| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
قولہ انما المحرم ان یقصد بالعقود الشرعیۃ غیر ماشر عہا اﷲ لہ فیصیر مخادعا لدینہ کائدالشرعہ ۳؎۔
قولہ بے شک حرام یہ ہے کہ عقود شرعیہ سے اس شے کا غیر مقصود ہونا جس کے لئے اﷲ تعالٰی نے ان عقود کو مشروع فرمایا کیونکہ ایسا کرنیوالا اسکے دین سے دھوکا اور اسکی شرع سے مکر کرنیوالا ہوگا۔(ت)
(۳؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸)
اقول: یہ بالکل ہمارے موافق ہے وہ حصر کرتا ہے کہ حیلہ وہی حرام ہے جس میں عقد شرعی سے اس کا مقصود شرعی مرا د نہ ہو، یہ وہی صورت ہوئی کہ بیچ میں بیع دراہم کا نام بلا قصد مبادلہ محض بطور اسم فرضی لے اس کی حرمت میں کیا کلام ہے، اور جب بیع سے حقیقۃً مبادلہ ملک کا قصد کیا تو یہی مقصود شرعی ہے جس کےلئے شرع نے اسے مشروع فرمایا تو جب آپ کی اسی سندکی رو سے اس کی حرمت ناممکن۔ پھر نوٹ میں تو اس کو کچھ دخل ہی نہیں، نوٹ بیچنے خریدنے والے یقینا یہی چاہتے ہیں کہ بائع کی ملک سے نوٹ خارج ہوکر مشتری کی ملک میں آئے اور مشتری کی ملک سے روپے خارج ہوکر بائع کی ملک میں آئیں، شرع نے بیع اسی لئے مشروع کی ہے تو اسی عبارت کے حکم سے اسکی حلت واجب۔ اگرکہئے مراد یہ ہے کہ اس نے تھوڑے روپوں کے بدلے زیادہ لینے چاہے، مگر روپےدے کر زیادہ روپے لیتا تو سود ہوتا اسی لئے نوٹ بیچ کر روپے لئے کہ جنس بدل جانے سے رباجاتا رہے۔ اقول: تو کیا گناہ کیا، اس نے گناہ سے بچنا ہی تو چاہا، گناہ سے بچنے کی تدبیر بھی گناہ ہو تو مفر کدھر، شرع نے بیع اس لئے مشروع فرمائی ہے کہ منہیات شرعیہ سے بچ کر اپنا مطلب جائز طریقہ سے حاصل کرلو، وہی اس نے چاہا تو مقصد شرعی کی نہ کہ مخالفت، پھر حرمت کدھر سے آئی۔
قولہ فان مقصودہ حصول الذی حرم اﷲ بتلک الحیلۃ او اسقاط مااوجبہ ۱؎انتہی۔
قولہ کیونکہ اس حیلہ سے اس کا مقصد اس چیز کو حاصل کرنا ہے جس کو اﷲ تعالٰی نے حرام کیا یا اس چیز کو ساقط کرنا ہے جس کو اﷲ تعالٰی نے واجب کیا، انتہی۔(ت)
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸)
اقول : اولاً حرام مراد لازم المحرمۃ ہے جس سے حرمت کبھی جدا نہ ہو یا وہ جسے حرمت عارض منفک ہے، بر تقدیر اول اسی لازم المحرمۃ کو اختیار کرے گا یا اس سے کسی امر جائز کی طرف عدول و فرار پہلے صورت پر حیلہ ہی کب ہوا، صراحۃً حرام میں پڑنا ہوا، پھرا س سے تحریم حیلہ کیوں لازم آئی، اور دوسری صورت میں شاید حرمت اس وجہ سے ہوگی کہ حرام سے کیوں بچا جائز کی طرف کیوں عدول کیا۔ بر تقدیرثانی شکل کو وہ اختیار کرتا ہے جس میں وہ عارض منفک منفک ہوجائے اور شے حلال محض رہ جائے یا وہ کہ عارض حرمت باقی رہے، صورت ثانیہ پھر حیلہ نہیں اور اولٰی پر حرمت کی کوئی وجہ نہیں۔ ثانیاً دور کیوں جائیے خود اپنی سنئے، شراب حرام قطعی اور پیشاب کی طرح نجس بہ نجاست غلیظہ ہے مسلمان کو اس کا بیچناحرام، چھونا حرام، اس سے کسی طرح کا نفع لینا حرام، اب فرض کیجئے کہ ایک مسلمان کی ملک میں ہزار مٹکے شراب آئی مثلاً یوں کہ اول نصرانی تھا اب مسلمان ہوگیا وہ نہیں چاہتا کہ اتنا مال کثیر ضائع ہوجائے، اس نے نمک ڈال کر سب کو سرکہ کرلیا، آپ خود فرماتے ہیں کہ جائز و روا ہے اپنے رسالہ نفع المفتی میں دیکھئے: الانتفاع بالمحرم لایجوز کذا قال البرجندی فان قلت یشکل ھذابالسرقین فانہ ینتفع بھا(عہ: الاصوب بہ ۱۲) فی الایقاد قلت الانتفاع بالجنس بالاستھلاک جائز کا راقہ الخمر و تخلیل الخمر وھذا کذٰلک فیجوز ۱؎اھ باختصار۔ حرام سے نفع حاصل کرنا جائزنہیں، یونہی برجندی میں کہا ہے اگر توکہے اس پر گوبر کے سبب سے اشکال وارد ہوتا ہے کیونکہ اس سے جلانے میں نفع حاصل کیا جاتا ہے تو میں کہوں گا کہ نجس سے نفع حاصل کرنا نجس کو ہلاک کرکے جائز ہے جیسے شراب کو بہا دینا اور شراب کو سرکہ بنانا اور یہ انہیں صورتو ں جیسی ہے لہٰذا یہ جائز ہے اھ اختصار۔(ت)
(۱؎ نفع المفتی والسائل مایتعلق بالانتفاع بالاشیاء النجسۃ الخ مطبع مجتبائی دہلی ص۱۳۶)
دیکھئے اس نے یہاں حرام خد اکو کام ہی میں لانا چاہا مگریوں کہ حرام نہ رہا پھر اس میں کیا حرج ہوا۔ قولہ پس اگر نوٹ میں تفاضل قضاءً جائز بھی ہو لیکن دیانۃً فیما بینہ وبین اﷲ کسی طرح سے درست نہ ہوگا۲؎۔
(۲؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸)
اقول: عجب کہ جو کاغذ کو کاغذ ہی جانے اور بوجہ عرف ثمن اصطلاحی مانے اور شرع مطہر سے یقینا معلوم ہوا کہ اصطلاح عامہ کی پابندی اس پر لازم نہیں وہ سو کے نوٹ کو روپوں سے کم وبیش پر بیچے تو عند اﷲ کسی طرح درست نہ ہو، اور جو اپنے زعم میں کاغذ کو ثمن خلقی کا عین مانے اور اسے بعینہ چاندی سمجھے وہ یہ ماشہ دو ماشہ بھر چاندی سیر پکی چاندی کو بیچے اور سود نہ ہو حلال طیب رہے، اس زبردستی کی کوئی حد ہے، خیر یہ تو پہلے معروض ہوچکا مگر یہاں یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ اب مولوی صاحب ربا و شبہہ رباسے قطعی گزرگئے، ''علاوہ ازیں'' کہہ کر تو ان کے لحاظ ہی سے گزرے تھے اب یہ صورت لیتے ہیں کہ کوئی ایسا وصف ہے ہی نہیں جس میں ربا یا شبہہ ربا ہو ورنہ قضاءً جائز ہونا محال تھا اور اس سے ظاہر کہ حکم عینیت کا تسمہ لگانہ رکھا ورنہ ربایا شبہہ ربا ہوکر دیانۃً، قضاءً ہر طرح حرام ہونالازم تھا تو عینیت عرفیہ کا اگر نام لیا بھی جائے محض اسم بے مسمی و لفظ بے معنی ہوگا کہ اس کا حکم واثر شرعی منتفی ہے اور جب ایسا ہے تو حقیقۃً و شرعاً غیریت محضہ رہی اب خود ہی حاصل اسی قدر ٹھہرا دیا کہ کم روپیوں کا مال برضائے خریدار زیادہ کو بیچ لیا، کہئے اس میں کون سا خلاف دیانت ہے۔ قولہ اسی وجہ سے کتب فقہ میں بیع عینہ اور شراء باقل مماباع وغیرہ ذلک(کسی چیزکو اس سے کم پر خریدنا جتنے پر بیچاہے وغیرہ ذلک۔ت) کی ممانعت مذکور ہے۔۱؎
(۱؎مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸)
اقول :اولا الحمد اﷲ اب تو آپ کنارے پر آیا چاہتے ہیں، جی ہاں یہ بیع عینہ کے مثل ہے پھر بیع عینہ کوہمارے ائمہ کرام نے کیا ٹھہرایا ہے، کیا ممنوع، ناجائز، حرام، مکروہ تحریمی۔ حاشا ہرگز نہیں، یہ محض غلط و باطل ہے بلکہ جائز، حلال، روا، درست غایت درجہ ا س میں اختلاف ہواکہ خلاف اولٰی بھی ہے یا نہیں، ہمارے امام اعظم بلا کراہت مانتے ہیں،امام ابویوسف خود ثواب ومستحب جانتے ہیں،امام محمد احتیاط کیلئے صرف خلاف اولٰی ٹھہراتے، یہ تمام مباحث رسالہ میں صفحہ ۱۶۹،۱۷۰و۱۷۱و۱۷۳تا۱۷۶و۱۷۸و۱۷۹، ۱۸۰بلکہ ۱۶۴تا۱۶۶ میں گزرے، اب تو اپنے ہی اقرار پر قائم رہ کر بول اٹھئے کہ سو کا نوٹ دو سو کو بیچنا امام اعظم کے نزدیک جائز و مباح، امام ابویوسف کے نزدیک اجر وثواب، امام محمد کے نزدیک صرف خلاف اولٰی۔
ثانیاً وہ خلاف اولٰی بھی اس لئے تھا کہ اس وقت تک مسلمان سود کو سوئر سمجھتے تھے اس کے سایہ سے بھاگتے تھے تو اس امر کی جائز عادت ڈالنے سے اندیشہ تھا کہ مباد ا آگے بڑھ جائیں جیسا کہ اس کا بیان صفحہ ۱۷۹و۱۷۰، ۱۷۱ وغیرہما پر گزرا، اب کہ علانیہ سود مسلمانوں میں رائج ہوگیا جیتا نگلتے ہیں اور شرمانا درکنار آنکھ تک نہیں جھپکاتے، تو انہیں ایک جائز بات بتانا جس سے ان کا مقصود حاصل ہو او راﷲ واحد قہار کے عذاب سے بچیں عین خیر خواہی مسلمین ہے اور اس میں ناحق کے شاخسانے نکالنا مسلمانوں کی صریح بدخواہی ، ذرا انصاف درکار ہے کہ خود آپ کے اقرار سے صبح آشکار ہے، والحمد ﷲ رب العٰلمین۔
ثالثاً شراء ماباع باقل مما باع عندالتحقیق ربح ما لم یضمن (کسی چیز کو اس سے کم پر خریدنا جتنے پر بیچا ہے تحقیق کی رو سے اس لئے حرام ہے کہ اس میں اس چیز پر نفع لینا ہے جس کا ضامن نہیں بنا۔ت) کے سبب حرام ہے یعنی جو چیز اپنی ضمان میں نہ آئی اس پر نفع لینا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، ظاہرہے کہ قیمت جب تک ادا نہ ہوئی خود بائع کی ضمان پر باقی ہے ہلاک ہوجائے تو اس کی جائے مشتری پر اس کا اثر نہ ہو، ولہٰذا یہاں درہم و دینار ایک جنس ہیں کما فی الدر وغیرہ (جیسا کہ در وغیرہ میں ہے۔ت) حالانکہ باب ربا میں دو جنس ہیں کما فی جمیع الکتب (جیسا کہ تمام کتابوں میں ہے۔ت) ہاں ثمن اول وثانی ایک ہی جنس ہو تو شبہہ ربا بھی ہے بعض نے اسی سے مسئلہ کی تعلیل کی، یوں کہ اس نے ہزار کو بیچی اور ابھی قیمت وصول نہ ہوئی ممکن تھا کہ عیب کے سبب واپس ہوکر ثمن نہ ملے اب کہ خود اس نے پانچ سو کو خرید لی، احتمال سقوط ساقط ہوگیا تو اس نے پانچ سو دے کر اپنے وہ ہزار پکے کرلئے یوں شبہہ ربا آیا بہرحال ان وجوہ کو یہاں سے کیا علاقہ آپ خواہی نخواہی اسی وجہ سے کہہ رہے ہیں،