Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
138 - 180
باب البیع السلم

(بیع سلم کا بیان)
مسئلہ ۲۲۳: از فیروز پور        ۲۹جمادی الآخرہ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں  علمائے دین اس مسئلہ میں  کہ کٹوتی کا روپیہ پیشگی دے دیا اور ناج فصل پرلینا ٹھہرا کن کن شرطوں  سے جائزہے۔ بینوا توجروا
الجواب:  اسے بیع سلم کہتے ہیں ، یہ بارہ شرطوں  سے جائز ہوتی ہے اگر ان میں  سے ایک بھی کم ہوگی تو بالکل ناجائز اور سود ہوجائے گی:

(۱) اس شیئ کی جنس بیان کردی جائے مثلا گیہوں  یا چاول یا گھی یاتیل، اگر ایک عام بات کہی مثلا غلہ میں  لیں  گے تو ناجائز ہے۔ 

(۲) وہ جنس اگر کئی قسم کی ہوتی ہے تو اس کی قسم معین کردی جائے جیسے چاول میں  باسمتی ہنس راج، اگر نرے چاول کہے بیع صحیح نہ ہوگی۔

(۳) اس کی صفت بیان کردی جائے مثلا عمدہ یاناقص جیسے چنوں  میں  فردیا کسیلے

(۴)اس کی مقدار معین کردی جائے مثلا اتنے من،اوریہ بات بھاؤ کاٹ دینے سے بھی حاصل ہوجاتی ہے یعنی فی روپیہ اتنے سیر کہ روپوں  کی گنتی معلوم ہونے سے کل مقدار خود معلوم ہوجائیگی۔

اور جہاں  مختلف پسیروں  کا رواج ہو وہاں  پسیری کی تعیین بھی ضروری ہے کہ فلاں  پسیری سے اتنے من اور جہاں  کچا پکا دونوں  من بولا جائے وہاں  اس کی تعین بھی لازم ہے غر ض کوئی بات وہ نہ رہے جس میں  آئندہ جھگڑا اٹھنے کی صورت ہو۔

(۵) میعاد معین کردی جائے جو یاک مہینہ سے کم نہ ہو اگر تعیین نہ کی مثلا جب چاہیں  گے لے لیں  گے یا سفر کو جاتاہوں  جب پلٹ کر آؤں  گا لے لوں  گا تو ناجائز ہوگا۔

(۶)اگر وہ چیز باربرداری کی ہے جس کے یہاں سے وہاں لے جانے میں  خرچ ہوگا تو وہ جگہ بھی معین کی جائے جہاں  پہنچنا منظورہے مثلا فلاں  شہر یا فلاں  گاؤں  میں پہنچتے ہوئے، اس میں  بیچنے واسے کو اختیار ہے گاکہ اس گاؤں  یا شہر کے جس مقام ومحلہ می ں  چاہے پہنچادے وار جو مکان بھی خاص کردیا تو وہی پہنچنا پڑے گا۔

(۷)ثمن کی بھی تعین ہوجائے مثلا روپے یااشرفی 

(۸)اگر وہ ثمن چند قسم کا ہوتا ہے تو قسم بھی معین کردے مثلا اشرفی محمد شاہی یا انگریزی۔

(۹) کھرے کھوٹئے کا بیان بھی ہو جیسے لکھنؤ کا روپیہ یاانگریزی چہرہ دار یا جے پور کی چاندی یا اینٹ کا سونا۔

(۱۰) اگر ثمن اس قسم کا ہے کہ اس کے ہر ٹکڑے کے مقابل شے مبیع کاٹکڑا ہوتہے جیسے سونا، چاندی، روپیہ اشرفی کہ گیہوں  روپیہ کے من بھر ہوئے تواٹھنی کے بیس سیر، چونی کے دس سیر ہوں  گے تو ایسی ثمن کی تعیین مقدار بھی ضرورہے مثلا اتنے تولہ چاندی یا اس قدر روپے اور اگر وہاں  مختلف وزن کے سکے چلتے ہوں  جیسے حیدرآباد میں  نوابی وانگریزی روپیہ وہاں  سکہ کی تعیین بھی چاہئے

یہ دسوں  باتیں  خاص عقد ایجاب وقبول میں  بیان کرنی ضروری ہےں ، مثال اس کی یہ ہے کہ زید وعمر سے کہے میں نے تجھ سے بریلی کی تول سے دس من پختہ چاول ہنسراج کھرے بالعوض سوروپے انگریزی چہرہ دار کے آج سے چارمہینے کے وعدہ پر بریلی پہنچتے ہوئے خرید ے، وہ کہے میں نے بیچے یا میں  نے تجھ سے بدایوں  کے وزن سے چارمن پکا گھی بھینس کا خالص آج سے دومہینے کے دعدہ پر مرادآباد پہنچتاہوا بالعوض چھ اشرفی محمد شاہی بیس بیس روپے والی کے خریدا، وہ کہے میں  نے بیچا، یہ سب باتیں  خوب خٰال کرلی جائیں  کہ لوگوں میں  آج کل بیع سلم کا بہت رواج ہے، ان زبانی شرطوں  کے ترک سے حلال کوناحق اپنے لئے حرام کرلیتے اور خدا کے گناہ میں  گرفتارہوتے ہیں 

(۱۱)شرط یہ کہ اسی جلسہ میں ثمن ادا کردیا جائے ورنہ اگر یہ ساری گفتگو کرکے ثمن دیئے بغیر متفرق ہوگئے تو بنابنایا عقد فاسد وناجائز ہوجائے گا یہاں  تک کہ اگر وہاں سے آٹھ کر گھر میں  روپے لینے گیا اور

بیچنے والے کی نگاہ سے آڑ ہوگئی عقد فاسد ہوگیا۔

(۱۲)وہ چیز اس قسم کی ہو کہ روز عقد سے ختم میعاد تک ہر وقت بازار میں  مل سکے ورنہ عقد ناجائز ہوگا اسی لئے اگر گیہوں  کی کٹوتی میں  یہ لفظ کہہ دیئے کہ نئے گیہوں  لیں  گے اور اس وقت نیا گیہوں  بازار میں  نہیں  تو ناجائز وگناہ ہے اور اسی سبب سے رس کی کٹوتی جو ایکھوں  کے وقت کرتے ہیں  حرام ہوئی کہ رس اس وقت بازار میں  نہیں ہوتا۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار بالتلفیق والاختصار، شرطہ ای شروط صحتہ التی تذکر فی العقد سبعۃ (اجمالا والافالاربعۃ الاول منہا تشترط فی کل من راس المال والمسلم فیہ ثمانیۃ بالتفصیل، بحر) بیان جنس کبر او تمر، وبیان نوع کمسقی (ماسقتہ الماء، وفیہ عن الخلاصۃ لایشترط بیان النوع ما لا نوع لہ وفیہ عن المعراج انما یشترط بیان النوع فی رأس المال اذا کان فی البلد نقود مختلفہ والا فلا) وصفۃ کجید اوردی، وقد ککذا کیلا، واجل واقلہ شہر بہ یفتی،  وقدرأس المال ان تعلق العقد بمقدارہ (بان تنقسم اجزاء السلم فیہ علی اجزاءہ فتح ای بان یقابل النصف بالنصف والربع بالربع وھکذا وذٰلک انما یکون فی المثلی)، والسابع بیان مکان الایفاء للمسلم فیہ فیمالہ حمل ومؤنۃ شرط الایفاء فی مدینۃ فکل محلاتہا سواء فیہ حتی لو اوفاہ فی محلۃ منہا برئ ولیس لہ ان یطالبہ فی محلۃ اخری بزازیۃ ولو عین مکانا تعین فی الاصح فتح، وبقی من الشروط قبض رأس المال ولو عینا قبل الافتراق بابدانہما وان نامااو سارفرسخا اواکثر ولودخل لیخرج الدراھم ان تواری عن المسلم الیہ بطل وان بحیث یراہ لاوھو شرط بقائہ علی الصحۃ لاشرط انعقادہ بوصفہا فینعقد صحیحا ثم یبطل بالافتراق بلاقبض ۱؎۔
تنویر الابصار، درمختارا ور ردالمحتار میں  مخلوط عبارت بطور اختصار یوں  ہے کہ بیع سلم کے صحیح ہونے کی وہ شرطیں  سات ہیں  جن کا عقد میں  ذکر کیا جانا (یہ تعداد اجمالی ہے ورنہ پہلی چار شرطیں  راس المال (ثمن) اور مسلم فیہ (مبیع) دونوں  میں  پائی جاتی ہیں  تو اس طرح تفصیلا یہ چار کے بجائے آٹھ ہوئیں ، بحر) (۱) مسلم فیہ کی جنس کا بیان جیسے گندم یا کھجور (۲)نوع کا بیان جیسے نہری پانی سے اس کو سیراب کیا گیا ہے یا بارش کے پانی سے سیراب ہوئی ہے اور اس میں  خلاصہ سے منقول ہے کہ جسمیں  کوئی نوع نہ ہو اس میں  نوع کا بیان شرط نہیں  اور اس میں  معراج سے منقول ہے کہ راس المال میں  نوع کا بیان کرنا شرط ہے جبکہ شہر میں  مختلف نقود رائج ہوں  ورنہ نہیں ۔(۳) مفسلم فیہ کی صفت کا بیان جیسے عمدہ یاناقص (۴) مسلم فیہ کی مقدار کا بیان جیسے کیل کے اعتبار سے اتنی (۵)مدت کا بیان اور سلم میں  کم از کم مدت ایک ماہ ہے اسی پر فتوی ہے۔ (۶) راس المال کی مقدار کابیان اگر عقد کاتعلق راس المال کی مقدار سے ہو بایں  طور کہ مسلم فیہ کے اجزاء راس المال کے اجازء پر منقسم ہوتے ہوں  (فتح) اس تقسیم کی صورت یہ ہےکہ نصف مسلم فیہ نصف راس المال کے بدلے میں  اور چوتھائی چوتھائی کے بدلے میں  ہو اسی طرح یہ سلسلہ چلتا جائے اور یہ صورت صرف مثلی چیزوں  میں  متحقق ہوسکتی ہے، (۷) اس جگہ کا بیان جہاں  مسلم فیہ پہنچانا منظور ہے جبکہ مسلم فیہ میں  باربرداری اور مشقت ہے، کسی شہر سے پہنچانے کی شرط لگائی تو اس شہر کے تمام محلے اس مسئلہ میں  برابر ہیں  اگر کسی محلہ میں  بائع نے مسلم فیہ کو پہنچادیا تو بری الذمہ ہوگیا مشتری کو یہ حق حاصل نہیں  کہ و ہ دوسرے محلہ میں  پہنچانے کا مطالبہ کرے (بزازیہ) اوراگر کوئی مکان معین کردیا تو وہی معین ہوگا اصح مذہب پر (فتح) اور باقی رہا شرطوں  میں  سے راس المال پر قبضہ کرنا اگرچہ راس المال معین ہو، اوریہ قبضہ عاقدین کے بدنی طوپر جدا ہونے سے قبل شرط ہے اگرچہ وہ دونوں  مجلس میں  سو گئے ہوں  یا ایک فرسخ یا اس سے کچھ زیادہ اکٹھے چلتے گئے ہوں  (اس کے بعد قبضہ کیا ہو) اوراگر رب السلم (مشتری) درہم لینے گھر میں  اس طرح داخل ہو ا کہ مسلم الیہ (بائع) کی نظر سے اوجھل ہوگیا توعقد باطل ہوگیا اور اگر وہ نظرآتا رہا تو عقد باطل نہیں  ہوا اور راس المال پر مجلس میں  قبضہ کرنا عقد سلم کے صحت پر باقی رہنے کی شرط ہے نہ کہ وصف صحت پر اس کے منعقد ہونے کی شرط ہے، تو بیع کا انعقاد صحیح ہوجائے گا پھر راس المال پر قبضہ کئے بغیر دونوں  کے جدا ہونے سے باطل ہوجائے گی۔ (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار        کتاب البیوع باب السلم        مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۴۸)

(ردالمحتار     کتاب البیوع باب السلم        مطبع مجتبائی دہلی    ۴ /۷۔ ۲۰۶)
اسی میں  ہے :
لایصح فی منقطع لایوجد فی الاسراق من وقت العقد الی وقت الاستحقاق ۲؎۔
ایسی چیز میں  عقد سلم صحیح نہیں  جو وقت عقد سے وقت استحقاق یعنی ختم میعاد تک بازارمیں  موجود نہ رہے۔ (ت)
 (۲؎ درمختار    کتاب البیوع باب السلم        مطبع مجتبائی دہلی        ۲ /۴۷)
Flag Counter