جواب : فضل احدالمتجا نسین کیلاً یا وزناً بردیگرے درمعاوضہ مالیہ بلا عوض، دربحرالرائق آوردولیس المراد مطلق الفضل بالاجماع فان فتح الاسواق فی سائر بلاد المسلمین للاستفضال والاسترباح وانما المراد فضل مخصوص وھو فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال ای فضل احد المتجانس علی الاٰخر بالمعیار الشرعی ای الکیل و الوزن۱؎، انتہی۔
جواب : مالی معاوضہ میں دوہم جنس چیزوں سے ایک کی کیل یا وزن کے اعتبار سے دوسری پر بلا عوض زیادتی۔ بحرالرائق میں وارد ہے کہ مطلق زیادتی بالاجماع مرا دنہیں کیونکہ تمام مسلم ممالک میں بازاروں اور منڈیوں کا کھلنا زیادتی اور نفع کے حصول کےلئے ہوتا ہے بلکہ بیشک مخصوص زیادتی مراد ہے اور وہ مال کے عوض مال میں بلا عوض مالی اضافہ اور زیادتی ہے یعنی دوہم جنس چیزوں میں سے ایک کی دوسری پر زیادتی معیار شرعی یعنی کیل ووزن کے ساتھ، انتہی۔(ت)
(۱؎ مجموعہ فتاوٰی باب الربوٰ مطبع یوسفی لکھنؤ ۳/ ۹۴،۹۵)
دیکھئے کیسی کھلی تصریح ہے کہ ہر زیادت سو دنہیں، بازار کھلے ہی اس لئے ہیں کہ زیادت ملے نفع ہاتھ لگے بلکہ سود ہونے کو ضرور ہے کہ دو متحد الجنس چیزوں میں کہ دونوں وزنی یا دونوں کیلی ہوں کہ تول یا ناپ سے بکتی ہوں ایک دوسری سے خاص اسی ناپ یا وزن میں زائد ہو اس کے سوا کسی اور بات میں زیادتی کایہاں لحاظ نہیں، بیشک ہمارے علماء کے اجماع سے ربا کی یہی تعریف ہے شکر ہے کہ اس کے آپ مقر ہوئے اوروالکل باطل (اور سب باطل ہے۔ت) نہ فرما دیا مگر اس اقرار نے اس تقریر کو والکل باطل (اور سب باطل ہے ۔ت) بنادیا، نوٹ اور روپے سرے سے ایک جنس ہی نہیں، بچہ بھی جانے گا کہ چاندی اور کاغذ ایک جنس نہیں ہوسکتے، اور بفرض باطل مجانست سہی تو نوٹ تول کر نہیں بکتا، اور اگر تول بھی موجود ہو تو سو کا نوٹ سوکوبیچنا بھی قطعی سود ہو کہ سوروپے بلا شبہ تول میں نوٹ سے کہیں زائد ہیں اور آپ اسی کو واجب کررہے ہیں تو آپ نے سود نہ صرف حلال بلکہ واجب کردیا تو مفردہی ہے کہ نوٹ اور روپیہ ایک جنس نہیں یا تو ل نہیں یا دونوں نہیں بہرحال آپ ہی کے اقرار سے کھل گیا کہ چاہے دس کا نوٹ لاکھ روپے کو بیچیے یہاں ربا آہی نہیں سکتا کہ یہ اس کی تعریف ہی میں داخل نہیں، وھو المقصود ( اور وہی مقصود ہے۔ت)
قولہ اور اگر اسمیں ربا حقیقۃً نہ ہو تو شبہ ربا سے تو مفر نہیں اور تمام کتب فقہ میں مرقوم ہے شبہہ رباباعث حرمت ہے ۲؎۔
(۲؎مجموعہ فتاوٰی کتاب البیوع مطبع یوسفی لکھنؤ ۱/ ۳۹۷)