| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
مؤید دوم اس سے پہلے فتوائے مولوی لکھنؤی صاحب چھپ کر زیر نظر آچکا تھا، رسالہ میں اس پر بھی خوض تام کیا اور نظر انصاف نے وہی حکم صاف دیا، یہ دوسرا مؤید اقوی ہوا ایک ذکی طباع عالم کی دلیل خلاف آگے رکھ کر تنقیح کامل کی اور اس کی بے اثری ظاہر ہوئی۔
مؤید سوم مکہ معظمہ کے اجلہ علمائے کرام ومفتیان عظام نے کفل الفقیہ کو ملاحظہ فرمایا پڑھواکر سنا اس کی نقلیں لیں ا ور بحمداللہ سب نے یک زبان مدحیں کیں، جسے حضرت شیخ الائمہ والخطباء کبیر العلماء حضرت مولانا احمد ابوالخیر میرداد حنفی حضرت عالم العلماء مفتی سابق وقاضی حال علامہ مولٰنا شیخ صالح کمال حنفی، حضرت مولانا حافظ کتب الحرم فاضل سید اسمٰعیل خلیل حنفی، حضرت مولانا مفتی حنفیہ عبداللہ صدیق حفظہم اللہ تعالٰی، ان فاضل جلیل نے کہ اس وقت یہی جانب سلطانی سے افتائے مذہب حنفی کے عہدہ جلیلہ پر ممتاز تھے، کتب خانہ حرم محترم میں کفل الفقیہ رکھا دیکھ کر بطور خود مطالعہ فرمانا شروع کیا فقیر بھی حاضر تھا، مگر ان سے کوئی تعارف نہ تھا، نہ اس سے پہلے میں نے ان کونہ انہوں نے مجھ کو دیکھا، حضرت مولانا سید اسمعیل افندی اور ان کے بھائی سید مصطفی افندی وغیرہما بھی تشریف فرماتھے، حضرت مفتی حنفیہ نے رسالہ مطالعہ کرتے کرتے دفعۃً نہایت تعجب کے ساتھ اپنے زانوپر ہاتھ مارا اور فرمایا: این کان الشیخ جمال بن عبداﷲ بن عمر من ہذا البیان اولفظا ہذا معناہ۔ شیخ جمال ابن عبداللہ ابن عمر اس بیان تک کیوں نہ پہنچ سکے یا اس کے ہم معنی لفظ کہے۔ (ت)
حضرت مفتی اعظم مکہ معظمہ مولانا جمال بن عبداللہ بن عمر حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کہ سند حدیث وفقہ میں اس فقیر کے استاذ الاستاذ ہیں، اور اپنے زمانہ مبارک میں وہی مفتی حنفیہ تھے اس جناب رفیع سے نوٹ کے بارے میں استفتاء ہوا تھا حضرت ممدوح قدس سرہ نے علمائے ربانی کی جو شان ہے اس کے مطابق صرف اتنا تحریر فرما دیا کہ " العلم امانۃ فی اعناق العلماء واﷲ تعالٰی اعلم۔ علم علماء کی گردنوں میں امانت ہے واللہ تعالٰی اعلم یعنی کچھ جواب عطا نہ فرمایا، حنفیہ کے مفتی حال نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا کہ حضرت ممدوح قدس سرہ کا ذہن مبارک ان دلائل کو کیوں نہ پہنچا جو اس رسالہ کا مصنف لکھ رہا ہے، حضرت مولانا سید اسمعیل افندی نے تعریف فرمائی کہ مصنف رسالہ یہ موجود ہے حضرت مفتی حنفیہ نہایت کرم واکرام سے ملے اور بہت دیر تک بفضلہ تعالٰی علمی تذکروں کی مجلس گرم رہی، ان تمام حضرات علماء کے مدائح وقبول کیسے مؤید جلیل ہوئے، والحمد للہ رب العلمین۔
مؤید چہارم اب کہ کفل الفقیہ دوباہ مع ترجمہ چھپا، مولوی گنگوہی صاحب کا فتوٰی نظر پڑا اس کی طرف توجہ کی اور ساتھ ہی چاہا کہ فتوائے جناب مولوی لکھنوی صاحب پر بھی مستقل نظر ہوجائے خیال تھا کہ مباحث تورسالے ہی میں تمام ہوچکے ہیں غایت درجہ چھ ورق بس ہوں گے، مگر فیض قدیر سے اضافہ مضامین کی لگاتار بارش ہوئی اور قلم روکتے روکتے چھ ورق کی جگہ تین جزء کا رسالہ ہوگیا جس نے دونوں کلام مخالف میں کوئی فقرہ لگانہ رکھا یہ بحمداللہ تعالٰی اور بھی قوی تر مؤید عظیم ہوا۔ رائیں ملنے سے علم پختگی پاتے ہیں اور اس کی دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ ذی رائے اثر ثابت ہوں یہ پہلی صورت سے بھی اقوی ہے کہ جب مخالفانہ کوششیں اثبات خلاف میں عرق ریزی کرکے ناکام رہیں واضح ہوجاتاہے کہ بحمداللہ تعالٰی مسئلہ حق ہے اور خلاف کی طرف راہ مسدود، بفضلہ تعالٰی اس مسئلہ نے دونوں قسم سے حظ وافی پایا بالجملہ جہاں تک نظر کی جاتی ہے ہے آسمان فیض مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے متواتر تائیدوں کا نزول ظاہر ہے وللہ الحمد، بایں ہمہ حاشا فقیر مجتہد ہے نہ ائمہ مجتہدین کے ادنٰی غلاموں کا پاسنگ ان کی خاک نعل کے برابر بھی منہ نہیں رکھتا۔ نہ معاذ اللہ شرع الہٰی میں اپنی عقل قاصر کے بھروسے پر کچھ بڑھاسکتا۔ اس فتوٰی اور ان دونوں رسالوں میں جو کچھ ہے جُہد المقل ہے یعنی ایک بےنوا محتاج کی اپنی طاقت بھر کوشش، اگر حق ہے تو محض میرے مولا پھر اس کے حبیب اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا کرم ہے اور اسی کے وجہ کریم کے لئے حمدا وراس کے فضل سے امید ہے کہ ان شاء اللہ الکریم ضرور حق ہے اس کے گھر کی برکات دلکشا اس کے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کرم جانفزا نے اپنے گدائے بیقدر پر یہ فیضان کئے ہیں ورنہ کہاں یہ عاجز اورکہاں ڈیڑھ دن سے کم میں یہ رسالہ تصنیف کردینا، پھر اس کے شہر کریم کے اکابر علمائے کرام نے اس درجہ پسند فرمایا یہ بفضلہٖ عزوجل سب آثارقبول ہیں اوراگر شاید یہاں علم الہٰی میں کوئی دقیقہ ایسا ہے جس تک نہ میری نظر پہنچی نہ ان علمائے کرام بلداللہ الحرام کی تو میں اپنے رب عزوجل کی طرف انابت کرتااور ہر مسئلہ میں اس پر اعتقاد رکھتا ہوں جو اس کے نزدیک حق ہے اور وہ کہتاہوں جو میرے امام اعظم حضور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:
فان یک صوابا فمن اﷲ تعالٰی وان یک خطأ فمنی ومن الشیطان واﷲ ورسولہ برئیان ۱؎۔
اگریہ درست ہے تو اللہ تعالٰی کی طرف سے اوراگر غلط ہے تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے، اللہ تعالٰی اوراس کا رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔ (ت)
(۱؎ سنن ابوداؤد کتاب النکاح باب فیمن تزوج آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۸۸)
واقول : کما قال ابونا اٰدم علی نبینا الکریم وعلیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم اللہم انک تعلم سری وعلانیتی فاقبل معذرتی وتعلم حاجتی فاعطنی سؤلی وتعلم مافی نفسی فاغفرلی ذنوبی وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ وبارک وسلم ابدا ابدا واٰخردعوٰنا ان الحمدﷲ رب العلمین سبحنک اللہم وبحمدک اشہدان لاالہ الا انت استغفرک واتوب الیک قال الفقیر احمد رضا القادری البرکاتی البریلوی غفراﷲ تعالٰی لہ وحقق املہ واصلح عملہ والحمدﷲ والصلوٰۃ والسلام علی مصطفاہ اٰخرکل کلام واولہ اٰمین۔
اور میں کہتاہوں جیسے ہمارے باپ آدم نے کہا(اللہ تعالٰی ہمارے نبی کریم اور حضرت آدم پر بہترین درودوسلام نازل فرمائے) اے اللہ! تو میرے ظاہر وباطن کو جانتاہے پس میری معذرت قبول فرما، اور تومیری حاجت کو جانتاہے پس میری مراد مجھے عطا فرما، اور تو اس کو جانتاہے جومیرے دل میں ہے پس میرے گناہ معاف فرما۔ اور اللہ تعالٰی ہمارے سردار اورآقا محمد مصطفی، آپ کی آل، اصحاب، اولاد اور جماعت پر ہمیشہ ہمیشہ درود، برکت اورسلام نازل فرمائے، اورہماری دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے تو پاک ہے اے اللہ !اور تیری حمد کے ساتھ میں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور تیری طرف رجوع کرتاہوں یہ بات فقیر احمد رضا قادری برکاتی بریلوی نے کہی، اللہ تعالٰی اس کی مغفرت فرمائے اور اس کی امید کو پورا فرمائے اور اس کے عمل کو درست رکھے، اور تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں اور درود وسلام ہو اس کے منتخب نبی، (محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) پر ہر کلام کے اول وآخر میں، آمین۔ (ت)