بعوض کم روپیہ کے کہنا باطل ہے نوٹ والے کی طرف سے تو نوٹ ہے،روپیہ ایک بھی نہیں نہ کم نہ زائد۔ ہاں یوں کہے کہ کم روپیوں کا مال دے کر زیادہ روپے حاصل کرنا،۔ ہاں یہ بیشک مقصود ہے پھر اس میں کیا گناہ ہے دنیا بھر کی تجارتیں اسی لئے ہوتی ہیں آپ خود جلد ۳ میں بحرالرائق سے نقل کرچکے ہیں کہ مطلقاً زیادتی بالاجماع حرام نہیں، تمام جہاں میں بازار اسی لئے کھولے گئے ہیں کہ زیادتی ملے نفع حاصل ہو۔
ثانیا آپ کی ''علاوہ ازیں''کہہ رہی ہے کہ اب ربا وشبہہ ربا دونوں سے قطع نظر فرماکریہ تیسر ا پہلو لیا ہے کہ اگرچہ یہاں ربا سے کچھ علاقہ نہ ہو، ربا تو ربا اس کا شبہہ بھی نہ ہو، مگر اس نے زیادہ ملنے کا حیلہ کیا اس لئے ( زبردستی) حرام ہے، اب فرمائیے اگر زید عمرو سے سو روپے قرض مانگے عمرو کا غذ کا ایک سادہ پرچہ اس کے ہاتھ مثلاً سال بھر کے وعدہ پر یا نقد پچیس روپے کو بیچے وہ قبول کرلے پھر عمرو سو روپے زید کو قرض دے اور قرض کے بدلے سو ہی لے پچیس اپنے اس کاغذ کے جدا لازم کرے تو اس میں حرمت کدھر سے آئے گی آیا اس لئے کہ کاغذ کا سادہ پرچہ پچیس روپے کو بیچا، تو آپ تو ابھی فرمانے والے ہیں کہ سادہ پرچہ ہزار روپیہ کو بیچنا جائز ہے پچیس کو کیوں حرام ہوا، یا اس لئے کہ اس نے اس فعل سے نفع حاصل کرنا چاہا تو وہ صورت بتائیے کہ کاغذ کا ٹکڑا ہزارروپے کو بیچے اور نفع لینانہ ہو، یا اس لئے کہ قرض پر نفع لیتا ہے قرض میں تو وہ پورے سو کے سولے رہا ہے اس پر نفع کہاں، یا اسلئے کہ یہ نفع بسبب قرض ہے تو قرض تو اس وقت تک دیا بھی نہیں سبب کہاں سے متحقق ہوا، یا اس لئے کہ ان کے دل میں تو آئندہ قرض لینے دینے کی نیت ہے تو اس کا ثبوت شرع سے دیجئے کہ آئندہ سال قرض کا لین دین ہونے والا ہو تو آج بیع پر نفع لینا حرام ہوجائے وہ بیع کہ بلا شبہہ حلال تھی حکم تحریم پائے، حالانکہ یہاں تو آیندہ لین دین ہونا بھی معلوم نہیں آئندہ غیب ہے اور غیب مجہول او رانسانی ارادہ ممکن التخلف نکاح میں کہے کہ میں نے تجھے مہینہ بھر یا دس برس بلکہ سو برس کے لئے اپنے نکاح میں لیا تو ناجائز وحرام، اور اگر نکاح کرے اور ارادہ صرف مہینہ بھر یا ایک ہی دن رکھنے کا ہو تو بیشک حلال۔
ثالثاً صٖحفہ ۱۹۴ پر وہ تصریحات ائمہ کرام مثل امام شمس الائمہ حلوانی وامام شمس الائمہ زر نجری و امام بکر خواہر زادہ و بحرالرائق وردالمحتار وغیرہا یا د کیجئے کہ پہلے بیع کرکے پھر قرض کا لین دین کریں تو ہمارے ائمہ مذہب امام اعظم، امام ابویوسف اور امام محمدرضی اﷲتعالٰی عنہم سب کے نزدیک بالاتفاق بلا کراہت جائز وحلال ہےکہئے یہ کیوں حلال ہوا، ظاہر ہے کہ یہ معاملہ اس نے زیادہ لینے ہی کے لئے بطور حیلہ کیا۔
رابعا اپنی یاد کیجئے جلد دوم فتوٰی نمبری ۴۴ میں حکم تھا کہ گیہوں قرضوں نرخ بازار سے کم کو بیچنا جائز ہے، اس پر سائل نے شبہہ کیا تھا کہ یہاں ربا نہیں تو شبہہ تو ہے اور شبہہ بھی مثل حقیقت حرام۔ اس کا آپ نے جواب فرمایا کہ ''خدشہ ربا کا یوں مدفوع ہے کہ گندم وغیرہ اقسام غلہ بعوض دراہم و دنانیر کے فروخت کرنے میں ربا نہیں ہے اور نہ شبہہ ربا، اگر دو سیر گیہوں کہ بازار میں مثلاً دو آنے کو ملتا ہے کوئی شخص بعوض ایک روپیہ نقد بیچے تو بھی درست ہے ایسے ہی اگر نسیہ میں قیمت بڑھائے اور مشتری راضی ہوجائے تب بھی درست ہے''۱؎