| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مسئلہ ۲۲۰: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئل میں کہ غلام حسین نے زوجہ نیازن اور ہمشیرہ بنی وارث اپنے اور دومکان ایک پختہ اور ایک خام جن کی قیمت بقدر چھ سو روپے کے ہے ترکہ چھوڑ کر اتنقال کیا، نیاز بی بی کا ایک ہزار روپیہ مہر ذمہ غلام حسین واجب الادا تھا۔ نیاز بی بی نے بذریعہ مہر دونوں مکانوں پر قبضہ کیا اور مکان پختہ بعوض ساڑھے چار سو روپیہ کے شیخ محمد وزیر کے ہاتھ بیع کیااور بیعنامہ میں حسب معمول صرف اپنامالک وقابض ومتصرف ہونا لکھا اور مشتری کو قبضہ دلادیا بعدہ، بائعہ حج کو گئی اس کے پیچھے بنی نے بذریعہ وارثت تین ربع کا مکان پر دعوٰی کیا اور کچہری سے ڈگری پائی ایک ربع مشتری کے پاس رہا، نیاز بی بی حج سے واپس آکر انتقال کرگئی وارثان نیاز بی بی نے دعوٰی مہر کیا ثابت ہوا بنی پر ڈگری ہوئی تو تین ربع مکان پختہ اور کل مکاں خام مہر میں نیلام ہوگئے اب وارثان نیاز بی بی ایک ربع پر باقی ماندہ کو بھی مہر میں نیلام کرلینا چاہتے ہیں ، اس صورت میں شرعا کیا حکم ہے آیا وہ بیع کہ نیاز بی بی نے کی تھی جائزہے یا نہیں اور دعوٰی وارثان صحیح ہے یا باطل؟ اور تین ربع کہ مشتری سے نکل گئے اور یہ ربع باقی ماندہ بھی اگر بحکم شرع نکل جائے تو آیا وہ ثمن کہ مشتری نے نیاز بی بی کو دیا قابل واپسی ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب صورت مستفسرہ یں نیاز بی بی نے جس کا مہر مال غلام حسین سے زائد تھا کل متروکہ پوجو بذریعہ مہرقبضہ کیا صحیح تھااور اس مذہب پر جس پر اب علماء کا فتوٰی ہے نیاز بی بی ان مکانوں کی مالک مستقل ہوچکی اور وہ بیع کہ اس نے بدست محمد وزیر کی صحیح ونافذ تھی نہ بنی کو اپنا دعوی وارثت پہنچا تھا کہ ادائے مہر تقسیم ترکہ پر مقدم ہے نہ وارثان نیازبی بی دعوٰی مہر کرسکتے تھے کہ نیاز بی بی اپنی حیات میں اپنا مہر پاچکی آخر کل متروکہ پر اس کا قبضہ کرلینا بذریعہ مہری تھا تو اب دین اداشدہ کا دعوٰی کا یعنی نہ اس جائداد کامہر میں نیلام ہونا چاہئے تھا بلکہ حکم یہ تھا کہ نیاز بی بی اپنا مہر پاچکی اور دونوں مکانوں کی وہی مالک ٹھہری ایک مکان وہ اپنی حیات میں بیع کرچکی وہ تمام مالک مشتری ہے دوسر ا مکان خام کہ باقی رہا متروکہ نیاز بی بی ٹھہرکر وارثان نیازبی بی پر تقسیم ہوجائے۔
فی الشامی والطحطاوی عن شرح الکنز العلامۃ الحموی عن الامام العلامۃ علی المقدسی عن جدہ الاشقرعن شرح القدوری للامام الاخصب ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانہم لمطاوعتہم فی الحقوق والفتوی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان ۱؎۔
شامی اور طحطاوی میں علامہ حموی کی شرح کنز سے بحوالہ امام علامہ علی مقدسی منقول ہے، انہوں نے اپنے دادا اشقر سے بحوالہ شرح قدوری از امام اخصب ذکر کیا کہ خلاف جنس سے وصول کرنے کا عدم جواز مشائخ کے زمانہ میں تھاکیونکہ وہ لوگ حقوق میں باہم متفق تھے آج کل فتوٰی اس پر ہے کہ جب اپنے کی وصولی پر قادرہو چاہے کسی بھی مال سے ہو تو وصول کرلینا جائز ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الحجر داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۹۵)
اور بالفرض اگر اس فتوٰی کو ماخوذ نہ رکھیں تو متروکہ غلام حسین کسی وارث کی ملک نہ تھا نہ نیاز بی بی کی نہ بنی کی۔ فان الدین المحیط یمنع ملک الوارث ۲؎، کما فی الاشباہ وغیرہا کیونکہ تمام مال کااحاطہ کرنے والا قرض وارث کی ملکیت سے مانع ہے جیسا کہ اشباہ وغیرہ میں ہے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی ۲ /۲۰۴)
تو بیع کہ نیاز بی بی نے کی اس شے کی بیع تھی جس کی وہ مالک نہ تھی اور ثمن مشتری سے لے کر اپنے تصرف میں لائی اس صورت میں جبکہ ادائے مہر کے لئے بیع کو ناجائز ٹھہرا کر جائداد مشتری سے نکال لی جائےقطعا مشتری زرثمن کی واپسی کا استحقاق رکھتا ہے وجہ کیا ہے کہ مبیع بھی اس سے لے لیں اور ثمن اداکروہ بھی واپس نہ دین پس جو کچھ روپیہ مہر نیاز بی بی سے حاصل ہوا یا اب ہو اس میں سے اول ساڑھے چار سو مشتری کو دئیے جائے جو بچے وارثان نیاز بی بی تقسیم کرلیں ۔
فی الخانیہ وغیرہا اشتری شیئا فاستحسن من یدہ رجع المشتری علی البائع بالثمن ۱؎ اھ ملتقطا۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
خانیہ میں ہے کہ کسی نے کوئی شے خریدی پھر اس کے قبضہ میں اس شیئ میں استحقاق ثابت ہوگیا (تو وہ اس کے قبضہ سے نکل گئی) تو مشتری بائع سے ثمن واپس لے گا اھ التقاط۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب البیع فصل فی الاستحقاق مطبع نولکشور لکنھو ۲ /۳۷۸)
مسئلہ ۲۲۱: از شہر کہنہ مرسلہ سید فرحت علی صاحب ۱۰ رمضان المبارک ۱۳۲۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص فوت ہوا اس نے ایک زوجہ اور تین پسر نابالغ اور ایک دختر نابالغہ چھوڑ ی تھی منجملہ ان ورثاء کے زوجہ اور دختر نے کل مکان متوفی اپنا قائم کرکے فروخت کردیا، اب پسران اپنے حصہ شرعی کے واپسی کےخواستگار ہیں اس اثناء میں مشتری نے کچھ مکان میں جدید تعمیر کیا اگر حصص پسران عدالت سے قابل واپسی قرارپائیں تو صڑرفہ تعمیر ومرمت جدید مذکورہ ازروئے شرع ادا کرنے کے سزاوار ہیں جبکہ پسران استطاعت ادائے صرفہ نہیں رکھتے ہیں یا مشتری مستوجب اس امر کا ہے کہ وہ اپنی عمارت جدید توڑلے جائے۔
الجوب اگر ثابت ہوکہ شرعا مدعیوں کا بھی بیع میں حصہ ہے تو بعد ثبوت حکم تقسیم کردیں گے اگر وہ جدید تعمیر جو مشتری نے کی خود مشتری کے حصہ میں پڑے فبہا ورنہ مدعیوں کو جائز ہوگا کہ مشتری سے کہیں اپنی تعمیر جدید ہماری زمین سے توڑ کر لے جا اور وہ کوئی خرچ عمارت ومرمت ان مدعیوں سے لینے کا مستحق نہ ہوگا اور رضامندی باہمی سے یہ بھی جائز ہوگا کہ مشتری مدعیوں سے عمارت جدید کے دام لے کر عمارت انہیں چھوڑدے واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۲۲۲: مرسلہ شاہزادہ میاں از ریاست رامپور مسئولہ علی بہادر خاں صاحب ۱۶ ذی الحجہ ۱۳۳۱ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکرنے زید کے ہاتھ ایک زمین معافی کی دو نمبروں پر مشتمل بایں الفاظ بیع کی کہ ''موازی(۱۷ للعہ) پختہ اراضی نمبری (۴۲۴ معہ ۵) ،(۴۳۵ معہ ۱۲)، بعوض چار سو روپے بدست زیدبیع شرعی کیا اگرکوئی سہیم وشریک پیدا ہو ضمان ذمہ بائع ہے مشتری سے تعلق نہیں فقط'' بکرنے زر ثمن تمام وکمال وصول کرلیا مبیعہ پر مشتری کو قبضہ کرادیا جب زید نے داخل خارج چاہاحاکم ریاست کو معلوم ہوا کہ بائع کی ملک واقع میں صرف (۳للعہ)تھی ۱۴ بسوۃ زائد پر اس نے دخل کیا ہے اور کاغذات تحصیل میں بھی اس کا اندراج بنام بکر ہوگیا ہے اور اس نے وہ مجموعہ (۱۷ للعہ)بیچ ڈالی جس میں ۱۴ بسوہ زمین سرکاری ہے لہذا حکم صادر ہواکہ جنتا قطعہ زمین اس نے بڑھالیا ہے اس کے نام سے خارج کرکے ضبط سرکارہوباقی (۳للعہ)کا داخل خارج بنام مشتری ہو چنانچہ حکم کا عملدرآمد ہوا اور اتنا ٹکڑا قبضہ مشتری سے نکال کر باقی کاداخل خارج اس کے نام ہوگیا اب مشتری اس چودہ بسوہ خارج شدہ کی رسدی قیمت بائع سے واپس لینا چاہتاہے شرعا اسے اس کا حق ہے یانہیں ؟ بینوا توجروا
الجواب: اگر بکر ایک زمین (۱۷للعہ) بتاکر زید کے ہاتھ بیچتا اور وہ زمین جتنی بیچی تھی زید کو تمام وکمال ملتی مگر پیمائش میں ۱۴ بسوہ خواہ بیگھوں کم آئی تو زید کو بکرسے ایک پائی واپس لینے کا اختیار نہ ہوتا۔
لان المساحۃ وصف فی الممسوح ولم تصر مقصودہ کان یقول کل ذراع بکذا فلم یقابلہا الثمن
کیونکہ پیمائش وصف ہے اس چیز میں جس کی پیمائش کی جاتی ہےاور وہ مساحت مقصود نہیں ہوتی جیسے یوں کہے کہ ہرگز انتےکا ہے تو اس کے مقابل ثمن نہیں ہوتے۔ (ت) بلکہ اس پر کم پر مشتری کی رضا ظاہر نہ ہوتی تو اسے یہ اختیار دیا جاتا کہ یا تو اس کو پوری قیمت پر قبول کر یا مبیع پھیر کر ثمن واپس لے لانہ فات علیہ وصف مرغوب فیہ فیتخیر (کیونکہ اس پر پسندیدہ وصف فوت ہوگیا ہے لہذا اس کو اختیار ملے گا۔ ت)