| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ ) |
جناب من ! اسی کا نام تو حیلہ شرعیہ ہے پھر اس سے حکم حلت نہ ہو سکنا کیا معنی، کیا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وہ بات بتارہے ہیں جس سے حلت نہ حاصل ہو حرام کا حرام رہے، والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ ثامنا اس کے متصل امام محمد رضی اﷲتعالٰی عنہ نے ابو سعید خدری و ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی وہ حدیث۱؎روایت فرمائی جو رسالہ کے ص۱۹۵و۱۹۶ پر گزری اس میں بھی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہی حیلہ تعلیم فرمایا ہے جس پر آپ نے خود حاشیہ لکھا کہ :
اشارالیہ بما یجتنب عن الربا مع حصول المقصود۲؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے انہیں ایسی بات کا اشارہ فرمایا جس میں ربا سے بچ جائے اور مطلب ہاتھ آئے۔
(۱؎ الموطاللامام محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴) (۲؎ التعلیق الممجد علی موطال محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴)
سیدنا امام محمد نے یہ حدیثیں روایت کرکے فرمایا :
بھذاکلہ ناخذ وھو قول ابی حنیفۃ و العامۃ من فقہائنا۳؎۔
یہ سب باتیں ہماری مختار ہیں اور یہی قول امام اعظم ابوحنیفہ اور ہمارے سب فقہاء کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کا ہے۔
(۳؎ الموطا للامام محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴)
رہا حاشیہ میں آپ کا فرمانا کہ حنفیہ وغیرہم نے اس سے جواز حیلہ پر استدلال کیا اور حق یہ کہ ایسی جگہ اعتبار نیت کا ہے۴؎۔
(۴؎ التعلیق الممجد علی موطا محمد باب الربوٰ فیما یکال ویوزن نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۴)
اقول: اولا یہاں کی کیا تخصیص ہے سبھی جگہ اعتبار نیت کا ہے بایں معنی کہ بدنیت فاسد ارادے سے جو کام کیاجائےگا ممنوع ہوگا، حیلہ تو حیلہ اگر بدنیت سے نماز پڑھئے تو وہ بھی حرام ہو ؎
کلید دردوزخ ست آں نماز کہ در چشم مردم گزاری دراز
( وہ نماز دوزخ کی چابی ہے جس کو تو لوگوں کے دکھلاوے کیلئے لمبا کرکے پڑھے)
ثانیاً رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تعلیم فرمارہے ہیں جس کا خود آپ نے اقرار کیا، تمام ائمہ مذہب اس پر عمل فرمارہے ہیں جس کا امام محمد نے اظہار کیا، اب یہ آپ کی ''والحق'' اگر اس کے موافق ہے چشم ماروشن دل ماشاد ( ہماری آنکھیں روشن اور ہمارا دل خوش ہے۔ت) اور اگر رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد اور ائمہ مذہب کے اتفاق کے خلاف کچھ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی الگ چننی چاہتے ہیں جیسا کہ ظاہر عبارت ہے تو وہ آپ ہی کو مبارک رہے اہل حق کے نزدیک بجوئے نیر زد'' ( ایک جو کے لائق بھی نہیں۔ت) ثالثا آپ نے کچھ کھولی نہیں کہ کیا نیت ہو تو حیلہ جائز ہے اور کیا ہو تو ناجائز، اگر یہ مقصود کہ بیچ میں مبادلہ دراہم صرف برائے نام ہو، نہ یہ قسم خرما دراہم سے بیچنی مقصود ہو نہ وہ قسم دراہم خریدنی، بلکہ منظور انہیں دو قسم کا باہم مبادلہ ہو اور ذکر دراہم بیع تلجیہ کے طور پر محض اسم فرضی تو یہ ضرور صحیح ہے، مگر امام اعظم وامام محمد وجملہ ائمہ مذہب نے معاذاﷲ اسے کب جائز کیا تھا، حضرت وہ توحیلہ شرعیہ کو جائز فرمارہے ہیں جس کی خود آپ کے اقرار سے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے تعلیم دی یہ ناپاک حرکت ''حیلہ شرعیہ ہی کب ہوئی'' بلکہ قصداً شرع کی مخالفت اور صورۃً عالم الغیب کو دھوکا دینا، پھر آپ نے جملہ ائمہ مذہب کے مقابل اپنی ''والحق'' کی الگ چنائی کا ہے پرچنی۔ اور اگر یہ مقصود کہ اگرچہ یہ قسم روپیوں سے بیچ کر وہ قسم روپیوں سے خریدنی مقصود ہو مگر اس فعل پر باعث وہی غرض ہو کہ یہ قسم ہماری ملک سے خارج ہو کر وہ قسم داخل ہوجائے اسے ناجائز کہتے ہو تو قصور معاف، یہ معاذاﷲ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اصلاح دینی ہے ابوحنیفہ وغیرہ ائمہ تو درکنار رہے، ظاہر ہے کہ اسی غرض کی تحصیل کےلئے رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے یہ طریقہ تعلیم فرمایا، خود حدیث صحیح مسلم و صحیح بخاری سے صفحہ ۱۹۵و۱۹۶پر گزرا کہ جب تو مول لینا چاہے تو یوں کر۔ حدیث کی نہ سنئے اپنی ہی، دونوں جگہ لفظ دیکھئے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے وہ صورت سکھادی جس میں ربا سے بچ جائے اور مقصود حاصل ہوجائے، کہئے تو وہ کیا مقصود تھاجس کا حاصل کرنا رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا، اس کے بعد جو آپ نے امام اعظم و امام محمد وائمہ مذہب کے رد میں ابن قیم گمراہ کی ایک نقل اس کے استاذ ابن تیمیہ بد مذہب سے ذکر کی ہے اس کا ایک ایک حرف حرف ہذیان یا مجنون کی بڑ ہے، آپ خود اس کے بعد اتنا لکھ گئے کہ یہاں طویل بحثیں ہیں کہ مبسوط کتابوں میں ملیں گی ۱؎جس سے آپ کو کہنے کی گنجائش رہی کہ میں نے اس نقل کو مقبول نہ رکھا لہٰذا ہم بھی اس کے رد سے تطویل نہ کریں کہ یہاں تو غرض آپ سے مکالمہ ہے۔
(۱؎ التعلیق الممجد علٰی مؤطا اما م محمد باب الربوٰ فیما یکال ویؤزن نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۵۷)
تاسعاً جانے دیجئے گول ہی رہیں اور نیت کا پردہ نہ کھولیں اتنا تو آپ کے بیان سے بھی ثابت ہوا کہ حیہ نیک نیت سے حلال ہے، جناب من ! پھر یہاں یہ مطلق جبروتی حکم کیسا کہ ایسے ارتکاب حیلہ سے حکم حلت نہیں ہوسکتا۱؎۔ قولہ تہذیب الایمان میں ہے ۲؎۔
(۱؎ و ۲؎ مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱ /۳۹۸)
اقول: مولوی صاحب ! عجب ہے کہ آپ جیسا محقق جو اتنے اعلٰی پائے پر ہو کہ ائمہ مجتہدین کی جانچ پڑتال کرے ان کا حق وباطل نکالے وہ اور مسائل شرعیہ کے لئے سند لانے میں ایسا گرے کہ مجاہیل وبے قدر و بے وقعت زید و عمرو سب سے استناد کرے کہیں آپ مجالس الابرار سے سند لاتے ہیں کہیں رسالہ اسلمی سے ، اور اترکر اربعین میاں اسحٰق دہلوی سے، کہیں اور گھٹ کر ان کے کسی شاگرد کی عمدۃ التحریر سے، کہیں سب سے بدتر صراط مستقیم اسمٰعیل دہلوی سے، انہیں مجاہیل میں یہ آپ کی تہذیب الایمان ہوگی جس پر بعض اصحاب نے کہا کہ آج تک تہذیب المنطق، تہذیب الکلام، تہذیب الاخلاق،تہذیب الآثار، تہذیب النحو سنی تھی، معلوم نہیں ان بزرگ کو ایمان میں کیا بے تہذیبی سوجھی کہ اس کی تہذیب لکھی آپ استناد کرتے وقت جب ایسوں کی تقلید تک اترآتے ہیں تو مسئلہ نوٹ میں حضرت مولٰنا مولوی محمد ارشاد حسین صاحب رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا فتوٰی آپ کے سامنے تھا اوروہ آپ کے ان اکثر مستندین سے ہر طرح اعلٰی و اعلم و افضل واکمل تھےکاش اس میں ان کی تقلید فرمالیتے تو جھگڑا چکتا۔