فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
140 - 180
مسئلہ ۲۲۸: غرہ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اینٹوں کی بیع سلم جائز ہے یانہیں ایسی صورت میں کہ ابھی بیچنے والے نے صرف زمین اس نیت سے لی ہے کہ بعد چار ماہ کے اسی سے مٹی کھود کر اینٹ بنائی جائے گی، خالد نے ابھی سے دو روپیہ ہزار کا نرخ کاٹ کر چار ماہ کے وعدہ پر دوسو روپے اسے دے دئے یہ صورت شرعا جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: جائز ہے جبکہ سانچا معین کردیا گیا ہو اور باقی شرائط بیع سلم متحقق ہوں اور یہ شرط نہ کی گئی ہو کہ اس مٹی سے جو اینٹ بنے گی وہ لی جائے گی۔
کیونکہ وہ فی الحال نایاب ہے جیسے نئی گندم کی بیع اس کے وجود سے قبل اور تنویرمیں ہے کہ جس چیز کی صفت کوضبط کرنا اور اس کی مقدار کی پہچان ممکن ہو اس میں سلم جائز ہے جیسے کیلی چیز ایسی وزنی چیز جومبیع ہو اور عددی متقارب اشیاء مثلا اخروٹ، انڈے، پیسے اورمعین سانچے کی بنی ہوئی کچی پکی اینٹیں ، (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۷)
مسئلہ ۲۲۹: از آنولہ شفاخانہ مرسلہ شیخ محمد بخش صاحب ڈاکٹر ۶ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شر ع متین اس بارہ میں کہ فلوس سکہ رائج الوقت بحساب فی روپیہ ساڑھے سولہ آنہ یعنی تینتیس ۳۳ ٹکہ فروخت ہوتے ہیں اگر زید کسی قدر روپیہ عمرو کو دے اور عمرو سے بحساب فی روپیہ ساڑھے سولہ آنہ یعنی تینتیس ٹکہ بلا تعیین وقت روزیاماہ کے کٹوتری کرلے اور عمرو بتدریج فلوس ادا کرے توکٹوتی فلوس اس صورت سے شرعا درست ہے یانہیں اور اگر عمرو فلوس کے ہمراہ دونی یا چونی زید کو دے تو دونی یا چونی ہمراہ فلوس کے عمرو سے لینا جائز ہے یانہیں ا ور اگر عمرو باجازت زید کے کسی قدر فلوس کٹوتری شدہ بہ نرخ رائج الوقت خود فروخت کرکے زید کو نقد روپیہ بعوض فلوس دے تو درست ہے یانہیں ؟
الجواب: پیسوں کی بیع سلم (یعنی کٹوتی)میں یہ تینوں صورتیں ناجائز وگناہ ہیں ، بیع سلم کی ایک ضروری شرط یہ بھی ہے کہ میعاد عقد میں معین کردی جائے جب یہاں تعین وقت نہ ہوا بیع حرام ہوگئی۔
فی الدرالمختار شروط صحتہ التی تذکر فی العقد بیان جنس ونوع وصفۃ و قدر واجل ۱؎ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے عقد سلم کے صحیح ہونے کی وہ شرطیں جن کو عقد میں ذکر کیا جاتاہے یہ ہیں : جنس، نوع، صفت، مقدارا ور اجل کا بیان کرنا اھ تلخیص (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸)
پھر بیع سلم جس چیز کی ہو اسے بدل کر دوسری شے لینی جائزنہیں ، تو کل یا بعض پیسوں کے عوض میں دو نی چونی اٹھنی وغیرہا نہیں لے سکتا بلکہ خاص پیسے ہی لئے جائیں گے۔
لقولہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لاتاخذ الاسلمک او رأس مالک ای الا سلمک حال قیام العقد اورأس المال عند انفساخہ فامتنع الاستبدال ۲؎ اھ درمختار۔
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد ہےکہ سوائے اپنے مسلم (مسلم فیہ) یاراس المال کے کچھ مت لےیعنی اگر عقد قائم رہے تو مسلم فیہ اورا گر عقد فسخ ہوجائے تو راس المال لے لے، چنانچہ بدلےمیں کوئی اور چیز لینا ممتنع ہو اھ درمختار (ت)
(۲؎درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۹)
نہ یہ روا ہے کہ اپنے قبضہ میں آجانے سے پہلے اس میں کوئی تصرف مثل بیع وغیرہ کیا جائے تو عمرو کا باجازت زید خواہ بلااجازت پیسے بیچ کر روپے وغیرہ ان کے بدلہ کی کوئی شے زید کو دینا درست نہیں نہ زید اسے لے سکتا ہے،
فی الدالمختار لا یجوز التصرف للمسلم الیہ فی راس المال ولا لرب السلم فی المسلم فیہ قبل قبضہ بنحو بیع وشرکۃ ۱؎۔
درمختار میں ہے کہ قبضہ سے پہلے مسلم الیہ کے لئے راس المال میں اور رب السلم کے لئے مسلم فیہ میں تصرف جیسے بیع اور شرکت ناجائز ہے واللہ تعالی اعلم (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع با ب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸)
مسئلہ ۲۳۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ میں کے مثلا زید نے بکر کو دس رپے دئیے اس شرط پر کہ آئندہ فصل میں فی روپیہ بیس سیر گندم لوں گا خصوصی شرط مذکور زید نے فصل مقررہ پر گندم وصول کئے فصل معین میں گندم فی روپیہ(۵ ما/)فروخت ہوتے تھے تو زید کو پندرہ سیر گندم جو کہ خلاف نرخ مل رہے ہیں یہ جائز ہے یاناجائز؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر یہ روپے زید نے بکر کو قرض دئے تھے اور شرط یہ کی کہ آئندہ فصل میں فی روپیہ بیس سیر گیہوں لیں گے تو یہ ناجائز اورحرام ہے اور اگر روپیہ گیہوؤں کو قیمت قرار دے کر دئے تھے تو اس کہنے سے کہ بیس سیر گندم لوں گا بیع نہ ہوئی نرا وعدہ ہوا اب جب گیہوں موجود ہوئے بکر اگر اس بھاؤپر نہ دے تو اسے اختیار ہے زید جبر نہیں کرسکتا اور اپنی خوشی سے بکر دے توحلال ہے اور اگر اس وقت گیہوں کی بیع کرلی کہ اس نے کہا بیچے اور اس نے کہا خریدے تو بیع سلم کی سب شرطیں ''اگر کرلی ہیں اور وہ متحقق ہیں تو جائز ہے اور فی روپیہ دس من زیادہ ملے تو حلال(عہ) ہے ورنہ حرام۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
عہ: اصل میں اسی طرح ہے ہونا چاہئے ''توبھی حلال ہے''
مسئلہ ۲۳۱: از میرانپور کٹرہ ضلع شاہجہانپور مسئولہ محمد صدیق بیگ صاحب ۲۵ محر م ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک اسامی کو پانچ روپے دے دئے ہیں اور اس سے یہ قرار پایا ہے کہ بیساکھ میں ساڑھے چاروپے من فروچنے دیں گے یہ بیع کیسی ہے؟
الجواب: یہ صورت بیع سلم کی ہے اور ا س میں بارہ شرطیں ہیں جن کی تفصیل (ف) ہمارے فتاوٰی میں ہے ان میں سے ایک بھی کم ہو تو حرام ہے اور سب جمع ہوں تو جائز ہے اوراگر وہ آسامی مسلمان نہیں تو جو معاہدہ اس سے ٹھہرجائے حرج نہیں کما مرمرارا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
ف: تفصیل کے لیئے جلد ہذا میں مسئلہ ۲۲۳ملاحظہ ہو۔
مسئلہ ۲۳۲: از موضع خورد مئوڈاکخانہ بدوسرائے ضلع بارہ بنکی مرسلہ صفدر علیہ صاحب ۶ ربیع الاول ۱۳۳۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ اس شرط پر کسی کو دینا اور مال لینا جائزہے کہ فصل میں جونرخ ہوگا ہم فلاں غلہ لیں گے۔
الجواب: فلاں غلہ لیں گے، یہ تو ایک وعدہ ہے کوئی عقد نہیں ہے اس کی پابندی پر جبر نہیں ہوسکتا اسے اختیار ہے کہ وروپیہ پھیردے اور غلہ نہ دے، اوراگر عقد بیع کیا تو یہ بیع سلم ہے اس کی بارہ (ف) شرطیں اگر جمع ہیں حلال ہیں ورنہ حرا،م، اور اس طور پر کہ فصل کے نرخ پر بیچا خریدا مطلقاحرام ہے کہ وہ مجہول ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
ف: یہ بارہ شرطیں جلدہذا کے مسئلہ ۲۲۳ کے تحت مندرج ہیں ۔
مسئلہ ۲۳۳: از شہر مرسلہ شوکت علی صاحب ۱۴ جمادی الآخر ۱۳۳۷ھ
کیاحکم ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ زید کچھ روپیہ دہقانوں کو فصل سے پہلے اس شرط پر تقسیم کردیتاہے مثلا جس وقت روپیہ یا اس وقت گندم خواہ کوئی غلہ(۱۰ ما/)کا تھا اور اس نے (۱۴ ما/)فی روپیہ نرخ ٹھہرا کر روپیہ دے دیا اب فصل پر خواہ کوئی نرخ کم وبیش (۱۴ ما/)سے ہو لیکن وہ فی روپیہ(۱۴ ما/)کے حساب سے غلہ لے لے گا۔ بکر کہتا ہے کہ تونے سودلیا کیونکہ نرخ سے زیادہ ٹھہرا لیا۔ بینوا توجروا
الجواب: یہ صورت بیع سلم کی ہے اگر اس کے سب شرائط پائے گئے تو بلاشبہ جائز ہے اور کسی طرح سود نہیں اگرچہ دس سیر کی جگہ دس من قرار دے، ہان اگر جبر ہے تو حرام ہے اگر دس سیر کی جگہ سیر ہی بھرلے
لقولہ تعالٰی الا ان تکون تجارہ عن تراض منکم ۱؎۔
اللہ تعالٰی کے اس ارشاد کی وجہ سے، مگریہ کہ ہو تمھارے درمیان تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے۔ (ت)