجز عن التسلیم، بحر ۲؎۔
یعنی جس ملک میں نایاب ہے کیونکہ سوائے سخت مشقت کے وہاں سے لانا ممکن نہیں لہذا تسلیم سے عجز لازم آئے گا۔ بحر۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۵)
یہ سب اس صورت میں ہے کہ واقع میں وہ عقد بیع شرعی ہو بعض دستاویزیں رس کی جوآج کل دیکھنے میں آئیں ان کا مضمون یہ ہے کہ (جو کہ مبلغ اس قدر یا فتنی فلان بن فلاں کے میرے ذمہ واجب الادا ہیں اقرار کرتاہوں اور لکھے دیتاہوں کہ بعض مبلغان مذکور کے مال اس کا شت ۱۳۰۰ ف جس کا پیداوار ۱۳۰۱ ف میں ہوگا وقت تیار ہوجانے بیل کے اس نرخ سے فلاں ماہ تک ادا کروں گا اپنے خرچ میں کسی طرح نہ لاؤں گا) اور سنا گیا کہ عام دستاویز اسی مضمون کی ہوتی ہیں اگر فی الواقع زبانی بھی کلمات بیع درمیان نہیں آتے نہ وہ کہتاہے کہ میں نے رس تیرے ہاتھ بیچا، نہ یہ کہتاہے کہ میں نے خریدا بلکہ اسی قسم کی گفتگو ہوتی ہے تو اسے بیع سے اصلا علاقہ نہیں، یہ تو ایک وعدہ واقرار ہے کہ زرمطالبہ اس راہ سے ادا کروں گا یہ صورت فی نفسہٖ اصلا جواز کی تھی، اگر کسی کا کسی پر کچھ قرض آتا ہو اورمدیون برضائے خود وعدہ کرلے کہ اس کے بدلے میں تجھے فلاں چیز اس نرخ سے دوں گا تو اس میں کوئی حرج نہیں جس وقت دے گا اس وقت بعوض اس قرض کے بیع ہوجائے گی اس طریقہ میں نہ پہلے سے کسی قرارداد کی حاجت ہوئی نہ کوئی شرط درکار، فقط اتنا چاہیے کہ دیتے وقت انہیں باہم معلوم ہوکہ اس بھاؤ پر دی گئی،