| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
ان باع صبرۃ علی انہا مائۃ قفیز بمائۃ درہم وہی اقل اواکثر اخذ المشتری الاقل بحصتہ ان شاء اوفسخ، ومازاد للبائع، وان باع المذروع علی انہ مائۃ ذراع مثلا اخذ المشتری الاقل بکل الثمن واترک واخذالاکثر بلاخیار للبائع ۱؎۔
اگرڈھیر بیچا اس شرط پر کہ یہ سوبوری ہے سودرہم کے بدلے میں ، حالانکہ وہ ڈھیر سوبوری سے کم یا زیادہ ہے تو مشتری کو اختیار ہے کہ کمتر کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لے لے یا بیع کو فسخ کردے، اور جو سو بوری سے زائد ہے وہ بائع کاہے، اور اگر مذروع کو مثل سابق بیچا کہ یہ مثال کے طور پر سوگز ہے سودرہم کے بدلے میں تو مشتری کواختیار ہوگا کہ وہ کمتر کو پورے ثمن کے عوض لے لے یا چھوڑدے اوراکثر کو مشتری لے لے گا، بائع کو اس میں اختیار حاصل نہ ہوگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷)
مگریہاں یہ صورت نہیں مبیع بتمامہ قبضہ میں رہ کر پیمائش میں کم نہ آئی بلکہ مبیع سے ایک قطعہ ملک ریاست قرار پاکر قبضہ سے نکل گیا، یہ صورت استحقاق کی ہے اور استحقاق میں ضرور مشتری کو اتنے کی قیمت بائع سے واپس لینے کا اختیار ہوتاہےجتنا مستحق کے دعوے پر اس کے قبضہ سے نکل گیا اور اس میں مثلی وقیمی مذروع ومعدود وغیرہا سب برابرہیں ،
عالمگیری میں ہے :
اذا کان المشتری شیئا واحدا کالثوب الواحد والعبد فاستحق بعضہ قبل القبض اوبعدہ فللمشتری الخیار فی الباق ان شاء اخذہ بالحصۃ وان اء ترک ۲؎ الخ وعزاہ للمحیط وظاہر ان الثوب قیمی مذروع قال فی ردالمحتار وان بع المذروع کثوب وارض درمنتقی ۳؎ اھ وقد حکم فی استحقاق بعضہ باخذ الباقی بالحصہ۔
جب خریدی ہوئی چیزایک ہو جیسے ایک کپڑا یاغلام، پھر قبضہ سے پہلے یا بعد اس کے بعض میں استحقاق ثابت ہوگیا تومشتری کو اختیار ہے چاہے تو باقی کو اس کے حصہ کی قیمت کے بدلے میں لے لے اور اگر چاہے تو چھوڑدے الخ اور اس کومحیط کی طرف منسوب کیا ہے اور ظاہر ہے کہ کپڑا قیمتی مذروع ہے، ردالمحتارمیں کہا کہ اگرمذروع کوبیچا جیسے کپڑا اور زمین درمنتقی اھ، بے شک اسکے بعض میں استحقاق ثابت ہونے کی صورت میں باقی کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لنے کا حکم کیا گیا ہے۔ (ت)
(فتاوٰی ہندیہ کتاب البیوع الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۶۶) (۳؎ ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۱)
جامع الفصولین میں ہے :
استحق بعض المبیع فلم لو یمیز الابضرر کدار اوکرم الارض وزوجی خف ومصراعی باب وفق یتخیر المشتری والا فلا، ثم لواورث الاستحقاق عیبا فیما بقی یخیر المشتری کما مرولولم یورث عیبا کثوبین استحق احدھما فالمشتری یاخذ الباقی بحصتہ بالاخیار ۱؎۔ملتقطا
بعض مبیع میں استحقاق ثابت ہوگیا تو (دیکھیں گے کہ) اگر وہ بلانقصان جدا نہیں ہوسکتا جیسے مکان، انگورکی بیل، زمین، موزوں کا جوڑا اور ایک دروازے کے دوپٹ تو اس صورت میں مشتری کو اختیار ملے گاورنہ نہیں ، پھر اگر استحقاق باقی مبیع میں عیب پیدا کردے تو مشتری کو اختیار ملے گاجیسا کہ گزر چکا ہے اور اگر وہ عیب پیدا نہ کرے جیسے دوکپڑوں میں سے ایک میں استحقاق ثابت ہوجائے تو مشتری باقی کو اس کے حصے کی قیمت کے بدلے میں لے گا اس صورت میں اس کو اختیار نہیں ملے گا۔ ملتقطا۔ (ت)
(۱؎ جامع الفصولین الفصل السادس عشر اسلامی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۔ ۲۱۹)
پس صورت مستفسرہ میں زید بکر سے ثمن کے ۱۴/۹۷ یعنی ستاون روپے پونے بارہ آنے واپس لے سکتاہے ایک خفیف مقدار کم جس کی مقدار نصف پائی تک بھی نہیں یعنی ۴۵/۵۷ پائی، یہ سوال کا جواب تھا مگر ملاحطہ بیعنامہ سے واضح ہوا کہ یہ بیع فاسدہ واقع ہوئی کہ اس کے آخر میں شرائط فاسد مذکور ہیں مثلا یہ کہ اگر جز کل اراضی قبضہ مشتریان سے نکل جائے تو اس کا بارہرجہ وخردچہ ذمہ بایعان ہے اور جو درخت اراضی میں کھڑے ہیں ان کو آخر سال ۱۳۱۸ف تک قطع کرکے اراضی مکشوف کردیں گے ورنہ درخت بھی قیمت مذکورہ بالا میں بیع متصور ہوں گے اس کے دعوی چوب درختان نہ رہے گا، بعینامہ میں شرط فاسد کے ذکر سے بیع پرحکم فساد ہوگا،
درمختارمیں ہے :
لوکتب فی الصک فما اتفق المشتری فیہا من نفقۃ اورم فیہا من مرمۃ فعلی البائع یفسد البیع ۲؎۔
اگر بیعنامہ میں لکھا گیا کہ جو کچھ مشتری مبیع پر خرچ کرے گا یا اس میں حرمت کرے گا وہ بائع کے ذمے ہوگا تو بیع فاسد ہوجائی گی۔(ت)
(۲؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۴۶)
تو بائع ومشتری دونوں پر واجب ہے کہ توبہ کریں اوراگر موانع فسخ سے کوئی مانع نہ پایا گیا ہو تو واجب ہے کہ بیع فسخ کردیں ، زید زمین واپس دے اور بکر پوری قیمت پھیردے، اگروہ دونوں نہ مانیں حاکم جبرا فسخ کردے۔
درمختارمیں ہے:
یجب علی کل واحد منہما فسخہ قبل القبض اوبعدہ مادام المبیع بحالہ فی یدالمشتری اعداما للفساد لانہ معصیۃ فیجب رفعہا بحر، واذا اصراحدھما علی امساکہ وعلم بہ القاضی فلہ فسخہ جبرا علیہما حقاللشرع ، بزازیۃ ۱؎۔
فسادکوختم کرنے کے لئےقبضہ سے پہلے یا قبضہ کے بعد جب تک مبیع مشتری کے پاس اپنے حال میں موجود ہے بیع فاسد کوفسخ کرنا بائع اورمشتری میں سے ہر ایک پر واجب ہے کیونکہ یہ معصیت ہے اس لئے اس کو دور کرنا واجب ہے بحر، اور اگرا ن میں سے کوئی ایک اس کو برقرار رکھنے پر اصرار کرے اور قاضی کو اس کا علم ہو تو وہ حق شرع کے لئے ان دونوں پر جبر کرتے ہوئے فسخ کرسکتاہے، بزازیہ۔ (ت) اس کے بع پھر چاہیں تو آپس میں صحیح بیع کرلیں جتنے ثمن پر تراضی ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۱؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۸)