| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اورا گر بیع رضامندی سے ہوئی مگر کوئی شرط رہ گئی مثلا غلہ کی جنس یا نوع یا صفت یا وزن کی تعیین نہ ہوئی یا وہ چیز ٹھہری جو اس وقت سے وقت وعدہ تک ہر وقت بازار میں موجود نہ رہے گی یا میعاد مجہول رکھی یا اسی جلسہ میں روپیہ تمام وکمال ادانہ کردیا تو ضرور حرام وسود ہے اگرچہ نرخ بازار سے کچھ زیادہ نہ ٹھہرا ہو اور اگر خرید وفروختم(میں نے خریدا میں نے فروخت کیا۔ ت)کا مضمون درمیان نہ آیا مثلا اس نے کہا کہ روپیہ کے چودہ سیر لیں گے اس نے کہا دوں گا تو یہ نہ سود ہے نہ حرام، نہ اس کے لئے کسی وجہ شرط کی حاجت، نہ اسے اس پر مطالبہ پہنچے، اس کی خوشی پر ہے چاہے دے یا نہ دے کہ یہ سرے سے بیع ہی نہ ہوئی نرا وعدہ ہوا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۳۴ تا ۲۳۵: از گھٹنگاہ میو بند باغات ضلع جورہاـٹ آسام مسئولہ عبیداللہ ۱۷ رمضان ۱۳۳۹ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ: (۱) زید نے بکر کو دو روپے دئے اور غلہ کا دینا بروقت درو زراعت بہ تعیین وزن مثلا فی روپیہ کا بیس سیردھان، اور حال یہ ہے کہ اس وقت بازار کے نرخ سے دوچند ہوتاہے اب یہ بیع شرعاجائز ہے یانہیں ؟ (۲) زید نے دس بیگھ زمین خرید کر زراعت کار کو خزانہ پر دیا ہے مگر خزانہ کاروپیہ نقد نہیں وصول کیا یہ بندوبست کیا کہ جب خزانہ کاروپیہ کے ہر روپیہ میں بعد درو زراعت بیس روپے کرکے دھان لوں گا اب یہ بھی نرخ بازار سے دوچند ہوتاہے۔ یہ شرعا جائزہے یانہیں ؟
الجواب: (۱) یہ صورت بیع سلم کی ہے اگراس کی سب شرطیں ادا ہولیں جائز ہے ورنہ حرام منجملہ ان شرائط کے میعاد معلوم ہو کہ ایک مہینہ سے کم نہ ہو اور وقت درومیعاد غیر معلوم ہو کہ آگے پیچھے ہوتارہتاہے لہذا صورت مذکور ناجائز وحرام ہوئی
، درمختارمیں ہے:
لایصح البیع الی الحصاد والدیاس والقطاف لاہا تتقدم وتتاخر ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
فصل کاٹنے، گاہنے اور پھل چننے کی وجہ میعاد پر بیع کرناصحیح نہیں کیونکہ ان میں تقدم وتاخر ہوتارہتاہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۷)
(۲) یہ صورت پہلی سے بھی زیادہ حرام ہے
لانہ بیع الکائی بالکائی وقد نہی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎، واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیونکہ یہ ادھار کی ادھار سے بیع ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۲؎ سنن الداقطنی حدیث ۲۶۹ نشرالسنۃ ملتان ۳ /۷۱)
مسئلہ ۲۳۶: از موضع گہگورہ ڈاکخانہ سندر گنج ضلع رنگپور مرسلہ منشی سفیر الدین صاحب ۲۶ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ زید نے بکر کے پاس ۲۳ من پٹوادینے کی شرط پر (معہ/) روپے لئے جب موسم پٹواآیا تو بکر نے اپنے دئے ہوئے روپے کے عوض پٹوانا مانگا اس وقت پٹوا دینے سے مجبور ہوا ور قرض ادا کرنے کے خیال سے اپنے دوبیل فروخت کرنے پر آمادہ ہوگیا یہاں تک کہ ایک بیل کو فروخت کردیا قیمت اس کی پچاس روپے ہوئی اس بیل کی فروخت کی بات بکر نے سنتے ہی زید کو کہا اگر بیل کو فروخت کرنا چاہتے ہو تو وہ بیل ہم کو دو، تب زید نے فروخت کیا ہوا ۵۰ روپے قیمت والا بیل ۴۵ روپے قیمت مقرر کرکے اور دیگر ایک بیل ۲۵ روپے قیمت کیے ہوئے بیل کو ۲۰ روپے مقرر کرکے پہلے خریدار سے واپس لاکر بکر کودے دیا اور بکر نے رسید بھی لے لی اور زید نے ۲۰ روپے نقد بھی دئے تھے جبکہ زید نے دو بیل دئے اور (عہ ۲۰)بھی دئے تو اب مبلغ (صہ لہ) روپے ہوئے اصل سے (مہ عہ/) روپے زیادہ ہوتے ہیں اب مطلب یہ ہے کہ بیع سلم صحیح ہوئی یا کہ نہیں اور اس زیادہ روپےکاکیاحکم ہے؟
الجواب: بیع سلم صحیح تھی اگر سب شرائط جمع ہوئے تھے مگر جبکہ وہ پٹوادینے سے عاجز آیا اورروپیہ واپس دینا قرار پایا تو بکر پر فرض تھا کہ صرف وہی (معہ ۷۰) روپے واپس لے ان کے عوض بیل لئے یہ حرام پندہ روپے زیادہ لئے یہ حرام او نرا سود۔
قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتأخذ الاسلمک او رأس مالک ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوائے اس چیزکے جس میں تو نے عقد سلم کیا (مسلم فیہ) یا سوائے راس المال کے کچھ مت لے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب البیوع باب السلم المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۴ /۱۱) (درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۹)
مسئلہ ۲۳۷ و ۲۳۹: از کچھوچھہ شریف مرسلہ مولانامولوی سید محمد صاحب سلمہ ۹صفر ۱۳۳۶ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں : (۱) زید نے بکر کو ایک من گیہوں وایک آنہ پیسہ دے کر کہا کہ ایک من گیہوں تم کو بلا معاوضہ چیز ےدیتاہوں اورایک آنہ پیسہ کے عوض فلاں مہینہ میں گیہوں اوسط درجہ کا یا کہا کہ عمدہ ایک من بیس ثاء لوں گا۔ (۲) زید نے بکر کو ایک گنی دے کر کہاں کہ فلاں مہینہ میں دو نوٹ دس دس روپے کا لوں گا یا بیس روپیہ کے پیسے لوں گا (۳) زید نے بکر کو دس روپیہ قرض دیاکہ بعد ایک سال کے اداکردے اور ایک آنہ پیسہ دیا کہ کہ اس کے عوض بعد ایک سال کے دو روپیہ دے، یہ تینوں صورتیں شرعا جائز ہیں یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: (۱) ایک من گیہوں دینا نہ دینا کچھ ضرور نہین جملہ شرائط بیع کا تحقق ضرور ہے جن کی تفصیل توتمثیل ہمارے فتوٰی میں ہے ان میں سے ایک بھی کم ہے تو حرام ہے
لان بیع معدوم لم یرد الشرع بجوازہ وقد نہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن بیع مالیس عندہ ۱؎۔
کیونکہ یہ معدوم کی بیع ہے جس کے جواز پر شرع وارد نہیں ہوئی اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا جوبائع کے پاس موجود نہ ہو۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۴)