Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
142 - 180
اوراگرشرائط مجتمع ہوں  تو جائز ہے اگرچہ ایک پیسہ کو ہزار من گیہوں  خریدے
   قال اﷲ عزوجل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۲؎،
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا مگر یہ کہ ہو تمہارے درمیان تجارت باہمی رضامندی سے
(۲؎ القرآن الکریم       ۴ /۲۹)
وقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم ۳؎۔
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب بدلین مختلف نوعوں  کے ہوں  تو جیسے چاہو بیچو۔ (ت)
(۳؎ نصب الرایہ    کتاب البیوع         المکتبۃ الاسلامیہ الریاض    ۴/۴)
ردالمحتار میں  ہے:
فی الذخیرۃ اذا اخذ الخبز مفرقا ینبغی ان یبیع صاحب الحنطۃ خاتما اوسکینا من الخبازبالف من الخبز ۴؎۔
ذخیرہ میں  ہے کہ اگر کوئی شخص (گندم(اکٹھی دے کر اس کے بدلے میں )روٹیاں  متفرق طور پر لینا چاہے تو گندم والے کو چاہئے کہ وہ انگوٹھی یا چھری ہزار روٹیوں  کے بدلے میں  روٹیاں  پکانے والے کے ہاتھ فروخت کرے (پھر روٹیوں  والا گندم والے کے ہاتھ انگوٹھی یا چھری گندم کی مطلوبہ مقدار کے عوض بیچ کو گندم لے لے)۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار        باب الربٰو            داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۸۶)
غمزالعیون والبصائر میں ہے:
جواز بیع المقرض من المستقرض مما یساوی طسو جابعشرۃ دنانیر فانہ علی وفاق الدلیل لانہ بیع موجود مملوک لہ بالقاضی ۱؎۔
قرض دینے والے کو قرض مانگنے والے کے ہاتھ دورتی برابر کوئی چیز دس دینا رکے عوض فروخت کرنےکا جواز دلیل کے موافق ہے کیونکہ یہ اپنی موجود ملکیت کا قاضی کے حکم سے سودا ہے۔ (ت)
 (۱؎غمزالعیون البصائر    الفن الاول  بیان ان المعتبر العرف العام لا الخاص    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۱۳۵)
یہ سب اس حالت میں  ہے کہ بیع ہو "بعت اشتریت فروختم خریدم" (میں  نے بیچا میں  نے خریدا۔ ت) کہیں ، لوں  گا دوں  گا عقد نہیں وعدہ ہے اوراس کے لئے کوئی اثر نہیں کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں  بیان کردیا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲) نوٹ ہوں  یا پیسے دونوں  کی بیع سلم جائز ہے کہ ثمن اصطلاحی ہیں  نہ خلقی،
تنویر الابصار و درمختارباب السلم میں ہے:
 (یصح فیما امکن ضبط صفتہ ومعرفۃ قدرہ کمکیل وموزون) خرج بقولہ (مثمن) الدراھم والدنانیر لانہا اثمان فلم یجز فیہا السلم (وعددی متقارب کجوزوبیض وفلس ۲؎
عقد سلم اس چیز میں  صحیح ہے جس کی صفت کو ضبط کرنا اور اس کی مقدار کو پہچاننا ممکن ہو جیسے کیلی چیزاور ایسی وزنی چیز جو مثمن یعنی مبیع بنے، اس قید سے دراہم ودنانیر خارج ہوگئے کیونکہ وہ ثمن ہیں  جن میں بیع سلم جائز نہیں ، اور ایسی چیز جو عددی متقارب ہو جیسے اخروٹ، انڈے، اور پیسے (ت)
 (۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار    کتاب البیوع باب السلم             مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۴۷)
شرائط بیع سلم موجود ہوں  اور ایجاب وقبول ہو لوں  گا دوں  گا کوئی چیز نہیں  واللہ تعالٰی اعلم۔

(۳) ایسی بیع حرام ہے کہ یہ روپے کی بیع سلم ہوگی اور وہ جائز نہیں  کما تقدم انفا عن الدرالمختار (جیسا کہ ابھی درمختار کے حوالہ سے گزرا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ 240: از کرتولی ضلع بدایوں  مرسلہ جناب مولوی محمدرضاخاں  صاحب ۲۰ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

بیع سلم بحساب فی روپیہ ۱۲ سیر ربیع گزشتہ میں  ولید سے کہ کافر ہے قرار پائی اب خریف موجودہ ہیں  عمرو کو جس کا روپیہ تھا وہ جنس طے شدہ نہیں  دیتا عمرو اگر یہ کرے کہ جس قدر گیہوں  ولید کافر اور زید مسلمان کے ذمہ چاہئے ہیں  کسی دوسرے شخص کو اپنی ملکیت کے ہبہ کردے اور وہ شخص جس پر واجب الادا ہے عمرو کو خرید کر شخص موہوب لہ کو دے دے یہ جائز ہوگا یانہیں ؟
الجواب: بیع سلم میں  حکم ہے کہ جنس قرار یافتہ لے یا جتنا روپیہ دیا تھا واپس لے دوسری چیز عوض میں  لینا حرام ہے ہاں  اگر بائع کے پاس گیہوں  نہیں  اورمشتری اپنے پاس سے گیہوں  ثالث کو ہبہ کردے پھر بائع اسی ثالث سے خرید کر مشتری کے مطالبہ میں  دے تو جائز ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۴۱:کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک کھنڈ ساری نے ایک موضع کا رس وہاں  کے اسامیوں  سے ۲۵ روپیہ کے نرخ سے خریدا اور روپیہ دے دیا پھر اس کھنڈ ساری نے اپنے رس خریدے ہوئے کو وہاں  کے زمیندار کے ہاتھ فروخت کردیا ۲۵ روپیہ کے حساب سے، اور کچھ نفع یا نقصان نہیں  ہوا، پھر زمیندار نے کوشش کی کہ میرا رس کوئی شخص خریدلے اور دوسرے کھنڈساریوں  نے ۲۸ روپے تک لگائے جب زمیندار نے دیکھاکہ مجھ کو ۲۸ روپیہ سے زائد نہیں  ملتا تو اس نے اپنے اسامیوں  سے کہا کہ تم لوگ اپنے اپنے رس کا گڑ بنالو میرا روپیہ ۳۰ روپیہ کے نرخ حساب سے مجھ کو ادا کردینا پہلے بائع کو معلوم ہے کہ اس میں اختلاف ہے مگر یہ معاہدہ زمیندار کا اسامیوں  سے کہ ۳۰ روپیہ کے حساب سے ادا کردینا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا بالدلیل توجروا عندالجلیل (دلیل کے ساتھ بیان کریں  جلال والے اللہ تعالٰی کے ہاں  اجر دئے جاؤ گے۔ت)
الجواب: پہلی  دوسری تیسری یہ سب بیعیں  ناجائز وحرام ہوئیں  جبکہ رس موجود ہونے سے پہلے عمل میں  آئیں  جیسا کہ یہاں  دستور ہے، حدیث میں  ہے:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع مالیس عندہ ۱؎ اما ما رخص فی السلم فلہ شرائط منہا عدم انقطاع المسلم فیہ یوم العقد الی یوم الوعد
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایاجو بائع کے پاس موجود نہ ہوں ، بیع سلم میں  جو رخصت دی گئی ہے تو اس کے لئے کچھ شرطیں  ہیں  جن میں  سے ایک یہ ہے کہ مسلم فیہ عقد والے دن سے لے کر وعدہ والے دن تک بازار سے منقطع نہ ہو۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب البیع الفاسد    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴)
اور خاص تیسری بیع اگر رس کے باوجود پر بھی ہوئی تو ناجائز ہے۔
لان المشتری فاسد الایملک قبل القبض وبعدہ ایضا لایرتفع الاثم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ بیع فاسد کے ساتھ خریدی ہوئی چیز مملوک نہیں  بنتی قبضہ سے اور بعد بھی اس کا گناہ مرتفع نہیں  ہوتا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
Flag Counter