Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۱۷(کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ )
128 - 180
اقول: اولاً یہ مولوی صاحب کا دوسرا پہلو ہے، خود بھی سمجھے کہ یہاں ربا کی گاڑی چلتی نظر نہیں آتی لہٰذا شبہہ کے ٹھیلے کی طرف جھکے مگر کیوں مفر نہیں اس کا ثبوت فی البطن۔ مولوی صاحب کو اولاً منقح کرنا تھا کہ شبہہ ربا کا مناط یہ ہے جہاں یہ پایا جائے شبہہ متحقق ہوگا۔ ثانیاً ادھر ادھر خواب جھانک لینا تھا کہ تصریحات ائمہ سے اس پر نقض تو نہیں پڑتا کہ تنقیح کا تنقیہ کردے۔ ظاہر ہے کہ نوٹ میں تحقق شبہہ منصوص نہیں کہ تقلیداً حکم مان لینا پڑے اگرچہ دلیل پر ہمارے فہم میں ہزار شبہے ہوں ہم حکم کے مقلد ہیں نہ کہ دلیل کے منقد۔ بہت دلائل علمائے متاخرین شکر اﷲ تعالی سعہیم نے اپنے فہم سے استنباط فرمائے ہیں ان میں کسی دلیل کا تزلزل حکم کا بطلان نہیں، ممکن کہ مجتہد کے پاس اور دلیل ہو اور یہاں تو آپ کو خود اثبات حکم کرناہے تو جب تک مناط کامل طور پر مضبوط اور تمام نقوض و شبہات سے منزہ نہ کرلیجئے نرازبانی قیاس محض و سواس۔ ثالثااس سب کے بعد یہ ثبوت دینا تھا کہ وہ مناط نوٹ میں متحقق، اس وقت آپ کا فرمانا قابل سماعت ہوتا اور خالی دعوی تو پادر ہوا

ثانیاً اپنی جلد سوم باب الربا کا فتوٰی یاد کیجئے کہ چھٹانک بھر گیہوں سواسیر گیہوں کے عوض بیچنا آپ نے جائز مانا، یونہی ایک سیب دو سیب کو، یہاں تو جنس یقینا متحد تھی اور زیادتی بداہۃً معلوم، یہاں شبہہ ربا کیوں نہ جانا، آپ کی عبارت یہ ہے :
سوال : بیع یک سیب عوض دو سیب یا بیع یک مشت گندم عوض دو مشت گندم جائز ست یا نہ ؟
سوال: ایک سیب کی بیع دو سیبوں کے بدلے میں یا ایک مٹھی گندم کی بیع دو مٹھی گندم کے بدلے میں جائز ہے یانہیں؟
جواب : جائز ست چہ معیار شرعی نصف صاع ست نہ کم ازاں پس درکم از نصف صاع تفاضل درست ست، درعالمگیریہ می آرد یجوز بیع الحفنۃبالحفنتین والتفاحۃ بالتفاحتین ومادون نصف الصاع فی حکم الحفنۃ ۱؎انتہی۔
جواب : جائز ہے کیونکہ معیا ر شرعی نصف صاع ہے نہ کہ اس سے کم، لہٰذا نصف صاع سے کم میں زیادتی جائز ہے، عالمگیری میں آتا ہے کہ مٹھی بھر کی بیع دو مٹھی بھر سے ایک سیب کی بیع دو سیبوں سے جائز ہے او رنصف صاع سے کم ایک مٹھی کے حکم میں ہے۔(ت)
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی         باب الربوٰ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۹۵)
ثالثاً  رسالہ صفحہ ۱۶۹، ۱۷۰ پر بحرالرائق کا ارشاد دیکھئے کہ ایک پیسہ سو پیسے کو بیچناجائز، یہاں بھی اتحاد جنس قطعی اور زیادت بدیہی، پھر شبہہ ربا کیوں نہ ہوا۔

رابعا  آپ کو اگر کاغذ اور چاندی کا دو جنس ہونا نہ معلوم ہو تو انہیں اہل عرف سے پوچھ دیکھئے جن پر آپ کے خیال کا سارا دار ومدار ہے کہ وہ جس طرح یوں کہتے ہیں کہ یہ اشرفی پندرہ کی ہے یہ بیس کی یہ پیسے اٹھنی کے ہیں یہ چوانی کے، یہ نہیں کہتے کہ یہ اشرفی پندرہ روپے ہے یہ پیسے اٹھنی چوانی ہیں اسی طرح یوں کہتے ہیں کہ یہ نوٹ دس کا ہے یہ سوکا، یہ نہیں کہتے کہ یہ نوٹ دس روپے ہے، خود آپ نے فرمایا ہے کہ ''نوٹ سو روپے کا کوئی ہلاک کردے''، اور فرمایا''سوروپے کا نوٹ جب بیچا جاتا ہے''، اور فرمایا''نوٹ سوروپے کا دیوے'' اتحاد جنس کا نشہ اس سے اتار کر، وہ مسائل یاد کیجئے جوائمہ کرام نے فرمائے کہ :

۱۔ ایک روپیہ ایک اشرفی بلکہ سو اشرفیوں کو بیچنا جائز۔ ص۱۶۳۔

۲۔ ایک پیسہ ایک روپیہ بلکہ ہزار روپیہ کو بیچنا جائز ص۱۷۷،۱۸۳،۱۸۴۔

۳۔ ایک اشرفی ایک پیسہ کو خریدنے میں نہ ربا ہے نہ شبہہ ربا۔ ص۱۸۳و۱۸۴۔

ان میں شبہہ ربا کیوں نہ ہوا۔

خامساً بتصریح ائمہ یہاں شبہہ علت مثل علت اور حکم علت لازم علت، تو یہاں علت ہو یا شبہہ علت، بہر حال لزوم حکم علت اور حکم علت تحریم تفاضل فی القدر ہے تو سو کا نوٹ جو آپ سو کو بیچنا جائز کررہے ہیں صراحۃً سود حلال کررہے ہیں۔

قولہ علاوہ ازیں جو بیع و شرائے نوٹ میں تفاضل اختیار کرے گا مقصود اس کو بجز اس کے کہ بعوض کم روپے کے زیادہ روپے حاصل ہوجائیں اور کچھ نہ ہوگا مگربطورحیلہ کے وہ نوٹ کامعاملہ کرے گا اور پر ظاہر ہے کہ ایسے ارتکاب حیلہ سے حکم حلت کا نہیں ہوسکتا۱؎۔
 (۱؎ مجموعہ فتاوٰی    کتاب البیوع    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۱/ ۹۸۔۳۹۷)
اقول: اولاً قصور معاف ع
مستی ازبادہ شبانہ ہنوز
 (جوانی کی مستی ابھی موجود ہے۔ت)
Flag Counter