آخر نہ دیکھا ایک روپے کے پیسے بتعیین عرف ہمیشہ معین رہتے ہیں مگر علماء نے اٹھنی سے زیادہ کے عوض میں آٹھ آنے بیچنا روارکھا اور سب جانتے ہیں کہ ایک اشرفی کئی روپے کی ہوتی ہے لیکن فقہاء نے ایک روپے کے عوض ایک اشرفی خریدنا جائز ٹھہرایا تو وجہ کیا ہے وہی اختلاف جنس جس کے بعد تفاضل میں کچھ حرج نہیں رہتا، ( پھر ان مسائل کے ثبوت میں درمختار کی عبارتیں لکھ کر کہا''جب یہاں تک شرعاً جائزرہا تو سوروپے کا نوٹ ننانوے کے عوض خریدنے میں کیا حرج ہوسکتا ہے کہ یہاں نہ تو قدر متحد نہ جنس واحد الی اٰخرہ''۔ یہ ہے بحمد اﷲ تعالٰی وہ نفیس منیر تقریر کہ بنگاہ اولیں قلب فقیر پر فیض قدیر سے فائز ہوئی تمام رسالہ گویا اسی کی شرح اسی کے اجمال کی تفصیل ہے والحمدﷲ رب العالمین میرے بیان کا حاصل چند امر تھے:
(۱) نوٹ اور روپے ایک جنس نہیں۔
(۲) ان میں قدر مشترک نہیں۔
(۳) نوٹ کے ساتھ اہل عرف کا معاملہ اثمان برتنا اسے اصطلاحی کرے گا نہ کہ خلقی۔
(۴) روپیوں سے اندازہ قیمت نے اسے روپے نہ کردیا ہر اصطلاحی کا اندازہ خلقی ہی سے ہوتا ہے جیسے پیسے۔
(۵) اصطلاح کی پیروی عاقدین پر نہیں وہ اپنی تراضی سے جو چاہیں کم و بیش کریں۔
(۶) علماء نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے کو بیچنا جائز فرمایا۔
(۷) پیسوں میں اصطلاح عام کی مخالفت جائز فرمائی۔
(۸) خود ثمن خلقی روپے اشرفی میں مخالفت عرف عام کی اجازت دی کہ ایک روپیہ ایک اشرفی کو بیچیں۔
مولوی صاحب نے اولا یکم کے جواب کو وہی وہم سیکھا جسے لفظ گویا اڑاکر بالکل کھویا، مگر دوم سے کچھ تعرض نہ کیا یا شاید اپنے زعم میں عینیت عرفیہ فی الاحکام کہتے کہتے عینیت حقیقیہ فی الاجسام سمجھ لئے ہوں یعنی ہم نے کاغذ کو پیٹ پاٹ کر چاندی سونا کردیا پھر اتحاد قدر کیوں نہ ہوگا کہ شے اپنے نفس سے مختلف نہیں ہوسکتی۔
ثانیاً ادعائے عینیت پر وہی وہم والی ایک دلیل لائے کہ نوٹ عرفاً جمیع احکام میں عین ثمن خلقی سمجھا گیا اور آخر فتوے میں اتنا اور بڑھائیں گے کہ اور تمام مقاصد ثمن خلقی کے اس کے ساتھ متعلق ہوئے اسی کو میں نے ان صحیح و مختصر الفاظ سے تعبیر کیاکہ عموماً اس کے ساتھ معاملہ اثمان برتا جاتا ہے میں نے امر سوم میں جو اس کا رد کیا تھا کہ اس سے ثمن اصطلاحی ہو ا نہ خلقی اس کا جواب غائب۔
ثالثا اس پر دوسری دلیل بھی وہی وہم والی لائے جسے بیگھیوں میں پھیلایا اور بات اتنی ہی ہے جو میں نے لکھی کہ لین دین میں سو کانوٹ اور سو روپے میں تفاوت نہیں سمجھا جاتا اور میں نے امر چہارم میں جو اس کا رد کیا کہ عرف نے اسے ثمن بنایا اور اصطلاحی کا اندازہ خلقی ہی سے ہوگا لہٰذا اس نوٹ کا اندازہ سو سے کیا اور سو روپے کی جگہ کام آیا جیسے سولہ آنو ں کا اندازہ روپے سے کیا اور روپے کی جگہ کام آئے نہ یہ کہ نوٹ یا پیسے روپے کا عین ہوگئے اس کا جواب غائب۔
رابعا امر پنچم میں جو میں نے ایک عظیم قاہر رد کی طرف اشارہ کیا تھا جو سب کچھ مسلم ٹھہرکر لگی نہ رکھی جس کا بیان ابھی صفحہ ۱۳۴ میں گزرا اور جس پر نصوص جلیلہ کتب مذہب اور خود قرآن عظیم واحادیث نبی کریم علیہ و علٰی آلہٖ افضل الصلوٰۃ والتسلیم شاہد اس کا جواب غائب۔
خامسا تین امر باقی کہ میں نے اسی امر پنچم کے نظائر دکھائے تھے ان میں بھی امر پنچم یعنی روپے اشرفی کی کری مثال کا جواب غائب، اور ہفتم کے جواب کی خدمت گزاری سن چکے اور ششم کا جو مزہ دار جواب سب میں آخر میں دیا ہے اس کا لطف ان شاء اﷲ تعالٰی عنقریب اٹھائیے گا، غرض آٹھ باتوں میں پانچ کا جواب کچھ نہ دیا اور تین کا جواب وہ دیا کہ نہ دینا اس سے ہزار جگہ بہتر تھا۔
الحمد ﷲ اہل انصاف ملا حظہ فرمائیں گستاخی معاف وہ اجلہ اکابر فضلاء کہ ائمہ مجتہدین عظام رضی اﷲ تعالٰی عنہم کے اقوال کو پرکھنے کا ادعارکھیں کہ قال ابوحنیفۃ کذا والحق کذا(ابوحنیفہ نے یوں کہا اور حق یوں ہے)''استدلو ا لابی حنیفۃ بوجوہ والکل باطل (ابوحنیفہ کے لئے متعدد دلائل بیان کئے گئے اور سب باطل ہیں)''ھھنا وھم اٰخر لصاحب الکتاب''(یہاں اس کتاب والے (یعنی سیدنا امام محمد رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ) کاایک اور وہم ہے) ایسے گرانمایہ اجتہاد پایہ حضرات کسی مسئلہ میں ابوحنیفہ کے گدایان در کے غلامان غلام کے خاک پاکے زلہ رباؤں کے ادنٰی خوشہ چیں سے خلاف کریں تو اپنے لئے دلیل اسی سے سیکھ کر لکھیں اور وہ بھی جس رو ش پر اس نے ادا کی ادا نہ کرسکیں پھر اس نے جو اس کے جواب دیئے ان سے عہدہ بر آنہ ہوں، اس کے کلام کے مقاصد و فوائد تک نہ پہنچیں اکثر سے سکوت کریں اور بعض کا جواب محض ناصواب دیں، طولانی تقریر فرمائیں جس کا فقرہ فقرہ جملہ جملہ والکل باطل (اور سب باطل ہے۔ت) کے گہرے رنگ میں رنگا ہوا ایک ایک لفظ ایک حرف پرھٰھنا وھم آخر(یہاں ایک اور وہم ہے۔ت) کا ویرا پڑا ہو یہ امام الائمہ سراج الامہ کاشف الغمہ مالک الازمہ نائل العلم
من الثریا ابوحنیفہ اور ان کے چھوٹے بیٹے امام ربانی محرر المذہب محمد بن الحسن شیبانی رضی ا ﷲ تعالٰی عنہما کی کرامت نہیں توکیا ہے۔ حاشا میں اس سے مولوی صاحب کی کسر شان نہیں چاہتا، وہ ایک وسیع الباع طویل الذراع فاضل طباع ہیں او رفقیر حقیر ایک غریب طالب علم قاصر القدرۃ قلیل المقدار اپنے مولائے کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم کی بشارت عظیم فطو باللغرباء(غریبوں کے لئے خوشخبری ہے۔ت) کا بلا استحقاق محض ان کے فضل سے امید وار، بلکہ مقصود اپنے ائمہ کرامت عالیہ کا اظہار ہے وبس، الٰہی ! تیری بے شمار رضائیں ابوحنیفہ پر اور ان سب پر جو عقائد میں ان کے موافق ہو کر اعمال میں ان کے مقلد ہیں، یونہی بقیہ ائمہ مجتہدین کرام اور ان کے ایسے ہی مقلدوں پر تار وز قیام وعلٰی حبیبنا وشفیعنا افضل الصلٰوۃ والسلام (ہمارے حبیب اور شفاعت فرمانے والے پر بہترین درود سلام ہو۔ت)
تنبیہ : اتنا ملحوظ رہے کہ میدان بحمد اﷲ تعالٰی ہمارے ہاتھ ہے مقاصد بحث پر ہمارے سب اعتراض حق ولا جواب ہیں اور بعض کے بیان مولوی صاحب پر ہیں اگر اہل تاویل تبدیل وتحویل کریں تو بعد ورود اعتراض تسلیم اعتراض ہے، کاش مولوی صاحب اس شبہہ کا بیان ہم سے کرالیتے تو بہت بادی چھنٹ جاتی اور ہمارے قلم کو بھی آرام ملتا کہ رد میں ایک مختصر ساکلام ہوتااور کوئی آپ کو یہ بھی نہ کہتا کہ کہا اور کہہ نہ جانا مگر مولوی صاحب کی عنایات نے وسعت دکھائی کہ یہاں تک نوبت آئی بہر حال ہمیں ہر طرح نفع ہے وﷲالحمد۔
تسجیل جلیل: چلتے وقت سب سے بھاری خود اپنی دھوم دھامی گواہی لیتے جائیے کہ نوٹ اور روپوں میں ربا ممکن ہی نہیں آپ کے فتاوٰی کی تیسری جلد جس کے سوالات خود آپ نے پیدا کرکے انکے جواب لکھے اور ان میں دو جلدیں پیشین کے اغلاط کی جا بجا اصلاح کی، جیساکہ ناظرین پر مخفی نہیں اسی کے باب الربا کا پہلا سوال وجواب دیکھئے جس میں آپ نے ربا کی تعریف لکھی اور دل ہی دل میں انصاف کرلیجئے کہ یہ تعریف مسئلہ نوٹ میں کیونکر صادق آسکتی ہے، آپ فرماتے ہیں :