| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
اقول: بجا ہے پھر ایک اشرفی کو ایک روپیہ کیسے حلال ہوگیا وہ تو نہ صرف مقاصد بلکہ اصل حقیقت میں ثمن خلقی ہیں اور مقاصد میں بھی پندرہ روپے اور ایک پونڈ میں کچھ فرق نہیں سمجھا جاتا۔ ثالثا حل کروں آپ مقاصد شرعیہ واغراض انسانیہ میں فرق نہ سمجھے، مقاصد شرع وہ ہیں جن پر صحت وفساد حلت وحرمت کا مدار ہے اور اغراض انسانیہ وہ نتائج کہ انکے نزدیک انہیں حاصل ہوں مقاصد باختلاف عقود مختلف ہوجاتے ہیں اور نتائج بارہا عقود متباینہ میں متحد رہتے ہیں مثلا زید اپنا نصف مکان قابل قسمت بلاتقسیم اپنے شریک مساوی کو ہبہ کرکے اپنا قبضہ اٹھائے کہ سارا مکان قبض وتصرف شریک میں رہے یا اس کے ہاتھ بیچ کر ثمن اس کو معاف کردے دونوں صورتوں میں نتیجہ واحد ہے انسانی غرض ان میں فرق نہیں کرتی مگر مقصد شرعی کا اختلاف شدید ہے کہ پہلی صورت فاسد وحرام اور دوسری صحیح وحلال، یونہی اگر کوئی شخص دس کے پندرہ لینا چاہے اب دس روپوں کو خواہ پندرہ روپوں کے عوض بیچے خواہ ایک ساورن کے بدلے، اس کی غرض دونوں طرح بلاتفاوت حاصل ہے مگر مقاصد شرعیہ اتنے مختلف ہیں کہ صورت اولٰی سود، ربا، گناہ کبیرہ، حرام قطعی موجب دخول نار، اور دوسری شکل درست، صحیح، حلال، روا، بے اعتراض، بلا انکار، نوٹ سے اگر اغراض انسانیہ ثمن خلقی کی طرح بلاتفاوت متعلق ہوں تو اس سے احکام ومقاصد شرعیہ میں اتحاد سمجھ لینا کیسی سخت نادانی ہے، احسان تو نہ مانئے گا کہ کیسے کیسے جواہر زواہر میرا قلم جناب کے قلب پر القاء کرتاہے انصاف کیجئے تو ایک ہی نکتہ آپ کی ساری عرق ریزی کا علاج کافی ووافی ہے للہ الحمد۔ رابعا ایک ذرا اور بھی انصاف کی سہی آپ تو کمال مقاصد شناسی دیانت پرور ہیں۔ اسی جلد دوم کے فتوٰی نمبری ۹۷ میں جو بایں خلاصہ تحریر ہے''خرید کرنا مال کفا رسے بایں طور کہ نقد روپیہ ادا کرے تو پوری قیمت معینہ دے اور بعد ایک یادو یا تین مہینے کے ادا کرے تو فی سیکڑا تین روپے فی ماہ زیادہ اس قیمت معینہ سے دینا ہوگا۔ یہ فی الحقیقت بیان ہے نرخ مال کا بھی نقد خریدے تو مثلا سو روپے قیمت دے اور بعد ایک یا دو ماہ یا سہ ماہ کے ادا کرے تو قیمت ایک سو تین یا چھ سو نودے پس یہ عقد حق خریدار میں جائز ہے اور زیادت ثمن کی فی سیکڑا تین روپے ہر ماہ میں اس میں بھی خریدار کو شرعا کوئی قباحت نہیں اور درمیان میعاد مذکورہ کے قیمت ادا کرے تو بائع کو اختیار ہے چاہے لے چاہے علی المیعاد لے، اس واسطے کہ رجوع اس کا جانب بائع سے طرف حط بعض قیمت کے اور جانب خریدار سے طرف حط اجل کے ہوگا اور ان دونوں میں شرعا کوئی قباحت نہیں، صح الجواب واللہ اعلم۔ حررہ محمد عبدالحی عفی عنہ ۱؎،
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۹۵۔ ۳۹۴)
ذرا فرمائے تو یہ تین روپے سیکڑا ہر مہینے پیچھے بڑھانے کا مقصد سوا سود کے کیا ہے خصوصا وہ بھی کفا رکی طرف سے جو بغیر سود کبھی ٹکڑا نہیں توڑتے اور سود کا لینا دینا دونوں قطعی حرام ہیں دونوں پر رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے اور فرمایا وہ سب برابرہیں اسے آپ نے کیا سمجھ کر حلال کردیا اور بلا دغدغہ صح الجواب جڑدیا، پھر ائمہ کرام کی صاف تصریح ہے کہ اگرچہ قرضوں بیچنے میں نقد سے قیمت زائد لینا جائز ہے "والاجل یقابلہ قسط من الثمن" مگر ایک بات قطع ہونا لازم، اس طور پر بیع کہ بحال نقد اتنے پر بیچی اور بصورت فلاں میعاد اتنے پر یہ حرام وفاسد ہے،
فتح القدیر میں ہے:
لابد ان یکون الاجل معلوما لان جہالتہ تفضی الی المنازعۃ فی التسلم والتسلیم وعلی کل ذٰلک انعقد الاجماع واماالبطلان فیما اذا قال بعتکہ بالف حالا وبالفین الی سنۃ فلجہالۃ الثمن ۲؎۔
میعاد کا معلوم ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کی جہالت لینے اور دینے میں جھگڑے کا سبب بنتی ہے اس تمام پر ائمہ کرام کا اجماع منعقد ہے، رہا اس صورت کا بطلان کہ کسی نے کہا میں یہ چیز تیرے ہاتھ نقد ایک ہزار کی اور ایک سال کے ادھار پر دو ہزار کی فروخت کی تو یہ جہالت ثمن کی وجہ سے (باطل) ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب البیوع مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۵ /۴۶۸۔ ۴۶۹)
پھر اس سے بھی قطع نظر ہو تو خود اجل میں تردید ہے یہ خود مفسد ہے اگر چہ نقد واجل کی تردید نہ ہواور صرف دو ہی شقیں مفسد ہیں یہاں تو تین ہیں کہ ایک مہینہ میں دے تو قیمت اور دو میں یہ اور تین میں یہ۔ فتاوٰی خلاصہ وفتاوٰی عالمگیری میں ہے: رجل باع علی انہ بالنقد بکذا و بالنسئیۃ بکذا اوالی شہر بکذا والی شہرین بکذا لم یجز ۱؎۔ ایک شخص نے کوئی چیز یوں بیچی کہ نقد اتنے کی اور ادھار اتنے کی، یا ایک ماہ کے ادھا ر پر اتنے کی اور دو ماہ کے ادھار پر اتنے کی، تو یہ بیع جائز نہ ہوئی (ت)
(۱؎ فتاوی ہندیہ کتاب البیوع الباب العاشر نورانی کتب خانہ پشاور ۳ /۱۳۶)
عجب کہ آپ نے حرام درحرام طرح طرح حرام کو کیسے حلال کردیا، پھر بین المیعاد ثمن قبول کرلینے کو بائع کی طرف سے بعض ثمن کا حط قراردینا کس قدر عجیب ہے کم میعاد پر اتناہی ثمن ٹھہرا تھا اس نے کم کیا کیا، پھر اگر مشتری تین مہینے کے اندر روپیہ دے تو بائع کو اختیار دینا کہ قبول نہ کر جب تک پوری میعاد گزر کر سود کا پیٹ پورا نہ بھر جائے سب سے عجیب تر ہے میعاد تو خالص حق مشتری ہے، کتب ائمہ میں تصریح ہے کہ مدیون میعاد سے پہلے دین ادا کرے تودائن کو جبرا قبول کرنا ہوگا،
اشباہ میں ہے:
الدین المؤجل اذا قضاہ قبل حلول الاجل یجبر الطالب علی تسلیمہ لان الاجل حق المدیون فلہ ان یسقطہ ھکذا ذکر الزیلعی فی الکفالۃ وھی ایضا فی الخانیۃ والنہایۃ ۲؎۔
اگر مقروض میعادی قرض کو میعاد پوری ہونے سے قبل ادا کرے تو قرض دہندہ کو اس کے وصول کرنے پر مجبور کیا جائے گا کیونکہ میعاد تو مقروض کا حق ہے اور اس کو اختیار ہے کہ وہ اس کو ساقط کردے، زیلعی نے باب الکفالہ میں یونہی ذکر کیا، اور یہ خانیہ اور نہایہ میں بھی ہے۔ (ت)
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثانی کتاب المداینات ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۳۸)
خیریہ چار تو جملہ معترضہ تھے، اب ذرا مقاصد شناسی کی خبریں کہئے، ایک مقلد عالم سے بھی ایسی لغزش ضرور تعجب خیز ہے مگروہ گرانمایہ اجتہاد پایہ محقق کہ امام اعظم کے ارشادات پرکھنے کا ادعارکھے، اس سے ایک اپنے معاصر مقلد کی ایسی جامد تقلید کیسا سخت نمونہ قیامت ہے، ولا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم (گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں سوائے اللہ تعالٰی کی توفیق کے۔ ت) اس کی نظر یہی ہوسکتی ہے کہ مولوی عالم علی صاحب مرادآبادی نے براہ خطاء صریح دودھ کے چچا کوبھتیجی حلال لکھ دی، خیر وہ تو لکھ گئے اب فتوی پہنچا دہلی، امام غیر مقلدان مولوی نذیر حسین صاحب نے بھی بے دھڑک الجواب صحیح لکھ کر اس پر مہر چپکا دی اور اپنے اہالی موالی سب کی لگوادیں ، فتوی یہاں آیا فقیر نے تحریم کا حکم دیا اور بعض طلبہ نےمجتہد صاحب کی مزاج پرسی کی ، اب غیر مقلدوں کے کل فی الکل کی آنکھیں کھلیں سونے سے جاگے ، مجتہد جی کو بخاری ومسلم کی حدیثیں سجھائے سے سوجھیں اور دوسرا فتوی حرمت پر لکھا اور پہلے فتوی کا یہ عذر بدتر ازگناہ پیش کیا کہ :00 قبل ازیں بر فتوائے مولوی عالم علی صاحب کی در حلت آں نوشتہ بودند بر اعتماد ایشاں بنظر سرسری مہر من کردہ باشد ۱؎ ۔ قبل ازیں مولوی محمد عالم صاحب جنھوں نے حلت لکھ دی تھی ان پر اعتماد کرتے ہوئے سرسری نظر سے مہرلگادی گئی۔ (ت)
(۱فتاوی نذیریہ )
حلال وحرام خصوصا معاملہ فروج میں نظر سرسری کا عذر اپنی کیسی صریح بد دیانتی اور آتش جہنم پر سخت جرأت و بیباکی کا کھلا اقرار ہے ، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں : اجرؤکم علی الفتیا اجرؤکم علی النار۲۔ تم میں سے جو فتوی میں زیادہ بیباک ہیں وہ جھنم کی آگ پر زیادہ بیباک ہیں(ت)
(۲ سنن الدارمی باب الفتیا وما فیہ من الشدۃ نشرالسنۃ ملتان ۱/ ۵۳)