فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
132 - 180
ہدایہ میں ہے :
من اشتری جاریۃ بالف درہم حالۃ اونسئۃ فقبضہا ثم باعہا من البائع بخمسمائۃ قبل ان ینقد الثمن الاول لایجوز البیع الثانی، لان الثمن لم یدخل فی ضمانہ فاذاوصل الیہ المبیع ووقعت المقاصۃ بقی لہ فضل خمس مائۃ وذٰلک بلاعوض ۱؎۔
جس شخص نے ہزار درہم نقد یا ادھار کے بدلے لونڈی خریدی اور اس پر قبضہ کرلیا پھر پہلے ثمن کی ادائیگی سے قبل وہی لونڈی پانچ سو درہم کے بدلے بائع کے ہاتھ فروخت کردی، تو دوسری بیع جائز نہ ہوگی کیونکہ ثمن ابھی تک بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوئے تو جب مبیع دوبارہ اس کے پاس پہنچ گیا اور پانچ سو درہم اس کے بدلے میں ہوگئے تو باقی پانچ سو درہم اس کے زائد بچ گئے اور وہ بلاعوض ہیں۔ (ت)
(۱الہدایہ کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۳ /۶۰)
فتح القدیر میں ہے :
الذی عقل من معنی النہی انہ استربح مالیس فی ضمانہ ونہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن ربح مالم یضمن وھذا لان الثمن لایدخل فی ضمانہ قبل القبض ۲؎۔
وہ جونہی کے معنی سے سمجھا گیا یہ ہے کہ اس نے اس چیز پر نفع لیا جو اس کی ضمان میں نہیں اور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس چیز پر نفع سے منع فرمایا جو اس کے ضمان میں نہ ہو اور یہ اس لئے ہے کہ قبضہ سے پہلے ثمن بائع کی ضمان میں داخل نہیں ہوتا۔ (ت)
(۲؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۷۱)
اسی میں ہے :
وھذا احسن من تقریر قاضی خاں اعتبارالشبہۃ بان الالف وھو الثمن الاول علی شرف السقوط لاحتمال ان یجد المشتری بہا عیبا فیردہ فیسقط الثمن عن المشتری وبالبیع الثانی یقع الامن عنہ فیکون البائع بالعقد الثانی مشتریا الفا بخمسمائۃ انتہی۱؎۔
یہ قاضی خاں کی اس تقریر سے بہترہے جو شبہ ربا کا اعتبار کرتے ہوئے انہوں نے کی بایں طور کہ ہزار درہم جو کہ ثمن اول تھا وہ ساقط ہوسکتا تھا اس احتمال کی بنا پر مشتری اس لونڈی میں کوئی عیب پاکر واپس کردیتا تو اس طرح مشتری سے ثمن ساقط ہوجاتا اور بیع ثانی کی وجہ سے سقوط کا خوف جاتا رہا تو اس طرح بائع عقد ثانی کے ساتھ پانچ درہم کے عوض ہزار کو خریدنے والا ہوا۔ انتہی۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب البیع الفاسد مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶/ ۷۳)
رابعا وجہ متحقق سے گزر کر دوسری ہی وجہ لیجئے اوریہاں اس کے عدم جریان سے بھی قطع نظر کیجئے جب بھی آپ کو مفید نہیں کہ اس وجہ پر علت حرمت شبہ ربا ہے آپ ربا وشبہ ربا سے اتر کر تیسری وجہ سے تحریم لے رہے ہیں تو جہاں شبہ ربا ہے اس سے اس پر استناد کیونکر کرسکتے ہیں۔
خامساً آپ ''اسی وجہ سے'' کہہ کر دونوں مسئلوں میں علت حکم ایک بتارہے ہیں تو واجب تھا کہ حکم بھی ایک ہوتا۔ کیا شراء ماباع با قل مما باع (کسی چیز کو اس سے کم پر خریدنا جتنے پر بیچا ہے۔ ت) بھی صرف دیانۃً حرام ہے قضاءً جائز، فافہم
سادساً آپ نے سنا ہو کہ یہ شراء باقل قیمت ادا ہونے کے بعد بلا شبہ جائز ہے مثلا ایک چیز زید نے عمرو کے ہاتھ ہزارو روپے کو بیچی عمرو نے روپے ادا کردئے پھر زید نے وہی چیز عمرو سے پانچسو کو خریدلی کہ چیز کی چیز واپس آگئی اور پانچ سو مفت بچ رہے یہ جائز وحلال ہے۔
درمختار میں ہے :
فسد شراء ماباع بالاقل قبل نقد الثمن وجاز بعد النقد ۲؎ اھ ملتقطا۔
اپنی ہی فروخت کی ہوئی چیز پہلے ثمن سے کم کے بدلے خریدنا ادائیگی ثمن سے پہلے ہو تو جائزنہیں اور اگر ادائیگی کے بعد ہو تو جائز ہے۔ اھ ملتقطا (ت)
(۲؎ درمختار کتاب البیوع باب البیع الفاسد مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶)
آپ کی وجہ پر قیمت ادا ہونے نہ ہونے سے کیا فرق ہوگیا کم روپے دے کر زیادہ حاصل کرنے کا مقصود بہر حال موجود، مولوی صاحب! مشکل یہ ہے کہ آپ اپنی تحقیق کے زور میں فقہ حنفی سے بیخبر ہیں ورنہ آپ جیسے محقق پر ایسی باتیں مخفی نہ رہتیں۔
قولہ اور احادیث اس باب میں بکثرت وارد ہیں جن سے حرمت ایسے حیل کی ثابت ہوتی ہے ۱۔
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنو ۱ /۳۹۸)
اقول: اولاً احادیث اس باب میں بکثرت وارد ہیں جن سے حلت ایسے حیل کی ثابت ہوتی ہے دو بلکہ تین حدیثیں رسالہ کے صفحہ ۱۹۵، ۱۹۶ میں گزریں اور ایک حدیث مؤطا یہاں مذکور ہوئی،
ثانیاً خود آیہ کریمہ جواز پر شاہد ہے کہ صفحہ ۱۸۹، ۱۹۰ پر تلاوت ہوئی،
فتاوٰی ذخیرہ، فتاوی ہندیہ میں ہے:
الاصل فی جواز ھذا النوع من الحیل قول اﷲ تعالٰی وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث وہذا تعلیم المخرج لایوب النبی علیہ وعلی نبینا الصلوٰۃ والسلام عن یمینہ التی حلف لیضربن امرأتہ مائۃ عود وعامۃ المشایخ علی ان حکمہا لیس بمنسوخ وھوالصحیح من المذھب ۲؎۔
اس طرح کے حیلے جائز ہونے کی اصل اللہ عزوجل کا یہ اراد ہے کہ اپنے ہاتھ میں ایک جھاڑو لے کر مارو اور قسم نہ توڑو، حضرت ایوب نبی اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو اپنی زوجہ مقدسہ کی نسبت قسم کھالی تھی کہ سو لکڑیاں ماریں گے یہ اللہ عزوجل نے اس قسم سے عہدہ برآئی کا طریقہ تعلیم فرمایا (کہ قسم بھی پوری ہوجائے اور ایذا بھی نہ پہنچے) اور مشایخ کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا حکم منسوخ نہیں اور یہی صحیح مذہب حنفی ہے۔
(۲فتاوٰی ہندیہ کتاب الحیل الفصل الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۳۹۰)
قولہ اگر یہ شبہ ہو کہ نوٹ ہر گاہ ثمن خلقی نہیں ہے پس حکم اس کا بعینہٖ کیونکر ہو سکتا ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ چونکہ عرفاً وہ عین ثمن خلقی سمجھا گیا اور تمام مقاصد ثمن خلقی کے اس کے ساتھ متعلق ہوئے لاجرم باب تفاضل میں اسی کا اعتبار ہوگا
لاسیما دیانۃ فانہا متعلقۃ بالمقاصد وان کانت خفیۃ ۳؎
(خصوصا دیانت کے اعتبار سے کیونکہ یہ مقاصد سے تعلق رکھتی ہے اگرچہ وہ (مقاصد) پوشیدہ ہوں۔ ت)
(۳؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۸)
اقول : اولا یہ ہرگاہ اور چونکہ سرگاہ میں گزرچکیں اگر پہلا بیان صحیح تھا تو یہ شبہ وہیں دفع ہوچکا، پھر ''اگریہ شبہہ ہو'' کا محل کیا اور غلط تھا تو اب تو وہی جواب دیا ہے اب کیوں صحیح ہوگیا بات وہی ہے کہ لے دے کر ایک یہی شبہہ آپ کے ہاتھ میں ہے باربار بتکرار اس کا اعادہ فرماتے ہیں کہ معنی تو سہی عبارت تو وزنی ہوجائے، ہاں یہاں تمام مقاصد کا لفظ زائد فرمایا ہے جس کا صاف ابطال اوپر گزرا اور کشف شبہہ بھی بروجہ اتم کردیا گیا اور یہ بھی سمجھا دیا گیا کہ بہت اچھا باب تفاضل میں اسی کا اعتبار کیجئے تو تفاضل فی القدر حرام مانئے اور خود اپنی ذات گرامی کو سو د حلال کرنے والی جانئے مگر جناب تو اپنی ایک دھن میں کسی کی سنتے ہیں نہیں
ثانیا ہاں ایک لاسیما یہاں اور بڑھائی ہے یعنی جب نوٹ سے تمام مقاصد ثمن متعلق ہیں اور دیانت میں نظر مقاصد ہی پر ہے اگرچہ خفی ہوں نہ صورت پر تو کاغذ اور چاندی کا فرق صورت سے نہ دیکھا جائیگا مقاصد میں دونوں ثمن خلقی ہیں اس پرنظر ہوگی اور حرمت لازم۔