| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
خیر یہ تو غیر مقلدی کے لئے لازم بین ہے "مگر بر اعتماد ایشاں" نے ان کے اجتہا د کی پوری قیامت توڑدی اے سبحان اللہ ! مجتہدی کا دعوی اور ایک ادنی سے ادنی مقلد پر حلال وحرام میں یہ تکیہ بھروسا ، اور اس کردہ شد کے لطف کو تو دیکھئے کیا شرمایا ہوا صیغہ مجھول ہے گویا انھوں نے خود اس پر مہر نہ کی کوئی اور کرگیا ، اللہ یوں اپنی نشانیاں دکھاتا اور ائمہ کے مقابلہ کا مزہ چکھا تا ہے نسأل اللہ العفو و العافیۃ(ہم اللہ تعالی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔ت )
قولہ باقی رہا فتح القدیر کا
لوباع کاغذۃ بالف یجوز۳؎ انتھی
( اگر کسی نے ایک کاغذ ہزار درہم پر بیچا تو جائز ہے انتھی ۔ت)
(۳؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸)
اقول : انتھی نہیں اس کے بعد ولا یکرہ ۴(اور مکروہ نہیں ہے۔ت) بھی ہے اور خود میرا فتوی آپ کے پیش نظر ہے اس میں بھی منقول یعنی "کاغذ کا ایک پرچہ ہزار روپے کو بیچنا ایسا جائز ہے جس میں اصلا کراہت بھی نہیں" اسے پردہ انتھی میں نہ چھپائیے یہ بہت کام کی چیز ہے آپ کو یہ "لایکرہ" مکروہ لگتا ہے تو محققی کی شان یہ تھی کہ اسے نقل کرکے رد فرماتے،آخر امام ابن ہمام اور ان کے ساتھ کے علمائے کرام جنھوں نے اس لایکرہ کی تصریح فرمائی امام الائمہ امام اعظم سے تو اعظم نہ تھے یہ نہ ہوسکا تھا اور اس کا نقل کرنا ناگوار تھا تو الی آخرہ لکھ دیا ہوتا یہ بھی نہ سہی "یجوز" تک لکھ کے یونہی چھوڑدیا ہوتا کہ اخفائے ظاہر کا الزام تو نہ آتا انتھی نے تو موضع تہمت میں غلط بیانی کی ، یہ جناب کی شان سے بعید واقع ہوئی۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴)
قولہ پس مراد اس کی یہ کاغذ نہیں کہ عین ثمنی خلقی سمجھاگیا کیونکہ اس کا وجود ان زمانوں میں نہ تھا بلکہ سادہ کاغذ ۱؎ ۔
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸)
اقول: اولا عینیت تو بار ہا گھر تک پہنچا دی گئی اس کی آڑ تو چھوڑئیے اور اب فرمائیے کہ نوٹ اور اس پرچہ کاغذ میں وجہ فرق کیا ہے سادہ پرچہ تو ہزار روپے کو بک سکے مگر جس پر پانچ روپے کا لفظ و ہندسہ لکھ دیا وہ پانچ سے زیادہ کو بیچنا حرام ہوجائے بڑی منحوس گھڑی سے چھاپا تھا کہ چھپتے ہی نو سو پچانوےاڑ گئے۔ ثانیا عینیت کے جو قاہر رد ہوئے انھیں جانے دیجئے تو آپ خود اپنے تنزل اخیر میں اس سے یکسر گزرچکے ہیں مہربانی فرماکر اپنی اس اخیر تقدیر پر فرق کی تقریر سنادیجئے، جی ہاں سادہ کا غذ ہزار کو بیچنا جائزبتایا اورکیسا کاغذ ناجائز ہے ذرا بتائیے۔ ثالثا صاف انصاف تو یہ ہے کہ علماء نے مطلق کاغذ فرمایا ہے جو سادہ اور لکھے قلمی اور چھپے نوٹ اور غیر نوٹ سب کو شامل ہے یہ سادگی تو آپ کی زیادت ہے اور مطلق کا کوئی مقید نیا پیدا ہوتو صرف اس بنا پر اسے حکم مطلق سے اخراج سراسر خلاف فقاہت ہے ، ہزارہا حوادث نئے پیدا ہوتے جاتے ہیں ، اور تا قیامت ہوتے رہیں گے، ان کے احکام اطلاقاتِ ائمہ کرام سے لئے جاتے ہیں ، اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ چیزیں اس زمانے میں کب تھیں لہذا یہ ان کی مراد وزیرحکم نہیں۔ رابعا سنئے تو جناب نے اس جرم پر کہ وہ کاغذ دو پیسہ کا بھی نہیں بیچارے نوٹ کو قصد بیع کے قابل نہ سمجھا بلکہ خود سوروپے بیچنا مقصود بتایا تھا، اب یہ سادہ پرچہ کہ دھیلے چھدام کا بھی نہیں یہ کیسے ہزار روپے کو بکنے لگا یہاں کو ن سے روپے لائیےگا جن کا بیچنا مقصود بنائیے گا ، ایک محقق عالم کولکھتے وقت خود اپنے آگے پیچھے کا خیال تو رہے، نہ یہ کہ ایک ہی صفحہ میں نسی ماقدمت یداہ (بھول گیا وہ جو اسی کے ہاتھوں نے مقدم کیا۔ت) خامسا جناب نے یہ بھی ملاحظہ کیا کہ امام ابن الہمام نے یہ یجوز ولایکرہ ۱؎ بلاکراہت جائز ہے کس بحث میں فرمایا ہے۔ بیع عینہ کی بحث میں، اب وہ بیع عینہ کی ممانعت کدھر گئی یہ تو پانچ ہی سطر میں "نسی ماقدمت یداہ" ہوگیا، کیا اسی دن کے لئے جناب نے "لایکرہ" چھوڑکر انتہی لکھ دی تھی اب تو کہہ دیجئے کہ سو کا نوٹ دو سو کو بیچنا ایسا جائز ہے جس میں کراہت بھی نہیں، آپ کی اسی انتہی پر انتہا کروں کہ رد واعتراض کا عدد بفضلہ تعالٰی ایک سو بیس تک تو پہنچ گیا وللہ الحمد۔
(۱؎ فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۳۲۴)
قولہ ھذا ماسنح لی ۲؎ (یہ وہ ہے جومجھ پر ظاہر ہوا۔ت)
(۲؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸)
اقول: ای من دون دلیل و مایلی لاخفی ولاجلی۔
میں کہتاہوں بغیر دلیل خفی اور دلیل جلی ہے۔ (ت)
قولہ واللہ اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب ۳؎
(اللہ تعالٰی درست بات کو خوب جانتاہے اور اس کے پاس ام الکتاب ہے۔ ت)
(۳؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸)
اقول: ھو المصوب سے یہاں تک فتوی بھرمیں ایک یہ جملہ حق وبجا ہے بیشک اللہ عزوجل اعلم بالصواب ہے اور اسی کے پاس ام الکتاب اور اسی ام الکتاب میں یہ پاک خطاب ہے جس سے بیع مذکور برضائے عاقدین کا جواز حجاب ہے،
الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم ۴؎۔ اللہم ربنا ارض عنا بکر مک و منک ورأفۃ حبیبک محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ووفقنا لتجارۃ لن تبور یاعزیز یا غفور اٰمین والحمد ﷲ رب العلمین وافضل الصلوٰۃ واکمل السلام علی سیدالمرسلین محمد و اٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین سبحنک اللہم وبحمدک اشہدان لا الہ الاانت استغفرک واتوب الیک سبحن ربک رب العزۃ عما یصفون و سلم علی المرسلین والحمد ﷲ رب العلمین۔
مگریہ کہ ہو وہ تجارت تمھاری باہمی رضامندی سے، اے اللہ ہمارے پروردگار! اپنے فضل واحسان کے صدقے سے اور اپنے محبوب محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مہربانی کے طفیل ہم سے راضی ہوجا اور ہمیں ایسی تجارت کی توفیق عطا فرما جس میں خسارہ نہ ہو اے عزت والے اے بخشنے والے! ہماری دعا قبول فرما، تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو تما م جہانوں کا پروردگار ہے، بہترین درود اور کامل ترین سلام ہو رسولوں کے سردار محمد مصطفی اور آپ کی تمام آل واصحاب پر اے اللہ ! ہماری دعا قبول فرما، تو پاک ہے اور ہم تیری ہی تعریف کرتے ہیں، میں گواہی دیتاہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے مغفرت طلب کرتاہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتاہوں، تیرا رب رب العزت پاک ہے ان اوصاف سے جو وہ لوگ بیان کرتے ہیں اور سلام ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگارہے۔(ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۴/ ۲۹)
الحمدللہ کلام اپنے منتہٰی کو پہنچا اور تحقیق مسئلہ ذروہ اعلٰی کو تیس سال ہوئے کہ اس کا سوال فقیر سے ہوا اور مسئلہ بالکل حادث تازہ اوراپنی بے بضاعتی کا خوف واندیشہ لہذا آغاز جواب ان لفظوں سے کیا، ظاہر ہے کہ نوٹ ایک ایسی حادث چیزہے جسے پیدا ہوئے بہت قلیل زمانہ گزرا فقہائے مصنفین کے وقت میں اس کا وجود اصلا نہ تھا کہ ان کے کلام میں اس کا جزئیہ بالتصریح پایا جائے مگر اس وقت جہاں تک خیال کیا جاتا ہے نظر فقہی میں صورت مسئولہ کا جواز ہی معلوم ہوتاہے، اور عدم جواز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی اور انتہا ان لفظوں پرکہ ھذاما ظہر لی واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم (یہ وہ ہے جو میرے لئے ظاہر ہوا اور اللہ سبحانہ وتعالٰی بہتر جانتاہے۔ ت) پھر بفضل رب قدیر عزجلالہ برابر اس کے مؤیدات ظاہر ہوتے رہے:
مؤید اول محرم ۱۳۲۴ھ میں مکہ معظمہ کے دو علمائے کرام مولانا عبداللہ احمد میرداد امام مسجد الحرام اور ان کے استاذ مولانا حامد احمد محمد جداوی دوامابالاکرام نے نوٹ کے متعلق جملہ مسائل فقہیہ کا سوال اس فقیر سے کیا جس کے جواب میں بفضل وہاب عزجلالہ ڈیڑھ دن سے کم میں رسالہ کفل الفقیہ وہیں لکھ دیا، پہلا فتاوٰی ایک خفیف ساعت کی نظر تھا یہ رسالہ بفضلہ تعالٰی پہروں کا خوض کامل جہاں تک غور کیا وہی رنگ کھلتا گیا اور کوئی شک سد راہ نہ ہوا، یہ نظر اولین کا پہلا مؤید تھا۔