فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
139 - 180
اسی میں ہے:
ولافی حنطۃ حدیثۃ قبل حدوثہا لانہا منقطعۃ فی الحال ۱؎۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
عقد سلم نئی گندم میں ا سکے پیدا ہونے سے پہلے صحیح نہیں کیونکہ وہ فی الحال موجود نہیں ۔ (ت)
(۱؎درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷)
مسئلہ ۲۲۴: از شہر کہنہ دہم ربیع الثانی شریف ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر گیہوں کی کٹوتی جسے بدنی بھی کہتے ہیں اس طور پر کریں کہ روپے دے دے اور بھاؤ معین نہ کیا بلکہ یہ ٹھہرا کہ فصل کا بھاؤ یا اس سے مثلا دوسیر زائد لیں گے تویہ صورت جائز ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: محض ناجائز ہے جب تک مقدار معین نہ کردی جائے۔ فی الدرالمختار شرط صحتہ بیان جنس وقدر ککذا کیلا ۲اھ ملخصا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
درمختارمیں ہے عقد سلم کے صحیح ہونے کی شرط جنس کو بیان کرنا اورمقدار کو بیان کرنا ہے جیسے کیل کے اعتبار سے انتی ہے اھ تلخیص۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۸)
مسئلہ ۲۲۵: از شہر کہنہ دہم ربیع الثانی شریف ۱۳۰۶ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رس کی خریداری اس طور پر کہ ابھی ایکھ کھڑی ہے اور اسے خرید لیا اور روپیہ دے دیا،جائز ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب: محض ناجائز ہےکہ صورت بیع سلم کی ہے اور بیع سلم انھیں چیزوں میں جائز ہے جو ہنگام عقد سے میعاد استحقاق تک ہر وقت بازار میں موجود ہیں ، گھروں میں موجود ہونا کفایت نہیں کرتا اور ظاہرہے کہ رس اس وقت بازار میں نہیں ہوتا۔ ہدایہ میں ہے:
لایجوز المسلم حتی یکون المسلم فیہ موجود امن حین العقد الی حین المحل ۱؎۔
جب تک مسلم فیہ وقت عقد سے لیے کر وقت استحقاق تک مسلسل بازار میں موجود نہ رہے بیع سلم جائز نہیں ۔ (ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ /۹۵)
ردالمحتار میں ہے:
حد الانقطاع ان لا یوجد فی الاسواق وان کان فی البیوت کذا فی التبیین شرنبلالیہ ومثلہ فی الفتح والبحر والنھر ۲ ۔واللہ تعالٰی اعلم۔
نایاب ہونے کا معنی یہ ہے کہ چیز بازار میں موجود نہ ہو اگرچہ گھر میں موجود ہو تبیین شرنبلالیہ میں یونہی ہے اور اس کی مثل بحر، نہراور فتح میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ردالمحتار کتاب البیوع باب السلم داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۰۵)
مسئلہ ۲۲۶: ۸ رجب ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے اپنے یاغیر گاؤں کے اسامیوں کو روپیہ کٹوتی پر دیا اور نرخ کاٹ کر غلہ ٹھہرا لیا اب اگر کسی آفت ارضی یا سماوی کی وجہ سے غلہ نہ پیدا ہو تو یہ شخص اسی نرخ معین کے حساب سے قیمت پانے کا مستحق ہے یانہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب : جب عدم پیداوار وغیرہ کی وجہ سے بائع ومشتری اسی عقد کو فسخ کریں تو مشتری کو صرف اتنا ہی روپیہ لینا جائز ہےجس قدر اس نے دیا تھا اس سے زیادہ ایک حبہ لینا حرام اور سود ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتاخذ الاسلمک او رأس مالک ۳؎ او کما قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
یعنی ایا تو وہ چیز لے یا جتنا روپیہ دیا تھا وہ واپس کرلے اس کے سوا کچھ نہ لے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
(۳؎ درمختار باب السلم ۲/ ۴۹ و تبین الحقائق باب السلم ۴ /۱۱۴)
مسئلہ ۲۲۷: ۴ رمضان المبارک:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اسامیان کو بدنی پر روپیہ اور فی روپیہ ۲۰ ثاریا ۹ا ثار گندم عمدہ ماہ فلاں میں لینے ٹھہرے لیکن اسامی کے یہاں پیداوار کم ہوئی اور غلہ مذکور ادا نہ کرسکا تو اسے زر قیمت غلہ لینا جائز ہے یا ناجائز۔ یاکہ جو روپیہ دیا ہے وہ لیا جائے اوراگر غلہ وقت معینہ پر لیا جائے تو آیا صاف کراکر عمدہ لیا جائے یا جیسا پیدا ہوا ہےکس طور پر اوراگر بحالت باقی آئندہ سال پر غلہ لیا جائے تو کس شرح سے یعنی کہ زرقیمت بقیہ غلہ کے گندم بحساب بدنی مذکور لئے جائیں یا کہ بقیہ زردادہ کے گندم بحساب بدنی لئے جائیں بینوا توجروا
الجواب
روپیہ دینے والے کو دوہی بات کا اختیار ہے چاہے جو غلہ جتنا لینا ٹھہرا ہے اب خواہ آئندہ سال اسی قدر لے کر دانہ بڑھانے کا اختیار نہیں ہے اور چاہے تو اس صورت میں اپنا اتنا ہی روپیہ جس قدر دیا تھا پوراخواہ حساب سے کہ مثلا سو روپے پچاس من گیہوں پر دئے تھے پچیس من ملے تو باقی پچاس روپے واپس لے ایک کوڑی زیادہ حلال نہیں اوریہ جو کرلیتے ہیں کہ جو باقی رہا اس وقت کے بھاؤ سے اس کے دام کاٹے اور بدنی کے حساب سے ان داموں کا غلہ اس کے ذمہ کردیا یہ نرا سود قطعی حرام بلکہ سود درسود ہے۔
فی الدرالمختار لو انقطع بعد الاستحقاق خیر رب السلم بین انتظار وجودہ والفسخ واخذ راس مالہ ۱؎ اھ وفیہ لایجوز التصرف للمسلم الیہ فی رأس المال ولالرب السلم فی المسلم فیہ قبل قبضہ بنحوبیع وشرکۃ ومرابحۃ و تولیۃ ولوممن علیہ حتی لووھبہ منہ کان اقالۃ اذا قبل وفی الصغرٰی اقالۃ بعض السلم جائزۃ ۲؎ الخ۔
درمختار میں ہے کہ اگر مسلم فیہ استحقاق کے بعد نایاب ہوگئی تو رب السلم کو اختیار دیا جائے گا کہ یا تو اس کے دستیاب ہونے کا اتنظار کرے یا عقد فسخ کرکے راس المال واپس لے لے اھ، اور اسی میں ہے قبضہ سے پہلے مسلم الیہ کے لئے راس المال میں اور رب السلم کے لئے مسلم فیہ تصرف جیسے بیع، شرکت، مرابحہ اور تولیہ جائز نہیں اگرچہ یہ تصرفات اسی شخص سے کئے جائیں جس پر راس المال یا مسلم فیہ ہے یہاں تک کہ اگر رب السلم نے مسلم الیہ کو مسلم فیہ ہبہ کردیا تو یہ اقالہ ہوگا جبکہ مسلم الیہ اسی کو قبول کرے اور صغرٰی میں ہے کہ بعض سلم کااقالہ جائز ہے الخ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب السلم مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۴۷)
(۲؎درمختار کتاب البیوع باب السلم ۲ /۴۹ ۔ ۴۸)
اور گیہوں جیسے ٹھہرے تھے ویسے لینے کا مستحق ہے اگر عمدہ صاف کی شرط تو عمدہ صاف ہی لے گا۔
فی الہندیۃ اسلم فی کندم نیکواو قال نیک او قال سرہ یجوز ھذا ھوالصحیح والماخوذبہ کذا فی الغیاثیۃ ۱؎ اھ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
ہندیہ میں ہے اگر کسی نے نے گندم میں عقد سلم کیا اور کہا گندم نیکو یا کہا نیک یا کہا سرہ یعنی کھری تو جائز ہے اور یہی صحیح اور مختار ہے، یوں غیاثیہ میں ہے اھ، واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الثامن عشرالفصل الاول نورانی کب خانہ پشاور ۳ /۱۷۹)